ابنا: ڈپٹی چیئرمین جاوید ضیاء قاضی کی تقرری کے خلاف الجہاد ٹرسٹ نے سپریم کورٹ اسلام آباد میں درخواست دائر کی تھی جس کی سماعت جسٹس جاوید اقبال کی سربراہی میں فل بنچ نے اسلام آباد میں کی اور تقریبا ایک ماہ قبل اس کیس پر فیصلہ محفوظ کیا تھا۔درخواست میں چیئرمین نیب کی عدم موجودگی میں ڈپٹی چیئرمین نیب کے اختیارات کے استعمال اور ان کی تقرری کے قانونی اور آئینی جواز کو چیلنج کیا گیا تھا فل بنچ کے فاضل رکن مسٹر جسٹس آصف سعید خان کھوسہ نے سپریم کورٹ لاہور رجسٹری میں کیس کا فیصلہ سنایا۔ فیصلے میں کہا گیا کہ حکومت ایک ماہ کے اندر چیئرمین نیب اور پراسیکیورٹر جنرل نیب کا تقرر کریں وگرنہ ڈپٹی چیئرمین نیب کے اختیارات ازخود ختم ہوجائیں گے۔ عدالت نے قرار دیا کہ اگر حکومت چیئرمین اور پراسیکیورٹر جنرل نیب کا ایک ماہ میں تقرر نہیں کرتی تو نیب کا ادارہ بھی عملاً ختم ہوجائے گا اور اس کی ذمہ داری وفاقی حکومت کے کندھوں پر عائد ہوگی۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
/169
اہم: اس پٹیشن کو منطقی انجام تک پہنچانے کے لئے 10 لاکھ ووٹوں کی ضرورت ہے مگر کیا کیا جائے کہ ابھی تک چالیس ہزار افراد نے بھی ووٹ نہیں دیا۔ فارورڈ کریں امام زمانہ (عج) کے صدقے۔ پلیز