اشارہ: اقوام متحدہ وہ عالمی تنظیم ہے جو صرف امریکی مفادات کے لئے قراردادیں پاس کرتی ہے؛ یہ تنظیم تشکیل پائی ہے تا کہ دنیا میں کوئی بھی جارح کسی ملک پر جارحیت نہ کرے لیکن یہ امریکی مفادات کے لئے ملکوں پر جارحیت کی اجازت دیتی رہتی ہے۔ بحرین پر باقاعدہ بیرونی قبضہ ہوچکا ہے لیکن اس تنظیم نے ابھی تک اس مسئلے پر غور کرنے کے لئے ایک اجلاس بھی منعقد نہیں کیا ہے۔ بحرین میں انسانیت خون کی آنسو رو رہی ہے اسپتالوں کو قابض افواج کی چھاؤنیوں میں تبدیل کیا گیا ہے، ڈاکٹروں اور نرسوں پر فوجی عدالتوں میں مقدمے چلائے جاتے ہیں، بچوں کو پھانسی کی سزائیں سنائی جاتی ہیں اور جیلوں سے دھڑادھڑ تشدد زدہ لاشیں باہر آرہی ہیں لیکن نہ تو عالمی ضمیر کے کان پر جون تک رینگتی ہے، نہ امریکی جمہوریت پسندی اور انسانی حقوق کے دعوے نظر آرہے ہیں اور نہ ہی یورپ سے "انسانیت مرگئی" کا کوئی نعرہ سنائی دے رہا ہے۔ سعودی عرب نے بحرین کو اپنے ملک کا حصہ بنانے کی سازش تیار کر رکھی ہے اور اس ملک میں چھاؤنیاں بنا رہا ہے اور ساتھ ہی قطر کو بھی دھمکیاں دیتا ہے کہ اگر اس نے آل سعود کی پالیسیوں پر عملدرآمد نہ کیا تو وہ اس ملک پر قبضہ کرے گا لیکن کویت پر عراقی قبضے کے وقت چیخنے اور گلے پھاڑنے والی طاقتوں کو گویا نہ تو کچھ دکھائی دیتا ہے اور نہ ہی کچہ سنائی دیتا ہے۔آل سعود نے وہابی تفکر لے کر 70 سے زائد مساجد اور حسینیات نیز اولیاء اللہ کے مزارات کو شہید کردیا ہے، قبرستانوں کو ڈھا دیا ہے اور قرآن مجید کے سینکڑوں نسخوں کو نذر آتش کیا ہے لیکن حتی کہ قرآن کے تحفظ کرنے والے بعض نام نہاد مذہبی جماعتیں تک آل سعود کے حق میں مظاہرے تک کردیتے ہیں۔ مبارک ہو آل سعود کے امریکی اور یہودی آقاؤں کو۔تا ہم دنیا کی پرامن قومیں بحرین میں آل سعود کی جارحیت کا فوجی جواب دینے کی بجائے پھر بھی اقوام متحدہ کی طرف دیکھ رہی ہیں اور اس تنظیم سے مطالبہ کرتی ہیں کہ آکر بحرین میں ذبح ہوتے ہوئی انسانیت کی مدد کرے اور انسانوں کو درندوں سے بچائے۔ قم کے بسیجِ وکلاء کا بیان
اہل البیت (ع) نیوز ایجنسی - ابنا - کی رپورٹ کے مطابق شہر قم کے وکلاء کی بسیج نے بیان جاری کرکے اقوام متحدہ سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ اپنے کان اور آنکھیں کھول کر حقائق کو دیکھ لے اور قرار داد منظور کرکے بحرین میں نسل کشی کی مذمت کرے اور آل خلیفہ کے اقدامات کے خاتمے کا مطالبہ کرے۔ شہر مقدس قم کے وکلاء کی بسیج کا بیان:تیونس، مصر، لیبیا، بحرین اور یمن سمیت اسلامی دنیا کے مختلف ممالک میں اسلامی بیداری اور عدل خواہی کی لہریں اٹھی ہوئی ہیں اور ان ممالک کے عوام اپنی وحدت اور ایمان کے بھروسے پر اللہ اکبر کا نعرہ لگا کر عوامی مظاہروں اور اور ریلیوں کے ذریعے اسرائیل اور امریکی استکبار سے وابستہ آمروں کی سرنگونی کا اور اپنی عزت و عظمت اور ضائع ہونے والے حقوق کی بازیابی کا مطالبہ کررہے ہیں؛ دریں اثناء اسلامی ملک بحرین کے عوام نے بھی قیام کیا اوران اصلاحات کے نفاذ کا مطالبہ کیا جن کے نفاذ کا بادشاہ کی طرف سے وعدہ دیا گیا تھا لیکن غیر متوقعہ طور پر آل خلیفہ نے عوام کے پرامن مطالبات کا شدید ترین انداز سے جواب دیا اور ناجوانمردانہ اور انتہائی وحشیانہ حملے کرکے اس ملک کے عوام کا قتل عام کیا۔ افسوس کا مقام ہے کہ دنیا کے اسلامی ممالک نے نہ صرف ان اقدامات پر کوئی تنقید نہیں کی بلکہ بعض ممالک کے سربراہوں نے ـ جو عالمی استکبار کے کٹھ پتلی ہیں ـ وہاں اپنی افواج روانہ کردیں اور فوجی سازوسامان بھیج کر بحرین کے حق طلب عوام کا قتل عام کیا ہے۔ اب کہاں ہیں انسانی حقوق کے تحفظ کی دعویدار نام نہاد تہذیب یافتہ حکومتیں؟ جمہوریت اور آزادی کے محافظ کہاں ہیں؟ کہاں ہیں وہ عالمی ادارے جو عالمی استکبار، اسرائیل اور دیگر مغربی ممالک کے مفادات خطرے میں پڑنے کی صورت میں بیان جاری کرتی ہیں، قرادادیں منظور کرتی ہیں اور more Catholic than the Pope بن کر مادی امداد روانہ کرتے ہیں لیکن بحرین میں اتنے وسیع جرائم و مظالم دیکھ کر اور المیوں کا مشاہدہ کرکے آنکھیں، کان اور زبان پر تالے ڈالی ہوئی ہیں؟جہاں دنیا والوں نے اس نسل کشی پر آنکھیں، کان اور زبانیں بند کردی ہیں صوبہ قم کے وکلاء کی بسیج نہ صرف بحرین کے نہتے عوام کے حقوق کا تحفظ اپنا انسانی اور شرعی فریضہ سمجھتی ہے حدیث نبوی (ص) کے کمترین درجے کی روشنی میں اعلان کرتی ہے:1۔ انسانی عظمت و کرامت کے اصولوں اور انسانی معاشروں پر حکمفرما حقِ تعینِ مقدرات اور جمہوریت کے مسلمہ اصولوں کی بنیاد پر بحرینی عوام کو اپنے شہری حقوق کا مطالبہ کرنے کا حق حاصل ہے اور اگر حکومت ان کے شہری حقوق کا انکار کرے اور عوام کو وحشیانہ انداز سے کچلنے کی کوشش کرے ـ تو عالمی استکبار کی کٹھ پتلی آمریت کے خلاف قیام کرنے والی اس ملت کو حق حاصل ہے کہ ملک کی باگ ڈور خود سنبھالے، عوامی اور اسلامی حکومت کے قیام کے لئے کوشش کرے جو مشرق اور مغرب سے وابستہ نہ ہو۔
2۔ بحرین میں آل خلیفی حکمرانوں کی طرف سے نہتے اور پرامن عوام کے خلاف ہونے والے جرائم معمول کی بات بنی ہوئی ہےـ بحرینی ملت کے قانونی اور پر امن مطالبات کے جواب میں آل خلیفہ نے قتل عام، عوام کے تمام طبقوں ـ خاص طور پر قانوندانوں، ڈاکٹروں، نرسوں، اساتذہ اور طلبہ ـ کی وسیع اور اندھادھند گرفتاریوں ـ کی شکل میں جواب دیا ہے جس کی ہم شدید مذمت کرتے ہیں اور ان جرائم و مظالم کے خاتمے اور گرفتار شدگان کی فوری رہائی کا مطالبہ کرتے ہیں۔ 3۔ بحرین کے پرامن اور نہتے عوام کے خلاف خطے کے ممالک کے حکمرانوں کے فوجی اقدامات کی مذمت کرتے ہوئے، بحرین سے ان ممالک کی افواج اور ہتھیاروں کے فوری انخلاء کا مطالبہ کرتے ہوئے اعلان کرتے ہیں کہ ان کے اقدامات خلیج فارس تعاون کونسل کے درمیان طے پانے والے تمام معاہدوں نیز تمام علاقائی معاہدوں اور بین الاقوامی کنونشنوں کی کھلی خلاف ورزی کے زمرے میں آتے ہیں اور خلیج فارس تعاون کونسل کی رکن ریاستوں کے درمیان امن معاہدے کا تعلق بیرونی جارحیت سے ہے نہ یہ کہ کسی ملک کے اندر کے جاری مسائل کی صورت میں اس ملک پر فوجی جارحیت کی جائے۔ 4۔ خلیج فارس تعاون کونسل اور عرب لیگ کے اعلامیوں کی مذمت کرتے ہیں اور بحرین کے معاملات میں ـ بحرین میں فوجی جارحیت کے مرتکب ممالک کی طرف سے ـ ایران کی مداخلت کے دعوے کی تردید کرتے ہوئے اعلان کرتے ہیں کہ ہمارے اعلامئے کا مقصد آل خلیفہ خاندان کی طرف سے بحرین میں ہونے والے جرائم و مظالم کی مذمت کرنا ہے اور اب جبکہ آل خلیفہ حکومت بھی بحرین عوام کے خلاف جارحانہ اقدامات کررہی ہے اور بحرین میں مداخلت کرنے والے ممالک بھی اس حکومت کی پیروی کررہی ہیں اور عوام پر مظالم ڈھا رہے ہیں، عالمی برادری کے ہر فرد کی کم از کم ذمہ داری یہ ہے کہ ان جرائم کی مذمت کرے۔ 5۔ ہم ان تمام ذرائع ابلاغ کی مذمت کرتے ہیں جنہوں نے بحرین کے عوامی انقلاب کو فرقہ واریت یا قبائلیت کا شاخسانہ قرار دینے کی کوشش کرتے ہوئے بحرین میں امت اسلامی اور عرب و عجم کے درمیان اختلاف اور فتنہ ڈالنے کی سازش کی ہے اور ہمارا مطالبہ ہے کہ بحرین میں حقیقت پسند اور آزاد و غیر جانبدار ذرائع ابلاغ کے لئے صورت حال کی تصویر کشی کا امکان فراہم کیا جائے تا کہ وہ جاری المئے کی درست ترجمانی کرسکیں اور اس ملک میں ہونے والے جرائم کی گہرائی کا صحیح اندازہ لگائیں اور اپنے ابلاغی فرائض کی انجام دہی کے سلسلے میں بحرین کی حق طلبی کی صدا دنیا والوں کی سماعتوں تک پہنچادیں اور مظلومین کے حقوق کا تحفظ کریں۔ 6ـ اقوام متحدہ سمیت دنیا کے تمام اداروں سے مطالبہ کرتے ہیں کہ وہ حقائق کا مشاہدہ کرنے اور انہیں سن لینے کے لئے اپنی آنکھیں اور کان کھول دیں اور قرار داد منظور کرکے بحرین میں ہونے والی نسل کشی اور انسانیت کے خلاف ہونے والے جرائم کی مذمت کرتے ہوئے آل خلیفہ کی طرف سے انجام پا رہے اقدامات کے فوری خاتمے، خطے کی ریاستوں کی فوجی مداخلت کے سد باب نیز بیرونی افواج کے فوری انخلاء کا مطالبہ کریں اور آل خلیفہ حکمرانوں سے مطالبہ کریں کہ وہ عوام کے جائز اور پرامن مطالبات کے سامنے سر تسلیم خم کریں۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔/110
اہم: اس پٹیشن کو منطقی انجام تک پہنچانے کے لئے 10 لاکھ ووٹوں کی ضرورت ہے مگر کیا کیا جائے کہ ابھی تک چالیس ہزار افراد نے بھی ووٹ نہیں دیا۔ فارورڈ کریں امام زمانہ (عج) کے صدقے۔ پلیز