ابنا: امریکی صدر نے دعوی کیا ہے کہ اسامہ بن لادن کی لاش کی تصویر ذرائع ابلاغ میں نشر کرنے سے لوگوں کے جذبات بھڑکيں گے اور اس سے امریکی قومی سلامتی کو خطرہ لاحق ہوسکتا ہے ۔ امریکی صدر باراک اوبامہ کے اس تازہ ترین بیان سے ان شکوک و شبہات کو پہلے سے بھی زیادہ تقویت مل رہی ہے کہ ایبٹ آباد میں اسامہ بن لادن کو ہلاک کرنے کی امریکی کاروائی محض ایک ڈرامہ ہے، اور اب یہ ابہام مزید جڑ پکڑ جائے گا۔ اسامہ بن لادن کو مارنے کے تعلق سے جس طرح کی کاروائی کی خبریں مل رہی اور خود امریکی حکام کے بیانات میں جو لاتعداد تضادات پائے جارہے ہيں ان سے دنیا کے لوگ پہلے ہی مشکوک تھے ۔ عالمی ماہرین پہلے دن سے ہی اس پورے واقعہ پر سوالیہ نشان لگارہے ہيں اور اسامہ کو امریکیوں کے ہاتھوں ہلاک کئے جانے کے دعوے کسی کے بھی حلق سے نیچے نہیں اتر رہے ہيں۔ ماہرین کا امریکہ سے یہ مطالبہ ہے کہ اگر وہ اپنے اس دعوے میں سچا ہے تو اسے چاہئے کہ وہ اس سلسلے میں ٹھوس ثبوت وشواہد پیش کرے ۔بن لادن کے بارے میں بہت سے ماہرین کا کہنا ہے کہ بلاشبہہ اسامہ بن لادن ایک شخص اور کردار کانام ضرور ہے مگر یہ وثوق سے ہرگز نہيں کہا جاسکتا کہ وہ دو مئی دوہزار گیارہ تک زندہ تھا بہت سے ماہرین کا کہنا ہے کہ اسامہ بن لادن شدت مرض کے باعث کافی عرصے پہلے ہی مرچکا تھا اور اس بات کو امریکی حکام بھی اچھی طرح جانتے ہيں اس سے بھی دلچسپ بات یہ ہے کہ ماہرین کے ایک گروہ کا یہ بھی کہنا ہے کہ اسامہ بن لادن کو ہلاک ہی نہيں کیا جاسکا ہے بلکہ امریکی حکومت نے ایک ڈرامہ رچا ہے جس کے لئے اس نے اسامہ کی ہلاکت کی خبریں نشر کردی ہیں اسی لئے مبصرین کا کہنا ہے کہ ان تمام فرضیات کو اسی وقت جھٹلایا جاسکتا ہے جب امریکی حکام کی طرف سے ناقابل انکار ثبوت وشو اہد دنیا والوں کے لئے پیش کئے جائيں گے۔ مگر یہاں تو عالم یہ ہے کہ امریکی صدر باراک اوبامہ یہ کہہ چکے ہيں کہ اسامہ بن لادن کی لاش کی تصویر عام نہيں کی جائے گی اگر چہ اس سے پہلے سی آئي اے کے سربراہ لئون پنیٹا نے کہا تھا کہ وقت پر تمام ثبوت و تصاویر عالمی رائے عامہ کے لئے پیش کردی جائيں گي ۔ ایک خبر یہ بھی ہے کہ اسامہ کی لاش بحیرہ عرب میں بہا دی گئي ہے۔ امریکی حکام کی کوشش ہے کہ وہ ڈی این اے ٹسٹ کے ذریعہ بن لادن کی ہلاکت کا ثبوت رائے عامہ کے سامنے پیش کریں ۔ اس کے علاوہ ابھی تک اس سوال کا جواب نہيں دیا گیا ہے کہ کاروائی کے وقت اسامہ بن لادن اسلحے سے لیس تھا یا نہیں ؟ اور امریکی کمانڈوز نے اسے گرفتار کیوں نہيں کیا ؟ یقینی طور پر اگر اسامہ بن لادن کو کیمرے کے سامنے پیش کیا جاتا تو اس وقت اس کی ہلاکت یا موت کو لے کر جو شکوک وشبہات پائے جاتے ہيں وہ بر طرف ہوجاتے ۔ البتہ یہ بھی امکان تھا کہ بن لادن عدالت کے سامنے ایسے بیانات دے دیتا جو امریکی حکام کی مرضی کے خلاف ہوتے مگر یہ بھی سوال اٹھتا ہے کہ کیا امریکیوں میں اتنی جرائت بھی ہے کہ وہ اسامہ کو عدالت کے سامنے پیش کریں ؟ ممکن ہے انہی وجوہات کی بنا پر ہی امریکی کمانڈوز نے اپنے حکام بالا کے کہنے پر اسامہ کو جو غیر مسلح تھے قریب سے پیشانی پر گولی ماردی( اگر اس فرض کو مان لیا جائے کہ اسامہ دو مئی دوہزار گیارہ کو ہی مارا گیا ہے) ۔ اس کے علاوہ اسامہ بن لادن کی ہلاکت کی خبروں کے بعد پاکستان کے سلسلے میں امریکی حکام کے جو بیانات سامنے آرہے ہيں وہ جہاں پاکستانی حکام کے لئے شرمندگی کا باعث ہيں وہیں تشویشناک بھی ہيں ۔ امریکی حکام نے اپنے تازہ ترین بیان میں کہا ہے کہ امریکہ پاکستان کے علاقوں میں کاروائی کا حق محفوظ رکھتا ہے ۔ اس بیان سے پاکستان کے اندر یہ اندیشہ بڑھ گیا ہے کہ امریکہ ایک سوچے سمجھے منصوبے کے تحت پاکستان کو دہشت گردوں کی پناہ گاہ قراردینے کی کوشش کرکے اپنے مذموم مقاصد حاصل کرنا چاہتا ہے ۔ بہرحال ایسا لگتا ہے کہ گیارہ ستمبر کے واقعات کے حقائق کو چھپانے کے سلسلے میں امریکی حکومت کی کوششیں بدستور جاری ہیں۔ جس طرح امریکہ نے گیارہ ستمبرکے واقعات کی بعض رپورٹوں کو انتہائی حساس اور خفیہ کہہ کر منظرعام پرلانے سے گریز کیا ہے اسی طرح وہ اسامہ بن لادن کی لاش کی تصویر کو بھی نشر کرنے سے انکاری ہے۔ امریکی حکومت کی طرف سے واقعات کی پردہ پوشی اور انہيں چھپانے کا واقعہ صرف گیارہ ستمبر اور بن لادن کے واقعہ سے ہی مخصوص نہيں ، بلکہ امریکی تاریخ کے سب سے متنازعہ اور ہنگامہ خیز قتل یعنی سابق امریکی صدر جان اف کنیڈی کے قتل کا راز بھی ابھی تک امریکی حکومت نے برملا نہيں کیا ہے اسی لئے گیارہ ستمبر اور بن لادن کی ہلاکت کے واقعات کے بارے میں بھی کہا جارہا ہے کہ حقائق شاید برسوں سامنے نہ آسکیں ۔۔۔۔۔۔۔
/110