ابنا: ماسکوسےہمارےنمائندےکی رپورٹ کےمطابق لاوروف نے صحافیوں سےگفتگوکرتےہوئےروس کےاس موقف پرتاکیدکی کہ روس کاموقف ایران کےساتھ مذاکرات جاری رکھناہے۔ روس کےوزیرخارجہ نےتاکیدکےساتھ کہاکہ کیتھرین اشٹون نےجویہ کہاہےکہ سعیدجلیلی کےخط ميں، ایران کےسینئرایٹمی مذاکرات کارسعیدجلیلی کےخط میں کوئی نئی بات نہيں ہے، روس کےموقف سےتضاد رکھتاہے۔ لاوروف نےکہاکہ روس کی تاکید ہےکہ ایران کےساتھ مذاکرات میں تمام مسائل کاایران کےتمام حقوق کی پابندی کرتےہوئےجائزہ لیناچاہئے۔ایران کی قومی سلامتی کونسل کےسکریٹری سعیدجلیلی نےگذشتہ ہفتےيورپی یونین کی خارجہ پالیسی کی سربراہ کیتھرین اشٹون کی جانب سےمذاکرات دوبارہ شروع کرنےکی درخواست کےجواب میں کہاتھاکہ تہران مشترکہ نکات کےتناظرميں تعاون کےلئےمذاکرات کاخیرمقدم کرتاہے۔سعیدجلیلی نےاپنےخط میں اس کےساتھ ہی یہ بھی یاد دہانی کرائی تھی کہ ایران، قوموں کےحقوق کےاحترام، اور دباؤ سےاجتناب کوتعاون کےلئےدومضبوط بنیاد سمجھتاہے۔لیکن کیتھرین اشٹون نےاس اصولی موقف پرردعمل ظاہرکرتےہوئے جوایران کےساتھ منطقی گفتگو سےفرار کی علامت ہےدعوی کیاکہ ایران کی اعلی قومی سلامتی کونسل کےسکریٹری سعیدجلیلی کےخط میں کوئي نئی بات نہيں ہےجونئی ملاقات کاجوازبنے۔اس میں کوئی شک نہيں کہ ہرقسم کی گفتگوجس کی بنیاد مشترکہ منطق ہو، قوموں کےحقوق کااحترام کرناہے، لیکن امریکہ اوریورپ کےبعض مذاکراتی فریق، اس اصل پریقین نہیں رکھتے۔گروپ پانچ جمع ایک اورایران کےدرمیان مذاکرات جوگذشتہ جنوری ميں استنبول میں ہوئےتھےایسےعالم میں ختم ہوئےتھےکہ بعض مذاکراتی فریقوں نےمقابلہ آرائی کارویہ اختیارکرتےہوئےایران پراپنےغیرمنطقی مطالبات مسلط کرنےکی کوشش کی۔اگرچہ مذاکرات ان کی جانب سےتعطل کاشکارہوئےپھربھی ان کےلئےواحدراستہ منطقی مذاکرات اور ایران کےساتھ تعاون ہے۔بہرحال، ایران کےساتھ مذاکراتی فریق کےدرمیان اختلافات سےقطع نظر جس کی تائیدروس کےوزيرخارجہ کےبیان سےبھی ہوتی ہے،ایران کےسلسلےمیں مغرب کےدشمنانہ رویےکاجائزہ لینےکےلئےدوبنیادی نکتے قابل اہمیت ہیں۔ پہلایہ کہ امریکہ اور اس کےبعض اتحادیوں کی تھیوری ایران پردباؤڈال کراسےتنہاکرنے کی ہےجس میں وہ پہلےہی شکست کھاچکےہیں۔دوسرانکتہ یہ ہےکہ ایران نےمذاکرات اورگفتگوکاراستہ بند نہيں کیاہےلیکن اس میں بھی کوئی شک نہيں ہےکہ مذاکرات ، منطق کی بنیاد پرجاری رہناچاہئے۔ بنابرایں واضح ہےکہ اگرمذاکراتی فریق ماضی کی غلطیوں کودہراناچاہےگاتو ایران کاجواب بھی وہی ہوگاجوپہلے تھا۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔/169
اہم: اس پٹیشن کو منطقی انجام تک پہنچانے کے لئے 10 لاکھ ووٹوں کی ضرورت ہے مگر کیا کیا جائے کہ ابھی تک چالیس ہزار افراد نے بھی ووٹ نہیں دیا۔ فارورڈ کریں امام زمانہ (عج) کے صدقے۔ پلیز