3 مئی 2011 - 19:30

نمازیں پڑھ كر خود مقرب بارگاہ بن جانا امت كا كام ہے - اور نماز سے كائنات كو منور كرنا بنت رسول (ص) كی منزل ہے۔

شخصیت حضرت زھراء سلام اللہ علیہافاطمہ (س) کی جبین پر پیغمبر اسلام (ص) بوسہ دیتے تھے۔ان کے احترام میں حضور (ص) کھڑے ہوجاتے  اور جگہ بٹھا لیتے تھے ۔حضرت فاطمہ (س) بیٹی ہو نے کے رشتے سے رسول خدا (ص) کی وارث ہیں،امیرالمؤمنین (ع) کی رفیق زندگی ہونے كے اعتبار سے شریك امامت ہیں،ام الائمہ ہیں اس لئے ہر امام كے كمال و جمال كی آئینہ دارہیں،جو كچھ گیارہ اماموں كے كردار سے ظاہر ہو نے والا ہےاس كا پرتو معصومہ عالم كی زندگی میں جلوہ گر ہے۔اٹھارہ سال كی مختصر عمر میں مصائب و آلام كی یہ كثرت كہ خود اپنے حال كا مرثیہ پڑھا

صُبَّت عَلَیَّ مصائبُ لَو اَنَّہا            صُبَّت عَلَی الاَیّامِ صِرنَ لَیالِیاً

مجھ پر اتنے مصائب ڈالے گئے كہ اگر دن پر پڑتے تو راتوں كی طرح تاریك ہوجاتے۔لیكن بنت رسول (ص) كے صبر اور استقلال کا عالم  یہ رہا کہ  نہ ذاتی اوصاف و كمالات میں كوئی فرق آیا نہ خدمت مذہب وملت سے انحراف فرمایا،قوم ستاتی رہی اور سیدہ ہدایت کی دعائیں دیتی رہیںدنیا گھر جلاتی رہی اور فاطمہ (س) فرض تبلیغ ادا كرتی رہیںتاریخ گواہ ہے كہ نہ اس شان كا باپ دیكھا ہے نہ اس شان كی بیٹی، نہ اس كردار كا شوہر دیكھا ہے نہ اس عظمت كی زوجہ ، نہ اس جلالت كے بچے دیكھے ہیں نہ اس رفعت اور منزلت كی ماں ،فضیلتیں سیدہ كے گھر كا طواف كر تی ہیں۔اور عظمتیں فاطمہ كی ڈیوڑھی پر خیمہ ڈالے ہوئے ہیںمصلائے عبادت پر آگئیں تو دنیا نور عبادت سے منور ہوجاتیصبح کو ایك نور ساطع ہوتا ظہر كے وقت دوسرانور اور مغرب كے ہنگام تیسرا نور، مدینہ نور زہراسے منور ہوجاتانمازیں پڑھ كر خود مقرب بارگاہ بن جانا امت كا كام ہے اور نماز سے كائنات كو منور كر نا  بنت رسول (ص) كی منزل ہے ممکن ہےکہ ہم دنیا میں ان سے  غافل ہوجائیں لیكن وہ قیامت كے دن اپنے كرم سے غافل نہ ہوں گے جب تک دامن زہراء وا ہلبیت (ع) ہاتھ میں ہے تو جنت بھی اپنی ہے  كوثر بھی اپنا ہے خدا بھی اپنا ہے رسول بھی اپنا ہے  ایمان بھی اپنا ہے  كعبہ  بھی قرآن بھی اپنا ہے جب  ہم ان كے ہوگئے تو كل كائنات اپنی ہے شرط کہ ہے کہ اللہ کی اطاعت بھی جاری ہو کیونکہ امام باقر علیہ السلام نے فرمایا: جس نے اللہ کی اطاعت کی وہ ہمارا دوست اور ولی ہے اور جو اللہ کی نافرمانی کرے وہ ہمارا دشمن ہے۔ وضاحت یہ کہ عقیدت کافی نہیں ہے عقیدہ بنانے کی ضرورت ہے اور عقیدے کی تشکیل میں عمل کا عنصر بنیادی کردار ادا کرتا ہے ورنہ عقیدت تو اہل بیت (ع) کی نسبت کئی غیر مسلم بھی رکھتے ہیں۔محبت اہل بیت (ص) ہر مسلمان پر فرض عین ہےاللہ تعالی نے قرآن مجید میں ارشاد فرمایا: "قل لا أسالكم عليه أجراً إلا المودة في القربى" (سورة الشورى : 21 ـ 23 ).کہہ دیں اے میرے حبیب (ص): میں تم سے اپنی زحمتوں کی اجرت نہیں مانگتا سوائے اس کے کہ تم میرے قرابتداروں سے مودت و محبت کرو۔یہ آیت اہل بیت (ص) سے مودت کے وجوب کو ظاہر کرتی ہے جس پر تقریباً تمام کتب سیرت و تاریخ و حدیث و تفسیر میں تأکید ہوئی ہے اور واضح کیا گیا ہے کہ "قربی" سے مراد علی و زہرا و حسن و حسین اور ان کی ذریت علیہم السلام ہی ہیں۔ سیوطی اور دیگر سنی علماء نے ابن عباس سے روایت کی ہے کہ انھوں نے کہا: جب یہ آیت نازل ہوئی (قل لا أسالكم عليه أجراً إلا المودة في القربى) تو اصحاب نے عرض کیا: یا رسول اللہ (ص)! آپ کے یہ قرابتدار کون ہیں جن کی محبت اللہ تعالی نے ہم پر واجب ہے؟۔رسول اللہ (ص) نے فرمایا: "علي وفاطمة وولداهما" = یعنی علی اور فاطمہ اور ان کے دو بیٹے میرے وہ قرابتدار ہیں جن کی مودت مسلمانوں پر فرض کردی گئی ہے۔

(الدر المنثور ـ السيوطي 6 : 7 ، یہ حديث ان منابع میں بھی منقول ہے : فضائل الصحابة ـ أحمد بن حنبل 2 : 669 ـ 1141 . والمستدرك على الصحيحين 3 : 172 . وشواهد التنزيل ـ الحسكاني 2 : 130 من عدّة طرق . والصواعق المحرقة ـ ابن حجر : 170 . وتفسير الرازي 27 : 166 . ومجمع الزوائد ـ الهيثمي 9 : 168 . والكشاف ـ الزمخشري 4)

یہ آیت مودت اہل بیت (ع) کو فرض قرار دیتی ہے اور رسول اللہ (ص) کی حدیث اہل بیت (ع) اور قرابتداروں کے مصادیق کو واضح کرتی ہے۔ فخر رازی نے تین طرح سے اس حقیقت پر استدلال کیا ہے۔ انھوں نے زمخشری سے حدیث نقل کرنے کے بعد لکھا ہے: پس ثابت ہوا کہ یہ چار ذوات مقدسہ (علي وفاطمة و حسن و حسین علیہما السلام) نبی صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کے قرابت دار ہیں اور جب ثابت ہوچکا کہ یہ چار ہستیاں قرابت داران رسول اللہ (ص) ہیں تو یہ بھی ثابت ہوچکا کہ یہ ہستیاں زیادہ سے زیادہ تعظیم و تکریم اور محبت و مودت کے مستحق ہیں۔ فخر رازی کی دلیلیں:الاَول: اللہ کا یہ ارشاد گرامی کہ: ﴿لا أسالكم عليه أجراً إلاّ المودَّةَ في القُربَى﴾.الثاني: اس میں کوئی شک نہیں ہے کہ رسول اللہ (ص) فاطمہ سلام اللہ علیہا سے محبت فرمایا کرتے تھے اور آپ (ص) نے فرمایا: فاطمہ میرے وجود کا ٹکڑا ہیں وہ شخص مجھے اذیت دیتا ہے جس نے فاطمہ (ص) کو اذیت دی۔ اور احادیث متواترہ سے ثابت ہے کہ رسول اللہ (ص) علی و حسن و حسین علیہم السلام سے محبت فرمایا کرتے تھے اور جب یہ بات ثابت ہوئی تو یہ بھی ثابت ہوچکا کہ پوری امت پر بھی اسی طرح کی محبت و مودت فرض ہے۔ کیونکہ اللہ تعالی نے فرمایا ہے کہ: "واتَّبعُوهُ لَعلَّكُم تَهتَدُونَ" = رسول اللہ (ص) کے قول و فعل کی پیروی کرو امید ہے کہ تم ہدایت پاؤ۔ (سورة النور : 24 ـ 63) اور یہ کہ اللہ تعالی نے ارشاد فرمایا: لَّا تجَْعَلُواْ دُعَاءَ الرَّسُولِ بَیْنَكُمْ كَدُعَاءِ بَعْضِكُم بَعْضًا قَدْ یَعْلَمُ اللَّهُ الَّذِینَ یَتَسَلَّلُونَ مِنكُمْ لِوَاذًا فَلْیَحْذَرِ الَّذِینَ یخَُالِفُونَ عَنْ أَمْرِهِ أَن تُصِیبهَُمْ فِتْنَةٌ أَوْ یُصِیبهَُمْ عَذَابٌ أَلِیمٌ؛ رسول اللہ (ص) کی دعوت کو آپس کی معمولی دعوت نہ سمجھو، اللہ تعالی تم میں سے ان لوگوں کو خوب جانتا ہے جو ایک دوسرے کی آڑ میں کھسک جاتے ہیں، پس وہ لوگ جو رسول اللہ (ص) کے احکام کے خلاف امر کرتے ہیں انہیں ڈرنا چاہئے ان فتنوں سے یا اس دردناک عذاب سے جو اس طرح کے اعمال کی بنا پر ان پر نازل ہوسکتا ہے۔ (سورة النور آیت 63)الثالث: آل بیت نبی (ص) کے لئے دعاء ایک عظیم منصب و مرتبہ ہے اسی وجہ سے اللہ تعالی نے نماز میں تشہد کا اختتام قرار دیا ہے اور ہم پر فرض ہے کہ نماز میں تشہد کے بعد "اللهم ّصلِّ على محمد وآل محمد" ضرور پڑھا کریں اور یہ تعظیم آل کے بغیر کسی اور کے لئے نہیں پائی جاتی، پس یہ سب حقائق حبِّ محمد و آل محمد (ص) کے واجب ہونے کی دلیل ہیں۔

(تفسير الرازي : 27 | 166)

لیکن کیا امت نے اپنے اس فریضے پر عمل کرکے بھی دکھایا؟امت مسلمہ اور اجر رسالت کی ادائیگیپیغمبر اسلام (ص) كی رحلت كے بعد بعض صحابہ حضرت فاطمہ (س) كے گھر كی حرمت پامال كرنے پر كمر بستہ ہوگئےخانہ وحی پر مسلسل حملے ہوئے اور انہیں مسلسل دھمکیاں ملیں اور گھر کے دروازے کو آگ لگائی گئی اور سیدہ شدید زخمی ہوئیں اور بیٹے محسن سقط ہوئے۔خلافت كو آنحضور كے گھر سے نكال كر اپنے گھر لے گئےفدک جو رسول اللہ (ص) نے سورہ حشر کی چھٹی آیت میں اللہ کے حکم کے تحت اپنی بیٹی کو بخش دیا تھا کو غصب کرلیا اور اللہ کے حکم میں ترمیم کرکے "ہبہ" کو "ارث" قرار دیا اور پھر بھی اللہ کے حکم میں ترمیم کرنے کے لئے حدیث وضع کرکے اعلان کیا کہ رسول خدا ترکہ نہیں چھوڑا کرتے!۔خلافت كو ملوكیت كا لباس پہنا كر اسلام كا شیرازہ بكھیر دیاوہ بی بی جس كی جبیں پر پیغمبر اسلام بوسہ دیتے تھےجس كے احترام میں حضور كھڑے ہوجاتے تھےجن كے بارے میں حضور (ص) نے اصحاب سے بار بار كہا کہفاطِمَۃُ بَضْعَۃٌ مِنّی مَنْ  أٰذاھَاا فَقَدْ آذانِیفاطمہ میراٹکڑا ہے جس نے اس كو اذیت دی اس نے مجھ كو اذیت دیفاطمہ كی عظمت كو حضور (ص) نے بارہا اصحاب كے سامنے بیان فرمایا   لیكن پیغمبر اسلام (ص)كی رحلت كے بعد بعض اصحاب نے حضور كی تمام وصیتوں كو پس پشت ڈال دیا۔سقیفہ كے ٹھیکیداروں  نے امت كو تہتر فرقوں میں تقسیم كردیا ؟جیسا کہ پیغمبر اسلام (ص) نے فرمایا تھا كہ "میری امت میں تہتر فرقے ہونگے جن میں سے ایك جنت میں جائے گا باقی جہنمی ہونگے"۔امت نے آپ (ص) بیٹی كو اتنا ستایا كہ فاطمہ زہرا (س) نے وصیت كی كہ میرے جنازے میں ان  كو شركت نہ كرنے دی جائے جنہوں نے میرا حق غصب كیا اور مجھ پر ظلم و ستم كے پہاڑ توڑے ہیں۔زہراء (س) نے  اپنے ستانے والوں سے مرتے دم تك كلام نہیں كیا۔حق جو ادا کیا تھا ان امتیوں نے اجر رسالت کا!!!بعض دشمنوں نے اپنی زندگی كے آخری ایام میں اعتراف كیا كہ كاش میں نے نبی اكرم (ص)كی بیٹی كو پریشان نہ كیا ہوتا،آہ ! میں نے اپنی بیٹی كا تو احترام كیا اور سركار دوعالم كی بیٹی كو خون كے آنسو رلائے،جب نبی مكرم (ص) اپنی فاطمہ (س) كے بارے میں مجھ سے سوال كریں گے تو میں كیا جواب دوں گا؟یہی كہوں گا كہ میں نے اور میرے ساتھیوں نے امت كو متحد كرنے كے لئے خلافت كو آپ (ص) كے اور علی (ع) و فاطمہ (ع) كے گھر سے نكال لیا، فدك كو فاطمہ سے چھین كر بیت المال میں شامل كرلیا، فاطمہ (س) فدك كا مطالبہ كرتی رہیں آپ (س) علی (ع) و ام ایمن اور حسن و حسین (ع) كو گواہی كے طور پر پیش كیا لیكن میں نے صاحبان منصب تطہیر کی بھی اور جنت کی بشارت پانے والی ام ایمن کی گواہی مسترد كردی، فاطمہ (س) روتی رہیں اور میں دیكھتا رہا، علی (ع) گریہ كرتے رہے اور میں دیكھتا رہا، حسن اور حسین (ع) سسكیاں لیتے رہے اور میں دیكھتا رہا۔

ایام فاطمیہ ، ایام عاشورائے فاطمی در کربلا ئے سقیفہ

فضائل حضرت زھراء سلام اللہ علیہاالباقر (ع): لَمَّا وُلِدَتْ فَاطِمَةُ جب زھراء (س) پیدا ہوئیںأَوْحَى اللَّهُ إِلَى مَلَكٍ تو خدا نے ایک فرشتہ کو وحی کیفَأَنْطَقَ بِهِ لِسَانَ مُحَمَّدٍ فرشتے نے زبان رسول(ص) پہ فاطمہ (س) جاری کیافَسَمَّاهَا فَاطِمَةَ تو رسول (ص) نے انکا نام فاطمہ رکھاثُمَّ قَالَ پھر خدانے فرمایا (اے فاطمہ)إِنِّى فَطَمْتُكِ بِالْعِلْمِ میں نے تجھے علم پلاکر {جہل سے جدا کیا}یعنی: زھراء کا دودھ چھڑانا علم کے ساتھ تھا۔وَ فَطَمْتُكِ مِنَ الطَّمْثِ میں نے تجھے (ماہانہ آلودگی سے) چھڑا دیاثُمَّ قَالَ أَبُو جَعْفَرٍ وَ اللَّهِ پھر امام باقر (ع) نے فرمایا: قسم بخدالَقَدْ فَطَمَهَا اللَّهُ بِالْعِلْمِ وَ عَنِ الطَّمْثِ فِى الْمِيثَاقِخدانے انہیں علم کے توسط سے جہالت اور زنانہ آلودگیوں سے جدا کردیا {اصول كافى جلد 2 صفحه 358 روايت 6}امام باقر (ع) کا قسم کھانا اس لیے ہے کہ لوگ یہ گمان نہ کریں کہ امام