11 جون 2011 - 19:30

کراچی میں رینجرز کی فائرنگ سے نوجوان کی ہلاکت پر مقدمے میں انسداد دہشت گردی کی دفعہ سات بھی شامل کرلی گئی جس کے تحت عوام میں خوف وہراس اور عدم تحفظ پھیلانے کے جرم میں سزائے موت اور عمرقید دی جاسکتی ہے۔

ابنا: اتوار کو بوٹ بیسن تھانے میں سپریم کورٹ کے حکم پر مقررکردہ تحقیقاتی ٹیم کے سربراہ ڈی ائی جی ویسٹ سلطان خواجہ نے تحقیقات جاری رکھی اور گواہوں سے بیانات قلمبند کئے۔اس موقع پر رینجرز کے ہاتھوں ہلاک ہونے والے نوجوان سرفراز شاہ کے بھائی سالک شاہ اور اہل محلہ بھی بوٹ بیسن تھانے پہنچے۔تحقیقاتی ٹیم کے افسر نے بتایا کہ مقدمے میں انسداد دہشت گردی ایکٹ کی شق سات کو شامل کرلیا گیا ہے۔اس شق کے تحت کسی ایسے عمل جس سے عوام میں خوف وہراس اور عدم تحفظ پھیلانے کے جرم میں سزائے موت اور عمرقید دی جاسکتی ہے۔میڈیا سے گفتگوکرتے ہوئے ڈی ائی جی سلطان خواجہ نے بتایا کہ چار گواہوں کے بیانات ریکارڈ کرلئے گئے ہیں سات دن میں کمیٹی چالان دہشت گردی کی عدالت میں پیش کرے گی ، سات روز تک مسلسل بیانات ریکارڈ کئے جائیں گے، انھوں نے بتایا کہ ایف ائی ار میں کچھ چیزوں کا اضافہ کیا گیا ہے تاہم انھوں نے تفصیل نہیں بتائی جبکہ رینجرز کے دباوٴ سے متعلق پوچھے گئے سوال پر ڈی آئی جی سلطان خواجہ نے نو کمنٹس کہا۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

/169

اہم: اس پٹیشن کو منطقی انجام تک پہنچانے کے لئے 10 لاکھ ووٹوں کی ضرورت ہے مگر کیا کیا جائے کہ ابھی تک چالیس ہزار افراد نے بھی ووٹ نہیں دیا۔ فارورڈ کریں امام زمانہ (عج) کے صدقے۔ پلیز 

   بحرین میں مظالم روکنے کےلئےCLICK صرف دس لاکھ ووٹوں کی ضرورت