30 اپریل 2011 - 19:30

اسرائیل نے گزشتہ ہفتے فلسطینی تنظیموںحماس اور فتح کے درمیان سمجھوتے پر شدید برہمی کا اظہار کرتے ہوئےفلسطینی اتھارٹی کو ٹیکسوں سے وصول ہونے والی رقم کی منتقلی روک دی ہے۔

ابنا: اسرائیل نے گزشتہ ہفتے فلسطینی تنظیموںحماس اور فتح کے درمیان سمجھوتے پر شدید برہمی کا اظہار کرتے ہوئےفلسطینی اتھارٹی کو ٹیکسوں سے وصول ہونے والی رقم کی منتقلی روک دی ہے۔اسرائیل کے وزیر خارجہ نے کہا ہے کہ وہ کسٹم اور دیگر محصولات کی فراہمی فلسطینی اتھارٹی کو روک رہے ہیں۔اسرائیل کے وزیر دفاع ایہود براک نے ہفتے کو اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل بان کی مون سے حماس اور فتح کے درمیان ہونے والے معاہدے پر تشویش کا اظہار کیا۔واضح رہے کہ مصر نےحماس و فتح کے درمیان سمجھوتہکرایا ہے اور یہ سمجھوتہ  فلسطینیوں کی بہت بڑی  کامیابی ہےکیونکہ امریکہ و اسرائیل ہمیشہ فلسطینیوں کو آپس میں لڑاتے رہے ہیں امریکہ مصر کے سابق ڈکٹیٹر حسنی مبارک کے ذریعہ فلسطینیوں میں اختلاف ڈالتا رہا ہے۔ ایران نے اس معاہدے کا خیر مقدم کیا ہے جبکہ امریکہ اور اس کے اتحادی عرب حکام اس معاہدے پر ناخوش ہیں۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔169