25 جون 2011 - 19:30

امریکی سینیٹر نے یہ تسلیم کیا کہ دہشت گردی کے خلاف جنگ میں پاکستان نے بڑی قربانیاں دی، تاہم لکھا ہے کہ پاکستان کو ان دہشت گرد اور عسکریت پسند گروپوں کے خلاف کارروائی کرنی ہو گی، تاکہ ممبئی حملے کی طرز کے کسی اور حملے سے پاکستان اور بھارت کے تعلقات خراب نہ ہوں۔ کیری نے لکھا کہ افغان مسئلے کا سیاسی حل تلاش کرنا ہو گا۔

ابنا: امریکی سینٹ کی خارجہ تعلقات کمیٹی کے چیئرمین سینیٹر جان کیری نے افغانستان سے فوجی انخلاء کے صدر اوباما کے فیصلے کی حمایت کرتے ہوئے کہا ہے کہ پاکستان خطے میں حقیقی خطرہ ہے۔ وقت آگیا ہے کہ اب اس حقیقی خطرے پر توجہ دی جائے۔ فارن پالیسی میگزین میں اپنے مضمون میں جان کیری نے لکھا ہے کہ ہم اسامہ بن لادن کو انصاف کے کٹہرے میں لائے۔ افغانستان میں القاعدہ کو شکست دی۔ وقت آ گیا ہے کہ افغانستان سے فوجیوں کی تعداد میں کمی کی جائے اور ملک کا مستقبل اور اس کی سکیورٹی ذمہ داریاں افغانیوں کو سونپی جائیں۔ یہ وقت ہے کہ خطے میں حقیقی خطرے پر فوکس کیا جائے اور ان خطرات سے نمٹا جائے جو پاکستان سے جنم لے رہے ہیں۔ ابھی بہت سا کام کیا جانا باقی ہے۔

 افغانستان سے فوجی انخلاء کو کامیابی کی طرف نئے راستے کی شروعات کے طور پر دیکھا جانا چاہیے۔ وہاں آنے والے دنوں میں امریکہ، افغانستان اور عالمی برادری نے جو اقدامات کئے وہ واضح ہیں سب سے پہلے ہمیں اعتراف کرنا ہے کہ ہمیں ایک ہی وقت میں دو الگ لیکن آپس میں جڑی جنگوں کا سامنا ہے، ایک جنوبی افغانستان میں ملا عمر کے طالبان کیخلاف ہے، یہ گروپ القاعدہ کو محفوظ ٹھکانے فراہم کرتا ہے اور ہمیں یہ یقینی بنانا ہو گا کہ وہ دوبارہ ایسا کبھی نہ کریں۔ صدر اوباما کے اقتدار سنبھالنے کے بعد افغانستان میں فوج بھیجنے سے ہمیں طالبان کیخلاف بھرپور کارروائیوں میں مدد ملی۔ ہم نے طالبان کو کمزور کیا اور اب وہ مذاکرات پر غور کر رہے ہیں۔ ہماری مفاہمتی کوششوں کا فوکس زیادہ یہی گروپ ہے۔ ہماری دوسری جنگ ان سرگرمیوں کیخلاف ہے جو مفاہمت نہیں چاہتے۔ ان میں حقانی نیٹ ورک اور اس کے دیگر اتحادی گروپ شامل ہیں۔

امریکی سینیٹر جان کیری نے افغانستان سے انخلاء کو درست قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ اب توجہ پاکستان میں درپیش حقیقی خطرے پر مرکوز کی جائے۔ امریکی جریدے فارن پالیسی میں شائع مضمون میں امریکی سینیٹ کی خارجہ کمیٹی کے سربراہ جان کیری نے لکھا کہ امریکا کو اب دو محاذوں پر جنگ لڑنی ہو گی۔ ایک جنوبی افغانستان میں ملا عمر اور دوسری حقانی نیٹ ورک سے۔ جان کیری نے الزام عائد کیا کہ پاکستان میں دہشت گرد گروپوں کو ریاستی عناصر کی پشت پناہی حاصل رہی ہے اور پاکستان نے ان گروپوں کو بھارت کے خلاف پراکسی وار میں بھی استعمال کیا۔ انہوں نے کہا کہ اسامہ بن لادن کو انصاف کے کٹہرے تک پہنچانے اور افغانستان میں القاعدہ کو شکست دینے کے باوجود اب بہت کچھ کرنا باقی ہے۔ جان کیری نے یہ تسلیم کیا کہ دہشت گردی کے خلاف جنگ میں پاکستان نے بڑی قربانیاں دی، تاہم پاکستان کو ان دہشت گرد اور عسکریت پسند گروپوں کے خلاف کارروائی کرنی ہو گی، تاکہ ممبئی حملے کی طرز کے کسی اور حملے سے پاکستان اور بھارت کے تعلقات خراب نہ ہوں۔ کیری نے لکھا کہ افغان مسئلے کا سیاسی حل تلاش کرنا ہو گا۔

 ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

/169

اہم: اس پٹیشن کو منطقی انجام تک پہنچانے کے لئے 10 لاکھ ووٹوں کی ضرورت ہے مگر کیا کیا جائے کہ ابھی تک چالیس ہزار افراد نے بھی ووٹ نہیں دیا۔ فارورڈ کریں امام زمانہ (عج) کے صدقے۔ پلیز 

   بحرین میں مظالم روکنے کےلئےCLICK صرف دس لاکھ ووٹوں کی ضرورت