11 جولائی 2011 - 19:30

ایرانی وزارت خارجہ نے ایک بیان میں کہا ہے کہ بوسنیا کے شہر سربرنیتشا میں آٹھ ہزار سے زائد مسلمانوں کا قتل عام ایک ایسا سانحہ تھا کہ جس نے انسانیت کے ضمیر اور دنیا کے تمام آزاد فکر انسانوں کے دلوں کو رنجیدہ کر دیا۔

ابنا: ایرانی وزارت خارجہ نے سربرنیتشا کے مسلمانوں کی نسل کشی کے دن ایک بیان جاری کیا ہے جس میں کہا گیا ہے کہ یقینا ایران کی مسلمان اور آزاد قوم کے لیے کہ جو ان سخت برسوں میں بےپناہ مشکلات اور مصائب کے باوجود بوسنیا ہرزگووینا کے مسلمانوں کے ساتھ تھی،سربرنیتشا میں مسلمانوں کی نسل کشی سے چشم پوشی اور دہری پالیسی قابل برداشت نہیں تھی اور نہ ہے۔

بیان میں مزید کہا گيا ہے کہ ایران ماضی کی مانند سربرنیتشا میں قتل ہونے والوں کے اہل خانہ کے ساتھ ہمدردی کا اظہار کرتا ہے اور بعض بین الاقوامی اداروں اور مغربی ممالک کے اس وقت کے حکام کی خاموشی اور مجرمانہ کردار کی مذمت کرتا ہے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ /169