3 جون 2011 - 19:30

دیر…اپردیر میں افغانستان سے آئے ہوئے شرپسندوں اور سیکیورٹی اہل کاروں کے درمیان جھڑپوں کا سلسلہ آج چوتھے روز بھی جاری ہے۔ جھڑپوں میں اب تک 28 اہل کار اور 8 شہری جاں بحق، جبکہ 48 شدت پسند ہلاک ہوچکے ہیں۔

ابنا: اپردیر کے علاقوں نصرت درہ، شکیزدرہ، خارا اور سونئی میں جھڑپوں کا سلسلہ آج چوتھے روز بھی جاری ہے، جھڑپوں کے دوران مزید ہلاکتوں کی اطلاعات بھی موصول ہوئی ہیں، تاہم سرکاری سطح پر کوئی تصدیق نہیں کی گئی۔ دیر کے علاقوں براول ، کلی باغ، خارا اور الوکس سمیت مختلف علاقوں میں کرفیو بدستور نافذ ہے۔ حملہ آور شدت پسند شلوتل چیک پوسٹ پر فورسز کے کنٹرول کے بعد علاقہ شاہ تیر میں داخل ہوئے تھے تاہم فورسز نے یہاں بھی شدت پسندوں کے حملے کو پسپا کرکے کے علاقے پر مکمل کنٹرول حاصل کرلیا۔ آپریشن میں پاک آرمی ، فرنٹیئر کور اور لیویزاہلکاروں کے چاک و چوبند دستوں کے ساتھ ساتھ مقامی قومی لشکر اور پولیس بھی حصہ لے رہی ہے۔ شدت پسندوں کے ممکنہ ٹھکانوں پر بھاری توپ خانوں سے گولہ باری بھی کی جارہی ہے جبکہ آپریشن میں جنگی ہیلے کاپٹرز کا استعمال بھی کیا جارہا ہے۔سیکریٹری خارجہ سلمان بشیر نے پاکستان میں افغان سفیرعمر داوٴد زئی سے جبکہ امریکا میں پاکستانی سفیر حسین حقانی نے دیر میں حملے پر سخت تشویش کا اظہار کیا۔ انہوں نے افغان فوج، نیٹو اور ایساف فورسز سے افغانستان سے شرپسندوں کی دراندازی رکوانے اور ان کے خلاف کارروائی کا مطالبہ کیا ہے۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

/169

اہم: اس پٹیشن کو منطقی انجام تک پہنچانے کے لئے 10 لاکھ ووٹوں کی ضرورت ہے مگر کیا کیا جائے کہ ابھی تک چالیس ہزار افراد نے بھی ووٹ نہیں دیا۔ فارورڈ کریں امام زمانہ (عج) کے صدقے۔ پلیز 

   بحرین میں مظالم روکنے کےلئےCLICK صرف دس لاکھ ووٹوں کی ضرورت