20 مئی 2011 - 19:30

آل خلیفہ حکومت نے اپنے بیان میں امریکی صدر کر حالیہ موقف کا خیر مقدم کرتے ہوئے دعوی کیا ہے کہ اوباما کا موقف "آل خلیفہ کے جمہوری نقطہ نظر (!)" کے عین مطابق ہے!۔

اہل البیت (ع) نیوز ایجنسی ـ ابنا ـ کی رپورٹ کے مطابق آل خلیفہ حکومت نے امریکی صدر اوباما کی حالیہ تقریر کا خیر مقدم کرتے ہوئے دعوی کیا ہے کہ "اوباما کی تقریر قومی منصوبے یعنی جمہوری اصولوں اور انسانی حقوق کا احترام کرتے ہوئے جمہوری حکومت کی تشکیل کے حوالے سے آل خلیفہ کے بادشاہ کے قومی منصوبے کے عین مطابق ہے!"۔عجب یہ ہے کہ حمد بن موسی اپنے امریکی آقا کی پیروی کرتے ہوئے مواصلاتی دور اور انفارمیش کی عام دستیابی کے اس دور میں آگاہ دنیا کی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر جھوٹ بولتے ہیں اور انسانوں کا قتل عام، عام لوگوں پر فوجی عدالتوں میں مقدمہ چلانے، اسپتالوں کو فوجی چھاؤنیوں میں تبدیل کرنے، ڈاکٹروں، نرسوں نیز بیماروں اور زخمیوں کو گرفتار کرنے، عوام کے گھروں کو نذر آتش کرنے، مساجد و قرآن مجید نیز امامبارگاہوں اور مزارات کو آگ لگانے، بیرونی افواج کی مدد سے عوام کے پر امن مظاہروں کو کچلنے، ہزاروں افراد کو گرفتار اور ہزاروں کو بے رزوگار بنانے اور مسلمانوں کے درمیان اختلاف اور تفرقہ ڈالنے کی نیت سے تمام دینی اور انسانی اقدار کو پامال کرنے کو ہی جمہوری اقدار تصور کرتے ہیں اور انہیں معلوم ہے کہ اوباما پہلے سے ہی ان کے ساتھ ہیں اور ان کا ساتھ دیں گے کیونکہ اوباما کو بحرین کے ساحل پر پانچویں امریکی بحری بیڑے کی بھی تو فکر ہے جس کے لئے وہ لاکھوں انسانوں کے ارمانوں کو بھی قربان کرسکتے ہیں۔آل خلیفہ حکومت نے آل سعود کی فورسز کی مدد سے پرامن مظاہروں کو کچلنے کے عمل کی طرف کوئی اشارہ نہیں کیا ہے اور دعوی کیا ہے کہ "بحرین میں قومی منشور محنت کے اعلان کے بعد مذاکرات کے دروازے کھلے ہیں اور آل خلیفہ حکومت تمام فریقوں کی موجودگی میں قومی مفاہمت تک پہنچنے کی امید رکھتی ہے۔ آل خلیفہ حکومت نے تشدد اور ٹارچر کے نتیجے میں کئی بحرینیوں کی شہادت اور حال ہی میں بحرینی جیلوں سے دہشتناک تشدد اور ٹارچر کی اطلاعات فاش ہونے کے باوجود اوبا موقف کا خیر مقدم کرتے ہوئے دعوی کیا ہے کہ "بحرین میں کسی قسم کی اذیت و آزار نہیں ہے اور آل خلیفہ حکومت کے تمام اقدامات قومی آئین اور بین الاقوامی قوانین کے عین مطابق ہیں اور حکومت بحرین اپنے اقدامات کی درستی سے مطمئن ہے!۔ یاد رہے کہ اوباما نے آل خلیفہ حکمرانوں سے نہایت نرم اور مشفقانہ لب و لہجے میں کہا تھا کہ بحرین میں شیعہ مساجد کو منہدم نہیں کرنا چاہئے جس طرح کہ مصر میں عیسائیوں کو آزادی کے ساتھ زندگی گذارنے کا حق ہونا چاہئے اور انہیں دینی اور مذہبی عبادات و مراسمات کے لئے پوری آزادی ملنی چاہئے لیکن انھوں نے یہ نہیں کہا کہ مصر میں عیسائی اقلیت رہتی ہے جبکہ بحرین کی اکثریتی آبادی اہل تشیع پر مشتمل ہے اور ان کو انتخاب کا حق ملنا چاہئے اور یہ کہ جمہوری اصولوں کے مطابق اقلیت کو اکثریت پر حکومت کا حاصل نہیں ہے بلکہ تشکیل حکومت کا حق اکثریت کو ہی حاصل ہے۔...........

/110

اہم: اس پٹیشن کو منطقی انجام تک پہنچانے کے لئے 10 لاکھ ووٹوں کی ضرورت ہے مگر کیا کیا جائے کہ ابھی تک چالیس ہزار افراد نے بھی ووٹ نہیں دیا۔ فارورڈ کریں امام زمانہ (عج) کے صدقے۔ پلیز 

بحرین میں مظالم روکنے کےلئےCLICK صرف دس لاکھ ووٹوں کی ضرورت