20 جون 2011 - 19:30

کوئٹہ…بلوچستان کے نئے مالی سال 2011-12 کا بجٹ آج سہ پہرپیش کیا جا رہا ہے،صوبائی وزیر خزانہ عاصم کرد گیلوموجودہ صوبائی حکومت کا چوتھا بجٹ پیش کریں گے ،بجٹ کا کل حجم 170ارب روپے تک ہونے کا امکان ہے۔

ابنا: محکمہ خزانہ بلوچستان کے ذرائع کے مطابق صوبے کے نئے مالی سال کا بجٹ پیش کئے جانے کے حوالے سے تیاریاں مکمل کرلی گئی ہیں۔ صوبائی بجٹ کا کل حجم تقریبا ایک سو70ارب روپے تک ہونے کا امکان ہے،جس میں غیرترقیاتی بجٹ تقریبا 140ارب اورترقیاتی بجٹ تقریبا30 ارب روپے ہوگا۔ بلوچستان کا یہ بجٹ ٹیکس فری ضرور ہوگا تاہم اس کا خسارہ سات ارب تک ہونے کا بھی امکان ہے، صوبائی بجٹ میں سرکاری ملازمین کی تنخواہوں میں پندرہ فیصد اورریٹائرڈ ملازمین کی پنشن میں سے بیس فیصد15فیصد اضافے کی تجویز رکھی گئی ہے ۔ذرائع کے مطابق بجٹ میں سب سے زیادہ تقریبا بیس ارب کی رقم تعلیم کے شعبے کے لئے مختص ہوگی، جبکہ امن و امان کیلئے تقریبا تیرہ ارب اور محکمہ صحت کیلئے تقریبا نو ارب مختص کئے جارہے ہیں جبکہ بجٹ میں بے روزگاری میں کمی لانے کی غرض سے 6ہزار سے زائد نئی آسامیاں اور قدرتی آفات سے ریلیف کیلئے تین ارب رکھے جانے کی تجویز ہے، اس کے علاوہ بجٹ میں متبادل ذرائع سے بجلی حاصل کرنے کے لئے شمسی توانائی سے بجلی کے حصول کے منصوبہ کے لئے بھی خاطر خواہ فنڈز مختص کئے جائیں گے۔محکمہ خزانہ کے ذرائع کے مطابق مالی سال 2011.12کیلئے بلوچستان کو وفاق سے ڈوزبل پول سے 91ارب روپے کی رقم ملی ہے۔  ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

/169

اہم: اس پٹیشن کو منطقی انجام تک پہنچانے کے لئے 10 لاکھ ووٹوں کی ضرورت ہے مگر کیا کیا جائے کہ ابھی تک چالیس ہزار افراد نے بھی ووٹ نہیں دیا۔ فارورڈ کریں امام زمانہ (عج) کے صدقے۔ پلیز 

   بحرین میں مظالم روکنے کےلئےCLICK صرف دس لاکھ ووٹوں کی ضرورت