24 مئی 2011 - 19:30

آل سعود اور آل خلیفی وزیر اعظم کا مطالبہ: بحرین کا نیا نام مملکة البحرین الخلیفیہ رکھا جائے اور جھنڈہ بھی بدل دیا جائے۔

اہل البیت (ع) نیوز ایجنسی ـ ابنا ـ کی رپورٹ کے مطابق بحرین میں جن افراد کوعرب کرایے کے غنڈے اور زرخرید کا نام دیتے ہیں اور جن کی اس وقت عملی طور پر حکومت ہے ان کا یہ مطالبہ سامنے آیا ہے کہ بحرین کا نام تبدیل کیا جائے اور جھنڈے کو بھی بدل دیا جائے ۔ وزیر اعظم کے سر سخت اور متشدد حامی ان موثر افراد کا یہ بھی مطالبہ ہے کہ بحرین کو سعودی عرب کی ایک نیم خودمختار ریاست میں تبدیل کیا جائے جس کا حکمران سعودی عرب کا بحرینی نمایندہ ہو۔درحقیقت یہ وہی پرانی سیاست ہے جو اس سے قبل نجران اور عسیر نامی دو یمنی علاقوں کے ساتھ کھیلی گئی تھی یمن کے موجود ڈکٹیٹر صدر سے پہلے ان دو علاقوں کو کرایے پر حاصل کیا گیا اور پھر اس کے بعد انہیں مکمل طور پر سعودی عرب میں ضم کیا گیا جبکہ یمنی موجودہ احمق صدر علی عبداللہ صالح نے چند ریال لے کر خاموشی اختیار کی اسی طرح مکہ اور مدینہ کی زمین کہ جس کا پرانا نام بلاد حجاز یا شبہ جزیرة عربی تھا کو وہاں پر سعود خاندان کی حاکمیت کے بعد سعودی عرب کا نام دیا گیا اسی طرح ان افراد کا مطالبہ ہے کہ بحرین کا نام تبدیل کرکے ممکت خلیفیہ البحرینیة رکھا جائے اور اس کے موجودہ جھنڈے کو بھی تبدیل کیا جائے ۔یہاں سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ کیا یہ سب کچھ آسانی کے ساتھ ممکن ہوگا ؟اس سوال سے ہٹ کر اگر اس وقت دیکھا جائے تو عملی طور پر بحرین سعودی عرب کی ایک ریاست میں تبدیل ہوچکا ہے، ذرائع ابلاغ کے مطابق اس وقت تمام تر کنٹرول وزیر اعظم کے پاس ہے اور بادشاہ کسی گوشے میں بیٹھے صرف تماشا دیکھ رہا ہے جبکہ عملی طور پر ملک کرایے کے غنڈوں اور بیرونی قابض افواج کا مکمل کنٹرول ہے ۔ایسے میں ان ذہنوں میں اس طرح کے خیالات کا آجانا کوئی تعجب خیز بات نہیں لیکن کیا یہ خیال عملی شکل اختیار کریگا یہ ناممکن تو نہیں لیکن کافی مشکل کام ہوگا البتہ اس مشکل کام کی آسانی میں موجودہ صورت حال اور خاص کر بحرینی عوام کی جانب سے بحرین کو مقبوضہ بننے کی حد تک فرصت دینا اور پھر قابض افواج اور بیرونی کرایے کے غنڈوں کو کھلی چھوٹ دینا، عالمی انسانی ضمیر کی اسی طرح خاموشی سے آسانیاں پیدا ہوسکتی ہیں۔

بشکریہ از ایم ڈبلیو ایم سپورٹرز ۔ کام

آل سعود نے عالم عرب میں انتفاضہ شروع ہوتے ہی کئی بار اپنی سرکردگی میں خلیجی ریاستوں کا کنفیڈریشن بنانے پر زور دیا ہے اور کئی سعودیوں نے بحرین کو آل سعود کے قلمرو میں شامل کرتے ہوئے اپنی ہرزہ سرائیاں جاری رکھی ہوئی ہیں اور حال ہی میں بحرین میں آل سعود کے قریبی حلیف اور بحرین کے دہشت پسند وہابی ٹولے نام نہاد "وحدة الوطنی" کے سربراہ نے ـ جو انقلاب بحرین کی مزاحمت کے لئے انقلاب سے فوراً بعد تشکیل پایا ہے ـ آل سعود کی پا بوسی کے دوران کہا تھا کہ بحرین آل سعود کے زیر تسلط سرزمین کا ہی حصہ ہے۔ مال کی بات تو یہ ہے کہ حکومت بھی اور وحدةالوطنی ٹولہ حتی کہ اہل سنت کی نمائندگی بھی نہیں کرتے بلکہ ایک نہایت چھوٹے گروہ کی نمائندگی کرتے ہیں جو آل خلیفہ استبداد کے خلاف اٹھنے والے شیعہ اور سنی عوام کی تحریک ناکام بنانے کی سعی ناکام میں مصروف ہیں۔ تاہم کسی کے چاہنے یا نہ چاہنے اور بحرین کے بارے میں اس طرح کی آل خلیفہ اور آل سعود اور ان کے بے اختیار کٹھ پتلیوں کی ہرزہ سرائیوں کے باوجود بحرینی عوام کا انقلاب کامیاب ہوکر رہے گا کیونکہ اس کے شیعہ اور سنی راہنما گو کہ آل خلیفہ اور آل سعود کے شدید دباؤ کا نشانہ بن رہے ہیں لیکن وہ پہاڑ کی طرح مستحکم کھڑے ہیں اور اپنے مطالبات سے پیچھے ہٹنے کا نام تک نہیں لے رہے۔ان سب کا نعرہ ہے کہ "یسقط حمد" یعنی حمد بن عیسی کا تختہ الٹنے والا ہے اور یہ کہ سعودی جارحین کو بحرین سے نکل جانا چاہئے۔ یقیناً یہ اٹل حقیقت آل سعود سمیت ان تمام مغرب نواز قوتوں کے لئے بھی تکلیف دہ ہے جو اپنے پی این ایس مہران اور تمام قومی تنصیبات پر دہشت گردوں کے کامیاب حملوں کا مقابلہ کرنے کی بجائے مغرب کے کہنے پر حمد استبداد و آمریت کو بچانے کے لئے ایڑی چوٹی کا زور لگا رہے ہیں اور نہتے عوام کا مقابلہ کرنے کے لئے چھ فٹ لمبے فوجیوں کو چن چن بحرین روانہ کررہے ہیں۔پاکستانی عوام کے کندھے اپنے فوجی اور غیر فوجی عزیزوں کی لاشیں اٹھا اٹھا کر تھک گئے ہیں چنانچہ انہیں یہ پوچھنے کا یقیناً حق پہنچتا ہے کہ حکومت اور فوج ایک دوسرے ملک بحرین کے عوام کے پرامن مدنی انقلاب کو کچلنے کے لئے چھ فٹ کے کمانڈوز بیرون بیرون ملک کیوں روانہ کررہی ہے ؟ کیا بہتر نہ تھا کہ اس طرح کمانڈوز اپنے ملک پر مسلح اور نہایت درندہ دہشت گردوں کا مقابلہ کرنے کے لئے کیوں روانہ نہیں کئے جاتے؟

- بحرینی اقتدار اعلی پر آل سعود کا قبضہ ہو چکا ہے؛ پارلیمان میں آل سعود کا جھنڈا۔۔۔۔۔۔

/110

اہم: اس پٹیشن کو منطقی انجام تک پہنچانے کے لئے 10 لاکھ ووٹوں کی ضرورت ہے مگر کیا کیا جائے کہ ابھی تک چالیس ہزار افراد نے بھی ووٹ نہیں دیا۔ فارورڈ کریں امام زمانہ (عج) کے صدقے۔ پلیز 

   بحرین میں مظالم روکنے کےلئےCLICK صرف دس لاکھ ووٹوں کی ضرورت