22 جولائی 2011 - 19:30

ايران کے وزير خارجہ نے کہا ہے کہ تہران صہیوني ریاست کے سوا تمام ممالک سے اپنے تعلقات کو فروغ دينے کا عزم رکھتا ہے۔

ابنا: وزير خارجہ علي اکبر صالحي نے مختلف ممالک سے ايران کے تعلقات پر روشني ڈالتے ہوئے کہا کہ ايران ناجائز صہیوني ریاست  کے علاوہ تمام ممالک سے اپنے تعلقات کو وسعت دينا چاہتا ہے۔انہوں نے برطانيہ اور ايران کے تعلقات کے سلسلے ميں برطانوي حکومت کو مشورہ ديا کہ ايران کے تعلق سے اپنے روئے پر نظر ثاني کرے۔ علي اکبر صالحي نے کہا کہ برطانوي حکومت مشرق وسطي ميں ايران کي اہم پوزيشن سے بخوبي آگاہ ہے اسے چاہئے کہ ايران سے اپنے تعلقات کي بحالي کے لئے اپنے روئے پر نظر ثاني کرےـ وزير خارجہ صالحي نے کہا کہ برطانيہ ميں گرفتار ايراني سفارت کار نصرت اللہ تاجيک کي رہائي تہران کے ساتھ روئے پر نظر ثاني کے سلسلے ميں برطانيہ کي جانب سے اچھي علامت ہو سکتي ہے۔وزير خارجہ علي اکبر صالحي نے تہران اور رياض کے درميان پيدا ہونے والي غلط فہمي کو علاقے کے تغيرات کا نتيجہ قرار ديا اور کہا کہ يہ غلط فہمي دور کي جا سکتي ہے۔وزير خارجہ نے بحرين کے سلسلے ميں کہا کہ تہران بحرين کے قومي اقتدار اعلي اور ارضي سالميت کا احترام کرتا ہے اور اس ملک ميں امن و ثبات ديکھنے کا خواہشمند ہے۔علي اکبر صالحي نے کہا کہ ديگر بہت سے ممالک کي مانند بحرين ميں بھي عوام کچھ مطالبات کر رہے ہيں اور يہ مسئلہ اس ملک کے عوام اور حکومت کي باہمي کوششوں سے حل ہونا چاہئے۔وزير خارجہ صالحي نے ايران مصر تعلقات کے سلسلے ميں کہا کہ مصر دنيائے عرب اور عالم اسلام کا اہم ترين ملک ہےـ انہوں نے کہا کہ مصر علاقے ميں امن و استحکام ميں بہت موثر رول رکھتا ہے۔چنانچہ ايران اور مصر کے قريبي تعلقات سے علاقے کے امن و استحکم ميں مدد مل سکتي ہے۔............./169