18 جولائی 2011 - 19:30

فلسطین کے منتخب وزیر اعظم اسماعیل ہنیہ نے چھ عشروں پر محیط اقوام متحدہ کی کارکردگی پر جو شدید الفاظ میں تنقید کی ہے اسے فلسطینی ، علاقائی اور عالمی ذرائع ابلاغ میں وسیع کوریج دی جارہی ہے ۔

ابنا: اسماعیل ہنیہ نے ستمبر کے مہینےاور اقوام متحدہ کی جنرل اسملبی کے اجلاس کا وقت نزیک آنے کے پیش نظر اقوام متحدہ پر شدید تنقید کرتے ہوۓ فلسطین سے متعلق اس عالمی ادارے کے موقف کو ذلت آمیز اور فلسطینی عوام کے حقوق کے حصول کے سلسلے میں اس ادارے کے لیت و لعل سے کام لینے کو خطے میں صیہونی حکومت کے ظالمانہ اقدامات کا اصل سبب قرار دیا ہے ۔ اسماعیل ہنیہ نے اقوام متحدہ کی قراردادوں کو بے سود قرار دیا اور کہا کہ آرکائیو میں پڑی ہوئي ان قراردادوں کے ذریعے فلسطینی عوام کے مسائل کا حل کیا جانا ناممکن ہے ۔اور یہ قراردادیں نمائشی اور صرف دکھانے کے لۓ ہیں۔ یہ ایسی حالت میں ہےکہ جب اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے سالانہ اجلاس میں صرف دو ماہ کا وقت رہ گیا ہے۔ اب تک اس اسبملی کے ایک سو چھیانوے رکن ممالک میں سے ایک سو بیس ممالک نے آزاد فلسطینی ریاست کی تشکیل اور اسے اقوام متحدہ کی رکنیت دیۓ جانے سے اتفاق کر لیا ہے۔ اگرچہ یہ ایک علامتی اور مقبوضہ فلسطین کی تاریخ میں ایک موثر اقدام ہے لیکن ترسٹھ برسوں سے قبضے کی شکار ملت فلسطین کے لۓ عملدرآمد کی ضمانت سے خالی اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کا یہ اقدام صرف ابتدائي قدم ہے خاص کر اس بات کے پیش نظر کہ آزاد فلسطینی ریاست کی تشکیل کا معاملہ اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل میں پیش کۓ جانے کی صورت میں امریکہ اسے ویٹو کردے گا اور یہ اقدام نتیجہ خیز ثابت نہیں ہوگا۔اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی نے انیس سو سینتالیس میں ایک غیر منصفانہ اقدام کرتے ہوۓ قرار داد نمبر ایک سو اکیاسی پاس کی اور فلسطین کو دو حصوں اسرائیل اور فلسطین میں تقسیم کۓ جانے کے حق میں فیصلہ دیا تھا۔وہ بھی ایسی حالت میں کہ جب صیہونیزم اور امریکہ کی ملی بھگت کی وجہ سے غاصب صیہونی حکومت نے سنہ انیس سو اڑتالیس میں اپنی موجودگي کا اعلان کردیا تھا اور ان کی ملی بھگت فلسطینی سرزمین میں فلسطینی ریاست کی تشکیل کے سدراہ ثابت ہوئي۔ اسی واضح ظلم کے پیش نظر اسماعیل ہنیہ نے دنیا والوں سے مخاطب ہوکر کہا ہے کہ فلسطین کی المناک تقسیم کے مقابلے میں اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی میں آزاد فلسطینی ریاست کا تسلیم کیا جانا کوئي ایسی بڑی بات نہیں ہے جس پر اسے فخر کرنے یا مظلوم فلسطینی عوام پر احسان جتانے کا حق حاصل ہوجاتا ہو ۔اب اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی تقسیم فلسطین پر مبنی قرارداد کی منظوری کی اپنی واضح اور سنگین غلطی کا ازالہ فلسطینی ریاست کو صرف ظاہری طور پر تسلیم کرنے کی صورت میں کرنے پر قادر ہے۔.............../169