بین الاقوامی اہل بیت(ع) نیوز ایجنسی ـ ابنا؛ آذربائیجان میں اسکولوں کے لباس کے نئے قواعد کے نفاذ اور کچھ حجاب پہننے والی طالبات اور استانیوں کو کلاسوں میں داخلے سے روکنے کے بعد برطانیہ کے دارالحکومت لندن، جرمن دارالحکومت برلن، ترکیہ کے دارالحکومت انقرہ نیز ترکیہ کے بڑے شہر استنبول اور بوسنیا ہرزگوینا کے دارالحکومت سرائیوو میں احتجاجی مظاہرے ہوئے ہیں۔ مظاہرین نے ان مظاہروں میں حجاب سے متعلق پابندیوں کے خاتمے اور مذہبی لباس کی وجہ سے کسی امتیاز کے بغیر طالبات کے حقّ تعلیم کو یقینی بنانے کا مطالبہ کیا۔

یہ احتجاجی مظاہرے اُس وقت مزید پھیل گئے جب علیوف حکومت نے آذربائیجان میں 12 اکتوبر سے اسکولوں کے لباس کے نئے قواعد نافذ کئے۔ اگرچہ قواعد کے متن میں حجاب پر پابندی کا واضح طور پر ذکر نہیں ہے، لیکن رپورٹس بتاتی ہیں کہ کچھ اسکولوں نے حجاب پہننے والی طالبات اور استانیوں اسکولوں میں داخل نہیں ہونے دیا۔ اس علیوف رجیم کے اس اقدام نے نے آذربائیجان کے اندر بھی طالبات، ان کے خاندانوں اور مذہبی کارکنوں نیز دیندار آذربائیجانی عوام کے احتجاج کو جنم دیا۔
سرائیوو؛ "حجاب تعلیم میں رکاوٹ نہیں"
پیر 19 اکتوبر کو بوسنیا و ہرزیگووینا کے دارالحکومت سرائیوو میں شہریوں کے ایک گروپ نے آذربائیجان کے سفارت خانے کے سامنے مظاہرہ کیا۔ یہ تقریب ایک اسلامی انجمن کے زیر اہتمام منعقد ہوئی اور مظاہرین نے آذربائیجان کے اسکولوں میں حجاب پر نافذ کردہ پابندیوں کے خلاف اپنا احتجاج کیا۔
شرکاء نے پلے کارڈ اٹھا رکھے تھے، جن پر یہ نعرے درج تھے: "حجاب تعلیم میں رکاوٹ نہیں"، "حجاب حق ہے، مراعات نہیں" اور "ناانصافی کے سامنے خاموشی جرم ہے"
انہوں نے ان پابندیوں کے خاتمے کا مطالبہ کیا جو خواتین اور لڑکیوں کی مذہبی آزادی اور تعلیم تک رسائی کے حق کو متاثر کرتی ہیں۔
لندن؛ آذربائیجانی سفارت خانے کے سامنے مظاہرہ
جمعہ 16 اکتوبر کی شام، درجنوں کارکنوں اور طلبہ نے لندن کے ہالینڈ پارک کے علاقے میں واقع آذربائیجانی سفارت خانے کے سامنے مظاہرہ کیا۔ یہ مظاہرہ "فلسطین کے لئے طلبہ کی سرگرمی" (Association of Student Activism for Palestine [ASAP]) اور اس کے ساتھی گروپوں کی دعوت پر انجام پایا۔
شرکاء نے "میرے حجاب کو ہاتھ مت لگاؤ" جیسے نعروں کے ساتھ تعلیمی اداروں میں اسلامی لباس کی پابندیوں کے خلاف اپنا احتجاج ریکارڈ کرایا۔ مقررین نے زور دیا کہ خواتین اور لڑکیوں کو تعلیم جاری رکھنے کے لئے اپنے مذہبی عقائد ترک کرنے پر مجبور نہیں کیا جانا چاہئے۔
اسلامی مبلغ فضل سلیمان اور کئی کارکنوں اور طلبہ و طالبات نے مظاہرین سے خطاب کیا۔ مظاہرین نے اعلان کیا کہ وہ پابندیاں ختم ہونے تک ہر جمعہ کے روز آذربائیجان کے سفارت خانے کے سامنے احتجاجی مظاہرے کرتے رہیں گے۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
110
آپ کا تبصرہ