1 جون 2011 - 19:30

بے گناہ شیعہ نوجوانوں کوفوری رہا کیاجائے، چادر اور چار دیواری کے تقدس کی پامالی برداشت نہیںکی جائے گی،سانحہ عاشورا اور سانحہ اربعین سمیت دیگر دہشت گردانہ کاروائیوں میں ملوث دہشت گرد وں تک پولیس کی گرفت نہ ہونا ایک سوالیہ نشان ہے

ابنا: حکومت بے گناہ شیعہ نوجوانوں کو فی الفور رہا کرے،سی آئی ڈی کے غنڈوں کو لگام دی جائے ،چادر اور چار دیواری کے تقدس کی پامالی برداشت نہیں کریں گے، پولیس بے گناہ شیعہ نوجوانوں کو گرفتار کر کے نمبر اسکور کرنا بند کرے اور ملک دشمن عناصر کے خلاف عملی کاروائی کر کے اپنا فریضہ انجام دے۔ سانحہ عاشورا اور سانحہ اربعین سمیت دیگر دہشت گردانہ کاروائیوں میں ملوث دہشت گرد وں تک پولیس کی گرفت نہ ہونا ایک سوالیہ نشان ہے؟۔

ان خیالات کا اظہار جعفریہ الائنس پاکستان کے سربراہی سینیٹر علامہ عباس کمیلی، مجلس وحدت مسلمین پاکستان کے مرکزی ترجمان علامہ حسن ظفر نقوی، مولانا صادق رضا تقوی، مولانا منور نقوی، علامہ آفتاب حیدر جعفری، مولانا حسین مسعودی ،علامہ باقر زیدی، علامہ جعفر رضا نقوی اور علی اوسط نے مشترکہ ہنگامی اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کیا.

اس موقع پر رہنمائوں نے سندھ پولیس کی جانب سے شیعہ آبادیوں پر چھاپوں اور بے گناہ شیعہ نوجوانوں کی گرفتاریوں پر شدید غم وغصہ کا اظہار کیا اور حکومت سے مطالبہ کیا کہ کراچی میں بے گناہ شیعہ نوجوانوں کو بلا جواز گرفتاریوں کے عمل کو روکا جائے اور سی آئی ڈی پولیس کی غنڈہ گردی کو کنٹرول کیا جائے کہ جس نے چادر اور چار دیواری کے تقدس کو پامال کر دیا ہے۔

رہنمائوں کاکہنا تھا کہ ملک انتہائی نازک اور حساس دور سے گذر رہا ہے اور ایسے نازک حالات میں ملک دشمن قوتیں پاکستان کو غیر مستحکم کرنے کے در پہ ہیں جبکہ سندھ پولیس میں موجود کالی بھیڑیں اپنے آقاؤں کی خوشنودی کے لئے ملت جعفریہ کے خلاف کریک ڈائون جاری رکھ کر انارکی کی فضا پیدا کرنا چاہتی ہیں جس کی شدید مذمت کرتے ہیں.

رہنمائوں نے واضح کیا کہ بے گناہ شیعہ نوجوانوں کو گھروں سے اغواء کر کے لا پتہ کر دیا جاتا ہے جبکہ کچھ عرصہ بعد ان پر بھاری اسلحہ اور جھوٹے من گھڑت مقدمات قائم کر دئیے جاتے ہیں۔

رہنمائوں کاکہنا تھا کہ سندھ پولیس اور سی آئی ڈی پولیس کے تعصبانہ رویہ سے ایسا محسوس ہوتا ہے کہ ایک سوچی سمجھی سازش کے تحت ملت جعفریہ (بانی پاکستان قائد اعظم محمد علی جناح کی اولادوں )کے خلاف کاروائی کی جا رہی ہے جس کا مقصد وطن دوست قوتوں کو متنفر کرنا ہے جبکہ غیر ملکی آقائوں کی خوشنودی ہے،رہنمائوںنے صدر پاکستان،وزیر اعظم پاکستان اور چیف جسٹس آف پاکستان سمیت اعلی اور حساس اداروں سے مطالبہ کیا کہ وہ کراچی میں پولیس کی کھلی جارحیت کے خلاف کاروائی کریں اور بے گناہ شیعہ نوجوانوں کی رہائی عمل میںلائیں ،رہنمائوں نے مزید کہا کہ پولیس کی حراست میں بے گناہ شیعہ نوجوانوں پر بد ترین مظالم ڈھائے جا رہے ہیں جس کی جتنی مذمت کی جائے کم ہے۔ان کاکہنا تھا کہ کتنی عجیب بات ہے کہ مساجد،بازاروں،اور سرکاری دفاتر پر حملے کرنے والے دہشت گرد رتو آج تک آزاد ہیں جبکہ بے گناہ شیعہ نوجوانوں کو بلا جوز اور بغیر کسی ثبوت کے گرفتار کر لیا گیا ہے رہنمائوں نے مزید کہا کہ سی آئی ڈی پولیس اتی ہی قابلیت رکھتی ہے تو آج تک سانحہ رؤعاشور ا اور سانحہ اربعین سمیت دیگر دہشت گردانہ کاروائیوں میں ملوث دہشت گردوں کو گرفتار کرنے میں کیوں ناکام رہی ہے؟رہنمائوںنے ایک مرتبہ پھر وزیر اعلیٰ سندھ قائم علی شاہ کو متنبہ کیا کہ اگر حکومت نے شیعہ بے گناہ نوجوانوں کے خلاف جاری بلا جواز آپریشن بند نہ کی اور چادر اور چار دیواری کے تقدس کو پامال کیا تو حتمی طور پر سخت احتجاجی تحریک چلائیں گے جس کے بعد حالات کی سنگینی کی تمام تر ذمہ داری حکومت پر عائد ہو گی انہوںنے متنبہ کیا کہ ملت جعفریہ کے صبر کا امتحان نہ لیا جائے صبر کے پیمانے لبریز ہو چکے ہیں لہذٰا سی آئی ڈی پولیس کی مزید غندہ گردی کو برداشت نہیں کیا جائے گا۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

/169

اہم: اس پٹیشن کو منطقی انجام تک پہنچانے کے لئے 10 لاکھ ووٹوں کی ضرورت ہے مگر کیا کیا جائے کہ ابھی تک چالیس ہزار افراد نے بھی ووٹ نہیں دیا۔ فارورڈ کریں امام زمانہ (عج) کے صدقے۔ پلیز 

   بحرین میں مظالم روکنے کےلئےCLICK صرف دس لاکھ ووٹوں کی ضرورت