13 جولائی 2011 - 19:30

امام حسین علیہ السلام کو نانا رسول اللہ (ص) کی یاد ستاتی رہتی تھی چنانچہ اللہ سے التجا کی "یا اللہ! مجھے ایسا فرزند عطا فرما جس کا چہرہ، عادات و اطوار اور چلنے پھرنے نیز بولنے کا انداز رسول اللہ (ص) کی مانند ہو۔

اللہ تعالی نے فرزند رسول کی دعا قبول کرلی اور آپ (ع) کو علی اکبر (ع) عطا فرمایا جو سیدالشہداء (ع) کے قول کے مطابق: اشبہ الناس خَلقاً خُلقاً و منطقاً برسول اللہ تھے یعنی ظاہری شباہت تھی، اخلاق و اطوار کی شباہت بھی تھی اور لب و لہجہ بھی رسول اللہ (ص) کی مانند تھا۔ لگتا ہے اللہ تعالی نے امت پر حجت تمام کی تھی اور روز عاشورا علی اکبر (ع) کو دکھا دکھا کر اشقیائے بنو امیہ کو باربار جتایا کہ یہ خاندان خاندان رسالت ہے اور حسین کے یہ فرزند رسول اللہ (ص) کی تصویر تمام قد ہیں لیکن ہم سب نے دیکھا کہ مکتب اسلام کے دشمنوں کا کینہ اتنا شدید تھا کہ انھوں نے بڑی آسانی سے راکب دوش رسول (ص) امام حسین (ع) اور ان کے شبیہ پیمبر (ص) بیٹے علی اکبر (ع) اور شیرخوار بیٹے محسن کربلا حضرت علی اصغر (ع) نیز تمام افراد خاندان و اصحاب و انصار کو تہہ تیغ کیا اور جب حرم رسول اللہ (ص) شام پہنچا تو یزید نے امام حسین (ع) کی سر سے مخاطب ہوکر دل کی بات کہہ دی اور بنو امیہ کی نیت علی الاعلان بیان کردی صرف بنوامیہ والی عینک اتارنے کی ضرورت ہے حقیقت سمجھنے کے لئے۔ یزید نے کہا:

ليت اشياخي ببدر شہدوا جزع الخزرج من وقع الاسلکاش میرے بدر میں مارے جانے والے بزرگ زندہ ہوتے اور دیکھ لیتےخزرج کی فریاد کو نیزے کی تکلیف سےفاہلّوا و استہلّوا فرحاثمّ قالوا يا يزيد لاتشلکاش وہ زندہ ہوتے اور اٹھتے اور ناچتے اور پھر کہتے اے یزید تیرے ہاتھ کبھی شل نہ ہوںقد قتلنا القوم من ساداتہموعدلناہ ببدر فاعتدلہم نے اس قوم کے سادات اور بزرگوں کو قتل کردیااور بدر میں اپنے مارے جانے والے بزرگوں کا بدلہ لے لیالعبت ہاشم بالملک فلاخبر جاء و لا وحي نزلبنو ہاشم سلطنت سے کہیلتے رہے ہیں ورنہ نہ تو قرآن نازل ہوا ہے اور نہ ہی وحی نازل ہوئیلست من خندف ان لم انتقم من بني احمد ما کان فعلمیں خاندان خندف سے نہیں ہونگا اگر میں نے بدلہ نہ لیا

احمد مرسل کے فرزندوں سے ان اعمال کا جو وہ انجام دیتے رہے ہیں

۔۔۔۔۔

زندگي نامہ علي اكبر (ع)

حضرت علي اكبر (ع) ابا عبداللہ الحسین علیہ السلام کے فرزند ایک روایت کے مطابق 11 شعبان سنہ 33 ہجری کو مدینہ منورہ میں پیدا ہوئے۔ دوسری روایت میں ان کی ولادت کی تاریخ 11 شعبان المعظم سنہ 43 بجری بتا‏ئی گئی ہے۔والد ریحانة الرسول (ص) امام حسین بن علی بن ابیطالب بن عبدالمطلب بن ہاشم اور والدہ لیلی بنت ابی مرہ بن عروہ بن مسعود ثقفی ہیں۔ بنوہاشم کے قابل احترام خاندان سے تعلق رکھتے ہیں، رسول اللہ اور امیرالمؤمنین اور حضرت فاطمہ بنت رسول اللہ (ص) سے نسبت رکھتے ہیں، نانا سید المرسلین، دادا امام والد امام چچا امام بھائی امام اور بھتیجا امام.روایت ہے کہ حضرت علی اکبر(ع) ایک روز اپنے والد گرامی حضرت حسین بن علی (ع) کا پیغام پہنچانے مدینہ کے اموی گورنر کے پاس گئے۔والی نے پوچھا: آپ کا نام کیا ہے؟فرمایا: علیپوچھا: آپ کے بھائی کا نام کیا ہے؟فرمایا: علیعلی کا دشمن اور علی کے نام کا دشمن گورنر غضبناک ہوا اور کہا: علی علی علی، ما یرید ابوک آپ کے والد چاہتے کیا ہیں کہ اپنے تمام بیٹوں پر علی کا نام رکھتے ہیں؟علی اکبر (ع) والد کی خدمت میں حاضر ہوئے اور ماجرا کہہ سنایا تو اباعبداللہ الحسین (ع) نے فرمایا: خدا کی قسم اگر اللہ تعالی مجھے دسیوں بیٹے بھی عطا فرمائے سب کے نام علی رکھوں گا اور اگر دسیوں بیٹیاں عطا فرمائے تو سب کے نام فاطمہ رکھوں گا۔ علی اکبر (ع) خوش چہرہ، خوبصورت، خوش زبان اور نہایت دلیر نوجوان تھے اور سیرت و خُلق اور صباحت رخسار کے لحاظ سے رسول اللہ (ص) کے شبیہ تمام قد تھے۔ شجاعت اور پہلوان افگنی میں اپنے جد امیرالمؤمنین (ع) کا آئینہ تھے اور کمالات و محاسن و محامد کا مجموعہ تھے۔ شیخ جعفر شوشتری کتاب "خطائص الحسینیہ" میں لکہتی ہین: اباعبداللہ الحسین (ع) جب علی اکبر کو لشکر اعداء کی طرف روانہ کررہے تھے تو فرمایا: « يا قوم، ہولاءِ  قد برز عليہم غلام، اَشبہ الناس خَلقاً و خُلقاً و منطقاً برسول اللہ (ص)۔ میں ایسا نوجوان میدان جنگ اور موت کے منہ میں بھیج رہاہوں جو چہرے، اخلاق اور منطق اور طرز کلام کے لحاظ سے تمام لوگوں سے زیادہ تیرے رسول سے مشابہت رکھتا ہے۔خاندان بنوہاشم کو جب رسول اللہ (ص) کی یاد ستاتے تو علی اکبر (ص) کا دیدار کیا کرتے تھے۔ابوالفرج اصفہانی مقاتل الطالبیین میں لکھتے ہیں: علی اکبر (ع) تیسرے خلیفہ کے دور میں پیدا ہوئے ان کا یہ قول اس روایت پر مبنی ہے کہ علی اکبر (ع) کربلا میں پچیس سالہ نوجوان تھے۔ اور ایک روایت یہ بھی ہے کہ آپ (ع) کی عمر اٹھائیس برس تھی۔ مدینہ اور کوفہ میں اپنے والد امام حسین (ع) اور دادا امیرالمؤمنین (ع) نیز پھوپھی سیدہ زینب (ع) کی آغوش میں پروان چڑھے۔امام حسین علیہ السلام نے قرآن و اسلامی معارف و تعلیمات سمیت اپنے فرزند کو اس روز کے علوم و فنون اور عالم اسلام کے سیاسی مسائل و معلومات کی تعلیم دی تھی اور انہیں ایک انسان کامل بنارکھا تھا یہاں تک کہ دشمنوں نے بھی ان کی عظمت کا اعتراف کیا ہے اور حتی اسی ابوالفرج اصفہانی نے ہی انہیں خلافت مسلمین کا سب سے زیادہ حقدار قرار دیا ہے جبکہ علی اکبر اس وقت بالکل نوجوان تھے گو کہ معاویہ نے امام علی علیہ السلام کے خلاف بغاوت کی تھی امام حسن (ع) کو شہید کردیا تھا اور امام حسین (ع) اس کو نظر ہی نہیں آرہے تھے۔بہرصورت علی اکبر (ع) کربلا میں انقلاب عاشورا میں فعال کردار ادا کیا اور دین کے دشمنوں کے دانت کھٹے کردیئے۔ شیخ جعفر شوشتری خصائص الحسینیہ میں لکھتے ہیں: امام حسین (ع) اپنی خاندان اور انصار و اعوان کے ہمراہ کربلا کی طرف جارہے تھے تو راستے میں آپ (ع) پر نیند کی سی کیفیت طاری ہوئی اور حالت مکاشفہ حاصل ہوئی۔ جب اس کیفیت سے نکلے تو یہ آیت تلاوت فرمائی: انا للہ و انا الیہ راجعون. علی اکبر (ع) دامن امامت میں تربیت پاچکے تھے اور انہیں یہ بھی معلوم تھا کہ امام وقت کا کوئی کلام بے مقصد نہیں ہوتا چنانچہ انھوں نے والد بزرگوار سے دریافت کیا: اس آیت کی تلاوت کا سبب کیا تھا؟امام (ع) نے فرمایا: اسی وقت میں دیکھا کہ یہ قافلہ آگے آگے جارہا ہے اور موت اس کے پیچھے پیچھے آرہی ہے۔ یا یہ کہ یہ قافلہ اپنی قتلگاہ کی طرف بڑھ رہا ہے۔ علی اکبر (ع) نے عرض کیا: پدر جان! کیا ہم حق پر نہیں ہیں؟امام (ع) نے فرمایا: اس خدا کی قسم جس کی طرف ہم سب لوٹنے والے ہیں ہم حق پر ہیں۔علی اکبر (ع) نے کہا: پس جب ہم برحق ہیں تو ہمیں موت کی کوئی پروا نہیں ہے۔ امام اپنے فرزند دلبند کے اس رد عمل سے بہت خوش ہوئے اورفرمایا: خداوند متعال تمہیں جزائے خیر عطا فرمائے اتنی ہی بڑی جزا جو ایک بیٹا اپنے باپ سے لیتا ہے۔ علی اکبر (ع) تین اہم عرب اقوام سے نسبت رکھتے تھے لیکن کربلا میں ہم دیکھتے ہیں کہ یزیدی اشقیاء کے مد مقابل صرف بنی ہاشم سے اپنی نسبت پر فخر کرتے ہیں اور رجز پڑھتے ہوئے فرماتے ہیں:

أنا عَلي بن الحسين بن عَلي نحن و بيت اللہ آولي يا لنبيّ

میں علی ہوں حسین بن علی کا بیٹا ہم اور بیت اللہ نبی (ع) کی برکت سے اولی و برتر ہیںأضربكَم با لسّيف حتّي يَنثني ضَربَ غُلامٍ ہاشميّ عَلَويّتم پر ضربت مارتا ہوں حتی کہ تلوار ٹوٹ جائے ضربت ایک ہاشمی اور علوی نوجوان کیوَ لا يَزالُ الْيَومَ اَحْمي عَن أبي تَاللہ لا يَحكُمُ فينا ابنُ الدّعياورمیں آج مسلسل اپنے والد کی حمایت کرتا ہوںاللہ کی قسم کہ بدکارہ عورت کی اولاد ہمارے درمیان حکم نہیں کرسکتی

حضرت علی اکبر بنو ہاشم کے پہلے شہید ہیں اور ہم ان کی زیارت میں بھی پڑھتے ہیں: السَّلامُ عليكَ يا اوّل قتيل مِن نَسل خَيْر سليل. سلام ہو آپ پر اے بہترین خاندان کے سب سے پہلے شہید۔علی اکبر نے دو حملوں میں 200 یزیدیوں کو واصل جہنم کیا اور آخر کر یزیدی لشکر کے شقی مرہ بن منقذ عبدی نے ان کی مبارک پیشانی پر وار کیا جس سے شبیہ رسول (ص) شدید زخمی ہوئے اور تب ہی بزدل یزیدی لشکریوں کو جرأت ملی اور زخمی ہاشمی نوجوان کے گرد گھیرا ڈالا اور ہر کوئی دستیاب ہتھیاروں سے شبیہ رسول اللہ (ص) کے جسم مطہر پر وار کرنے لگا۔ پیکر اکبر (ع) پر بے شمار وار پڑے اور بقول راوی «فقطعوہ اربا اربا» ظالموں نے ان کے جسم کے ٹکڑے ٹکڑے کردئے۔ شہادت سے قبل اکبر (ع) کی صدائے وداع خیموں میں یوں سنی گئی: «يا ابتاہ عليك مني السلام ــ بابا جان، خدا حافظ میرا آخری سلام قبول کرنا یہ ہیں میرے جد رسول اللہ (ص) جو میرے سرہانے بیٹھے ہیں اور پانی کا بھرا جام مجھے پلارہے ہیں»۔۔۔ امام (ع) سرعت کے ساتھ اپنے نوجوان بیٹے کے پاس پہنچے۔ آپ نے چہرہ بیٹے کے چہرے پر رکھا اور فرمایا: "علی الدنيا بعدك العفا ــ اف و افسوس ہے دنیا پر تیرے جانے کے بعد میرے دلبند!!"...امام سجاد علی علیہ السلام فرماتی ہیں کہ میرے ایک بھائی تھے جن کا نام علی اکبر تھا اور لوگوں نے انہیں قتل کردیا۔ جس سے معلوم ہوتا ہے کہ علی اکبر (ع) امام سجاد سے عمر کے لحاظ سے بڑے تھے۔ علی اکبر (ص) کربلائے معلی میں اپنے والد بزرگوار سیدالشہداء (ع) کے قدموں کی جانب مدفون ہیں اور زیارت عاشورا میں "علی بن الحسین" سے مراد علی اکبر (ع) ہی ہیں۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

/110

- حضرت علی اکبر علیہ السلام کی ولادت با سعادت مبارک

- یہ نوجوان اسماعیل ہےحسین (ع) کا

- آٹھویں مجلس - حضرت علي اكبر(ع) کے مصائب