20 مئی 2011 - 19:30

عراقی حکومت کے ترجمان علی الدباغ نے کہا ہے کہ امریکی فوجیوں کی موجودگي کی مدت میں اضافہ کرنے سے مسائل مزید پیچیدہ ہوجائيں گے۔

ابنا:  فارس نیوز کے مطابق علی الدباغ نے کہا کہ امریکی فوجیوں کی مدت میں اضافہ کرنے کے نقصانات اس کے فوائد سے بہت زیادہ ہیں۔ انہوں نے کہا کہ امریکی فوجیوں کی موجودگي تشدد آمیز واقعات میں کمی کا سبب نہیں بنی ہے۔ انہوں نے کہا کہ اس سال کے اختتام سے عراق میں امریکی فوجیوں کی موجودگي متعدد مسائل کا سبب بنے گي ۔ انہوں نے کہا کہ عراقی سکیورٹی فورسس نے یہ ثابت کردیا ہے کہ وہ ملک میں امن قائم رکھ سکتی ہیں۔ عراقی حکومت کے ترجمان نے کہاکہ عراق میں امریکی فوجیوں کو باقی رکھنے کافیصلہ صرف وزیراعظم ، صدر یا کوئي پارٹی نہیں کرسکتی بلکہ یہ ایک قومی مسئلہ ہے جس کا باریک بینی سے جائزہ لیا جانا چاہیےاور اس پر قومی اتفاق رائے ہونا ضروری ہے۔ یا درہے اس وقت عراق میں پچاس ہزار امریکی فوجی تعینات ہیں۔ عراق اور امریکہ کے سکیورٹی معاھدے کے مطابق امریکی فوجیوں کو عراق سے رواں سال کے اختتام تک نکل جانا ہوگا ۔ واشنگٹن چاہتاہےکہ اس کےفوجی عراق میں باقی رہیں اسی لئے وہ بہانوں کی تلاش میں ہے۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

/169

اہم: اس پٹیشن کو منطقی انجام تک پہنچانے کے لئے 10 لاکھ ووٹوں کی ضرورت ہے مگر کیا کیا جائے کہ ابھی تک چالیس ہزار افراد نے بھی ووٹ نہیں دیا۔ فارورڈ کریں امام زمانہ (عج) کے صدقے۔ پلیز 

   بحرین میں مظالم روکنے کےلئےCLICK صرف دس لاکھ ووٹوں کی ضرورت