10 جون 2011 - 19:30

بحرین کے انسانی حقوق مرکز کے رکن عباس عمران نے زور دے کر کہا کہ انسانی حقوق کے بحرینی کارکن، انسانیت کے خلاف آل خلیفہ خاندان کے جرائم کی بنا پر اس خاندان پر عالمی عدالت برائے جنگی جرائم، میں مقدمہ چلانے کی کوشش کررہے ہیں۔

اہل البیت (ع) نیوز ایجنسی ـ ابنا ـ کی رپورٹ کے مطابق بحرینی عوام اور اس ملک کے انسانی حقوق کی تنظیموں کے مختلف اقدامات اور عالمی سطح پر آل خلیفہ کے جرائم کی تشہیر کے حوالے سے ہونے والی کوششوں نے آل خلیفہ حکومت کو قانونی اور تشہیراتی نیز ابلاغی حوالے سے بند گلی میں لاکھڑا کیا ہے۔ انھوں نے کہا کہ انسانی حقوق کے شعبے میں سرگرم عمل بحرینی کارکنوں، بحرینی سیاستدانوں اور روزنامہ نویسوں نے برطانیہ میں آل خلیفہ حکومت کے انسانیت دشمن اقدامات پر مبنی تصاویر، ویڈیوز اور خبریں مؤثر انداز میں نشر کردیں جس کے بعد آل خلیفہ کا ولیعہد شہزادہ ولیم کی شادی کی تقریب میں شرکت نہیں کرسکا۔انھوں نے کہا کہ بحرینی سیاستدانوں، عوام اور انسانی حقوق کے کارکنوں کے ان ہی اقدامات کی وجہ سے بحرین میں ہونے والی عالمی کار ریلی "فارمولا - 1" کا پروگرام بھی منسوخ ہوگیا کیونکہ دنیا کی سطح پر آل خلیفہ کے جرائم کی صحیح اور وسیع انداز میں تشہیر ہوئی ہے اور دنیا والوں کو بتانے کی بھرپور کوشش کی گئی ہے کہ بحرین میں ہونے والے اقدامات کسی فوج یا مسلح گروپ کے خلاف نہیں ہوئے بلکہ آل خلیفہ اور آل سعود نہتے اور پرامن عوام کے خلاف برسرپیکار ہیں۔  انھوں نے کہا کہ آل خلیفہ حکومت کی مخالفین نیز انسانی حقوق کی تنظیمون کے پاس بہت سے ایسی اسناد اور دستاویزات، ویڈیوز، تصاویر وغیرہ موجود ہیں جو آل خلیفہ حکومت کے غیرانسانی اقدامات سے پردہ اٹھانے کے لئے کافی ہیں نیز ہزاروں عینی گواہ بھی آل خلیفہ خاندان کے خلاف گواہی دینے کے لئے تیار ہیں۔انھوں نے کہا کہ دستیاب دستاویزات سے بخوبی ظاہر ہوتا ہے کہ آل خلیفہ خاندان انسانی حقوق کو پامال کرتا ہے، عوام کو عمومی انداز میں تشدد کا نشانہ بناتا ہے، عوام کے املاک اور دینی مراکز کو منہدم کرتا ہے، عوام کو تشدد اور ٹارچر کا نشانہ بناتا ہے اور ہر وہ کام سرانجام دیتا ہے جو دنیا کے کسی قانون میں بھی جائز نہیں سمجھا جاتا۔عمران نے مزید کہا: بحرین کے اندز آل خلیفہ خاندان کے خلاف کسی قسم کی شکایت کرنے اور اس پر مقدمہ چلانے کے لئے سہولیات موجود نہیں ہیں کیونکہ بحرین کی عدلیہ آل خلیفہ خاندان کے ماتحت ہے اور یہ عدلیہ بحرین میں ہونے والے تمام غیرانسانی جرائم میں برابر کے شریک ہے اور پھر آل خلیفہ خاندان نے ایک قانون بنا رکھا ہے جس کے تحت مثلاً ٹارچر اور تشدد کے لئے کسی قسم کی کوئی سزا مقرر نہیں کی گئی یا یوں کہئے کہ اس قانون کے مطابق تشدد اور ٹارچر بالکل قانونی حیثیت رکھتا ہے جبکہ ہماری شکایت کے تمام پہلو انسانوں کے قتل عام، عوام کے حقوق کی پامالی، تشدد اور ٹارچر نیز مساجد و حسینیات اور امامبارگاہوں کے انہدام جیسے اقدامات کی بنا پر ہے اور ان مسائل کی شکایت بین الاقوامی عدالتوں میں بہتر انداز سے پیش کی جاسکتی ہے اور زیادہ آزادی کے ساتھ مجرموں کے خلاف ثبوت فراہم کئے جاسکتے ہیں۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔/110