ابنا: واقعے کے بعد صدر علی عبداللہ صالح نے آڈیو پیغام میں کہا کہ وہ خیریت سے ہیں۔ سیکیورٹی حکام کے مطابق صدارتی محل میں واقع مسجد پر اس وقت راکٹ گرے جب صدر صالح ، وزیراعظم ، نائب وزیراعظم ، پارلے منٹ کے اسپیکر اور دیگر حکام نماز ادا کر رہے تھے۔ حکام کے مطابق صدر کے سر میں معمولی زخم آیا اور انہیں وزارت دفاع کے اسپتال میں طبی امداد دی گئی۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ حملے میں زخمی ہونے والے نائب وزیر اعظم کی حالت نازک ہے جبکہ وزیر اعظم کا چہرہ جھلس گیا ہے۔بعد میں سرکاری ٹی وی پر نشر کئے گئے آڈیو پیغام میں صدر نے کہا کہ وہ خیریت سے ہیں اور ان کی صحت اچھی ہے۔ پیغام میں کہا گیا کہ صدارتی محل پر حملے میں سات افراد ہلاک ہوئے ہیں۔ صدر نے حملے کی ذمے داری حکومت کے مخالف قبیلے الاحمر پر عائد کرتے ہوئے یمنی فورسز کو قبائلی رہنما شیخ صادق الاحمر کے خلاف کارروائی کا حکم دیا ہے۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
/169
اہم: اس پٹیشن کو منطقی انجام تک پہنچانے کے لئے 10 لاکھ ووٹوں کی ضرورت ہے مگر کیا کیا جائے کہ ابھی تک چالیس ہزار افراد نے بھی ووٹ نہیں دیا۔ فارورڈ کریں امام زمانہ (عج) کے صدقے۔ پلیز