24 جون 2011 - 19:30

رہبر معظم انقلاب اسلامی حضرت آیت اللہ العظمی خامنہ ای نے آج ظہر سے قبل افغانستان کے صدر حامد کرزائی اور ان کے ہمراہ وفد سے ملاقات میں فرمایا: امریکی فوجیوں کی موجودگي کی وجہ سے افغانستان میں امن قائم نہیں ہوپائے گا۔

ابنا: رہبر معظم انقلاب اسلامی حضرت آیت اللہ العظمی خامنہ ای نے آج ظہر سے قبل افغانستان کے صدر حامد کرزائی اور ان کے ہمراہ وفد سے ملاقات میں افغانستان سے غیر ملکی افواج کے انخلاء ، افغنستان کے عوام کی حاکمیت اور استقلال کو اسلامی جمہوریہ ایران کی دیرینہ آروز قراردیتے ہوئے فرمایا: افغانستان کے عوام اپنے تاریخی، ثقافتی ، دینی اور جہادی کارنامہ کے پیش نظر اپنے ملک کی باگ ڈور اپنے ہاتھ میں لینے کی بھر پورصلاحیت اور لیاقت رکھتے ہیں  اور افغانستان سے غیر ملکی افواج کا انخلاءجتنا جلدی ممکن ہو اتنا ہی افغانستان کے عوام اور علاقہ کے لئے بہتر اور مفید ثابت ہوگا۔رہبر معظم انقلاب اسلامی نے غیر ملکی اور تسلط پسند طاقتوں کے مقابلے میں افغان عوام کے جہادی عزم اور جذبے کی جانب اشارہ کرتے ہوئے فرمایا: سابق سویت یونین  دو بڑی طاقتوں میں سے ایک  بڑی طاقت تھی اور اس کے مقابلے میں افغانستان کے عوام کی استقامت و پائداری تاریخ میں بے مثال اور بے نظیر ہے۔

رہبر معظم انقلاب اسلامی حضرت آیت اللہ العظمی خامنہ ای نےفرمایا: افغانستان کے عوام اپنے ملک میں امریکی فوجیوں کی موجودگی کی وجہ سے سخت مشکلات اور مصیبت کا شکار ہیں کیونکہ امریکی فوجیوں کی موجودگی افغان عوام اور علاقہ کے لئے بہت بڑی نحوست اور بدبختی ہے۔

رہبر معظم انقلاب اسلامی نے امریکہ کو اندرونی اور بین الاقوامی شرائط کے پیش نظر گذشتہ برسوں کی نسبت بہت ہی کمزور اور ناتواں ملک قراردیتے ہوئے فرمایا:  امریکہ علاقائی اور عالمی سطح پر ماضی کی نسبت بہت ضعیف اور کمزور ہوچکا ہے اور امریکی حکام علاقہ میں اپنی کمزوری اور ضعف کو دور کرنے کی تلاش و کوشش کررہےہیں  لیکن وہ کسی خاطر خواہ نتیجہ تک نہیں پہنچ پائیں گے۔

رہبر معظم انقلاب اسلامی نے افغانستان کے صدر کی گفتگو میں افغانستان سے امریکی فوج کے انخلاء کے بارے میں امریکی صدر کے وعدے کی جانب اشارے کرتے ہوئے فرمایا: امریکی صدر کا بیان زیادہ تر امریکہ کے اندرونی حالات و مقاصد کے لئے مفیدہے اور امریکی صدر کا بیان حتی اندرونی سطح پر بھی اختلاف کا شکار ہوگیا ہے۔

رہبر معظم انقلاب اسلامی نے فرمایا: امریکی حکام افغانستان میں مستقل فوجی اڈے قائم کرنے کی تلاش میں ہیں اور امریکہ کی یہ حرکت بڑی خطرناک حرکت ہے کیونکہ جب تک امریکی فوجی افغانستان میں موجود رہیں گے اس وقت تک افغانستان میں امن و سلامتی قائم نہیں ہوسکے گي۔

رہبر معظم انقلاب اسلامینے تاکید کرتے ہوئے فرمایا: اسلامی جمہوریہ ایران افغانستان کی تعمیر و ترقی اور پیشرفت کے لئے ہر قسم کا تعاون اور امداد فراہم کرنے کے لئے آمادہ ہے اور افغانستان کے باصلاحیت جوان اپنے ملک کو تعمیر اور آباد کرنے کی توانائی اور صلاحیت رکھتے ہیں اور اسلامی جمہوریہ ایران بھی اپنے تجربات اور ٹیکنالوجی انھیں فراہم کرنے کے لئے تیار ہے۔

اس ملاقات میں افغانستان کے صدر حامد کرزائی نے بھی اسلامی جمہوریہ ایران کی جانب سے افغانستان کے عوام کی بے لوث مدد اور تعاون پر شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا: افغانستان کے تباہ شدہ تعمیری ڈھانچے کو دوبارہ تعمیر کرنے کے لئے افغانستان کو علم و ٹیکنالوجی کے سلسلے میں ایران کے تجربہ اور دانش کی اشد ضرورت ہے۔

افغانستان کے صدر نے افغانستان سے امریکی فوجیوں کے انخلاء  کے بارے میں امریکی صدر کے وعدے کی جانب اشارہ کرتے ہوئے کہا: امید ہے کہ آئندہ تین برسوں تک دیگرتمام ممالک کی افواج بھی افغانستان سے نکل جائیں گی اور افغانستان کے تمام امور افغانستان کے عوام اور جوانوں کے سپرد کردیئےجائیں گے۔ 

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

/169

اہم: اس پٹیشن کو منطقی انجام تک پہنچانے کے لئے 10 لاکھ ووٹوں کی ضرورت ہے مگر کیا کیا جائے کہ ابھی تک چالیس ہزار افراد نے بھی ووٹ نہیں دیا۔ فارورڈ کریں امام زمانہ (عج) کے صدقے۔ پلیز 

   بحرین میں مظالم روکنے کےلئےCLICK صرف دس لاکھ ووٹوں کی ضرورت