ابنا: اسلام آباد سپریم کورٹ جج جسٹس محمد سائر علی نے بلوچستان میں ٹارگٹ کلنگ اور امن و امان کی خراب صورت حال کے حوالے سے آئینی درخواست کی سماعت کے دوران ریمارکس دیتے ہوئے کہا ہے کہ خون ریزی کی وجہ سے آئین کی بند کتاب کا رنگ سرخ ہوتا جارہا ہیں. فاضل عدالت نے چیف سیکرٹری بلوچستان کو آج طلب کریں گےچیف جسٹس کی سربراہی میں تین رکنی بینچ نے کیس کی سماعت کی.عدالت کے روبروایڈوکیٹ جنرل بلوچستان امان اللہ کزانی نے بتایا کہ مجموعی طور پر حالات میں بہتری آئی ہے جبکہ اکادکا واقعات ہورہے ہیں ، چیف جسٹس نے کہا کہ لوگوں کو گولیوں سے چھلنی لاشیں ندی نالوں سے مل رہی ہیں . بس میں لوگوں کو زندہ آگ لگایا جارہاہے اور آپ کہتے ہیں کہ حالات ہہتر ہورہی ہیں بلوچستان میں آب تک ایسے اقدامات نہیں اٹھائے گئے جس سے عوام کو تحفظ مل سکے حال ہی میں ہزارہ ٹاون میں راکٹ حلمے سے لوگوں کو جلا دیا گیا ہے آخر کب تک نامعلوم افراد پر ملبہ ڈالا جائے گا آج تک کسی آفیسر کےخلاف انکوائری نہیں ہوئی عدالت کو جامع منصوبہ بندی کرکے آگاہ کیا جائے.جسٹس محمد سائرعلی نے کہا کہ ہر طرف کرپشن اور بے عملی ہیں حالات کو کنٹرول کرنے کیلئے کوئی منصوبہ بندی اور سوچ و بچار نظر نہیں آتی.بڑی بد قسمتی کی بات ہے جب ہر طرف راستے بند ہوجائے توعوام عدالتوں کا رخ کرتے ہیں ایڈوکیٹ جنرل نے جامع رپورٹ پیش کرنےکیلئے مہلت طلب کرلی.۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔/169
اہم: اس پٹیشن کو منطقی انجام تک پہنچانے کے لئے 10 لاکھ ووٹوں کی ضرورت ہے مگر کیا کیا جائے کہ ابھی تک چالیس ہزار افراد نے بھی ووٹ نہیں دیا۔ فارورڈ کریں امام زمانہ (عج) کے صدقے۔ پلیز