بین الاقوامی اہل بیت(ع) نیوز ایجنسی ـ ابنا؛ آذربائیجان میں اسکولوں کے لباس کے نئے قواعد کے نفاذ اور کچھ حجاب پہننے والی طالبات اور استانیوں کو کلاسوں میں داخلے سے روکنے کے بعد برطانیہ کے دارالحکومت لندن، جرمن دارالحکومت برلن، ترکیہ کے دارالحکومت انقرہ نیز ترکیہ کے بڑے شہر استنبول اور بوسنیا ہرزگوینا کے دارالحکومت سرائیوو میں احتجاجی مظاہرے ہوئے ہیں۔ مظاہرین نے ان مظاہروں میں حجاب سے متعلق پابندیوں کے خاتمے اور مذہبی لباس کی وجہ سے کسی امتیاز کے بغیر طالبات کے حقّ تعلیم کو یقینی بنانے کا مطالبہ کیا۔
یہ احتجاجی مظاہرے اُس وقت مزید پھیل گئے جب علیوف حکومت نے آذربائیجان میں 12 اکتوبر سے اسکولوں کے لباس کے نئے قواعد نافذ کئے۔ اگرچہ قواعد کے متن میں حجاب پر پابندی کا واضح طور پر ذکر نہیں ہے، لیکن رپورٹس بتاتی ہیں کہ کچھ اسکولوں نے حجاب پہننے والی طالبات اور استانیوں اسکولوں میں داخل نہیں ہونے دیا۔ اس علیوف رجیم کے اس اقدام نے نے آذربائیجان کے اندر بھی طالبات، ان کے خاندانوں اور مذہبی کارکنوں نیز دیندار آذربائیجانی عوام کے احتجاج کو جنم دیا۔
برلن؛ "حجاب کی آزادی" کے نعرے کے ساتھ مارچ
گذشتہ اتوار 18 اکتوبر کو جرمنی کے دارالحکومت برلن میں مظاہرین کے ایک گروپ نے آذربائیجان کے اسکولوں میں حجاب پر نافذ کردہ پابندیوں کے خلاف احتجاجی مارچ کیا۔ اس مظاہرے کی شائع شدہ تصاویر میں احتجاج کرنے والی خواتین و مردوں کی موجودگی اور حجاب کی آزادی کی حمایت میں پلے کارڈ دکھائی دیتے ہیں۔
شرکاء نے "حجاب کی آزادی" کے نعرے کے ساتھ پابندیوں کو ختم کرنے کا مطالبہ کیا اور اعلان کیا کہ یہ پابندیاں باپردہ طالبات کو مذہبی عقائد کی پاسداری اور تعلیم جاری رکھنے کے درمیان انتخاب پر مجبور اور ایک نامعقول دو راہے پر کھڑا کر دیتی ہیں۔
انقرہ؛ آذربائیجانی سفارت خانے کے سامنے احتجاج
گذشتہ ہفتے منگل (13 اکتوبر) کے دن ترکیہ کے دارالحکومت انقرہ میں مظاہرین نے آذربائیجانی سفارت خانے کے سامنے مظاہرہ کیا۔ یہ تقریب ترکیہ کی سیاسی جماعت 'حزب التحریر' کی دعوت پر منعقد ہوئی اور مصنف اور مذہبی کارکن عبداللہ امام اوغلو، نے مظاہرے کا بیان پڑھ کر سنایا۔
شرکاء نے حجاب کی حمایت میں نعرے لگاتے ہوئے با حجاب طالبات پر لگائی گئی پابندیوں کے خاتمے کا مطالبہ کیا۔ انہوں نے زور دیا کہ اسلامی لباس طلبہ کے کلاسوں میں داخلے میں رکاوٹ نہیں بننا چاہئے۔ انھوں نے آذربائیجانی حکومت کی پالیسیوں بشمول 'باکو کے صہیونی رجیم کے ساتھ قریبی تعلقات پر بھی سخت تنقید کی۔
استنبول؛ آذری قونصل خانے کے سامنے سکیورٹی اقدامات
انقرہ کے مظاہرے کے ساتھ ساتھ مظاہرین کے ایک گروپ نے استنبول میں آذربائیجانی قونصلیٹ جنرل کے سامنے بھی دھرنا دیا۔
ترک ذرائع ابلاغ کی رپورٹ کے مطابق، پولیس نے قونصل خانے کے ارد گرد وسیع سکیورٹی انتظامات کئے تھے اور پولیس کی گاڑیوں نے عمارت کا داخلی راستہ بند کر دیا۔
مظاہرین نے حجاب کی حمایت میں نعرے لگائے اور مقررین نے اسلامی لباس کی پاسداری کو مسلمانوں کے مذہبی عقائد کا حصہ قرار دیا اور طالباتہ کو تعلیم سے محروم کرنے پر مبنی اقدامات روکنے کا مطالبہ کیا۔
مقتدیٰ صدر کی طرف سے عراق کے تعلیمی اداروں میں مظاہروں کی اپیل
آذربائیجان کے اسکولوں میں حجاب کی پابندیوں پر ردعمل کے سلسلے میں، عراقی 'تحریکِ صدر' کے رہنما مقتدیٰ صدر نے اتوار 18 اکتوبر کو عراق کے سرکاری اور غیر سرکاری اسکولوں اور یونیورسٹیوں میں مربوط احتجاجی مظاہروں کے انعقاد کی اپیل کی۔
مقتدیٰ صدر نے اپنے بیان میں اعلان کیا کہ یہ مظاہرے جمعرات 22 اکتوبر کی صبح کلاسوں کے آغاز سے پہلے ہونے چاہئیں۔ انھوں نے اس اقدام کا مقصد دنیا کے بعض ممالک میں حجاب پر پابندی کے فیصلوں کے خلاف احتجاج اور لباس کی آزادی کی حمایت، قرار دیا۔
انھوں نے پہلے بھی آذربائیجان میں حجاب پر لگی پابندیوں کی مذمت کی تھی اور باکو حکام سے مخاطب ہو کر لکھا تھا: "دوسرے ممالک کے انجام سے سبق سیکھو۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
110
آپ کا تبصرہ