ابنا: سندھ اسمبلی کا اجلاس اسپیکر سندھ اسمبلی کی زیر صدارت تقریبا پون گھنٹہ تاخیر سے شروع ہوا۔ اجلاس شروع ہوتے ہی ایم کیو ایم کے ڈپٹی پارلیمانی لیڈر فیصل سبزواری نے نکتہ اعتراض پر گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ایسا لگتا ہے کہ سوئچ دبا کر کراچی کے حالات خراب کرنے کی کوشش کی جاتی ہے۔ پولیس اور رینجرز کی موجودگی میں اے این پی کے مسلح دہشت گردوں نے دن دیہاڑے لوگوں کو قتل کیا جبکہ ان علاقوں میں نشانے بازی کی مشقیں کی جارہی ہیں۔انہوں نے کہا کہ ضیاء عالم ایڈوکیٹ اور متحدہ آرگنائزنگ کمیٹی کے رکن کو دن دیہاڑے قتل کیا گیا ان کا کہنا تھا کہ آج بھی ایم کیو ایم کے ممبران اسمبلی مظاہر امین خان ، منظر امام اور دیگر اورنگی ٹاون اور قصبہ کالونی سے اجلاس میں شرکت کے لئے نہ پہنچ سکے۔ فیصل سبزواری نے کہا کہ لسانی فسادات کرانے کی کوشش کی جارہی ہے لہذا ایم کیو ایم ان واقعات کی بھر پور مذمت کرتی ہے۔انہوں نے کہا کہ امید ہے حکومت اور قانون نافذ کرنے والے ادارے اس احتجاج کو مدنظر رکھیں گے جس کے بعد ایم کیو ایم کے اراکین اسمبلی نے علامتی واک آوٹ کیا۔ جنہیں وزیر قانون ایاز سومرو منا کر واپس ایوان میں لے آئے۔ وزیر قانون ایاز سومرو نے ایوان میں کہا کہ دہشت گرد جو بھی ہوں ان سے آہنی ہاتھوں سے نمٹا جائے گا انہوں نے کہا کہ دہشت گردوں کے پاس جدید اسلحہ موجود ہے جنہیں ختم کرنے میں کچھ وقت لگے گا۔ اپوزیشن رکن اسمبلی نصرت سحر عباسی نے کہا کہ مفاہمت کے باوجود لوگ قتل ہو رہے ہیں جبکہ ان کی بیٹی رینجرز کے ہاتھوں سرفراز شاہ کے قتل کے واقعہ کو دیکھ کر سو نہیں پا رہی لگتا ہے کہ بچوں کا مستقبل تاریک ہے اس پر ارباب اختیار کو سوچنا ہو گا جس پر رکن اسمبلی منور عباسی نے کہا کہ فنکشنل لیگ تو خود اقتدار کا حصہ ہے وہ کیا ارباب اقتدار سے مطالبہ کر رہے ہیں۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
/169
اہم: اس پٹیشن کو منطقی انجام تک پہنچانے کے لئے 10 لاکھ ووٹوں کی ضرورت ہے مگر کیا کیا جائے کہ ابھی تک چالیس ہزار افراد نے بھی ووٹ نہیں دیا۔ فارورڈ کریں امام زمانہ (عج) کے صدقے۔ پلیز