اہل البیت (ع) نیوز ایجنسی ـ ابنا ـ کی رپورٹ کے مطابق بحرین کے نہتے عوام کو بے رحم آل السعود، آل خلیفہ، آل ثانی، آل نہیان کے ظالم جلادوں کا سامنا ہے؛ وہ بچوں کو قتل کرتے ہیں، جیلوں میں تشدد کرکے لوگوں کو قتل کرتے ہیں، خواتین کو اغوا کرتے ہین، مساجد اور حسینیات کو شہید کرتے ہیں اور قرآن و دینی کتب کو نذر آتش کرتے ہیں اور طالبات کو بے پردہ کرتے ہیں۔ انھوں نے سینکڑوں افراد کو پابند سلاسل کردیا ہے اور سینکڑوں افراد کو اغوا کرلیا ہے جو لاپتہ ہیں اور نہ ان کا اور نہ ہی قیدیوں کا اپنے اہل خانہ سے کوئی رابطہ نہیں ہوسکا ہے۔ شیعیان بحرین پر ظلم و جبر میں عرب دنیا کے تمام حکمران اور وعاظ السلاطین نیز ذرائع ابلاغ یکسان طور پر ملوث ہیں اور وہ نام نہاد عرب دانشور اور آزادی فکر کے دعویدار عرب ذرائع ابلاغ ـ جو مصر اور تیونس کے عوامی انقلاب کو جائز قرار دیتے ہیں - بحرین کے عوامی انقلاب کو جائز قرار نہیں دیتے اور اس کا سبب صرف اور صرف یہی ہے کہ بحرین میں اکثریت شیعیان اہل بیت (ع) کی ہے۔ عرب ممالک میں مطلق العنان حکمرانوں سے چار پیسے لے کر بعض اسلامی ممالک کی نام نہاد جمہوری حکومتیں بھی بحرین اور حتی یمن میں عوامی اور جمہوری تحریکوں کا گلہ گونٹنے کے لئے فوجی دستے بھیج رہے ہیں جبکہ یہ ممالک ہماری دسترس سے خارج ہیں۔
بحرین میں اب تک آل سعود کے درندوں سمیت آل خلیفہ کے بیرونی کرائے کے غنڈوں نے اب تک 20 مساجد اور 17 امام بارگاہیں شہید کر دی ہیں اور یہ سلسلہ بھی مسلسل جاری ہے اور آح علمائے بحرین نے آل خلیفہ حکومت اور آل سعود کے قابض درندوں سے مقدس مقامات کے انہدام کا سلسلہ فوری طور پر بند کرنے کا مطالبہ بھی کیا ہے۔ دریں اثناء بحرین کی سب سے بڑی سیاسی جماعت الوفاق نیشنل اسلامک سوسائٹی نے مسلمانان عالم سے روزہ رکھنے کی اپیل کی ہے۔ الوفاق کے بیان کے مطابق 21 اپریل اسیروں کے اہل خانہ سے اظہار یکجہتی اور ان کے دکھ درد میں شریک ہونے کے لئے ان سے ملاقات کی جائے گی-الوفاق نے اپیل کی ہے کہ اسیروں اور بے گناہ قیدیوں کی رہائی کے لئے خصوصی دعاﺅں کا اہتمام کیا جائے اور بحرین کی مظلوم شہداء کی پاک ارواح کے ایصال ثواب کے لئے دعا کریں۔ بحرین کی سب سے بڑی سیاسی جماعت الوفاق نے عوام سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ اسیروں کے خاندانوں سے ہر ممکن تعاون جاری رکھیں۔
الوفاق نے اپیل کی ہے کہ روزے کا ثواب شہدائے بحرین کے لئے ہدیہ کرکے پیش کیا جائے۔بحرین ہماری دسترس سے خارج ہے تاہم ہم ان کی حمایت کے لئے تمام ممکنہ اقدامات بجا لاتے ہیں، ان کے حق میں مظاہرے کرتے ہیں، ان کے لئے ذرائع ابلاغ میں کام کرتے ہیں اور ان کی مظلومیت و حقانیت اجاگر کرتے ہیں ان کے لئے جوشن صغیر کی مجالس بپا کرتے ہیں اور اب ہم ان سے یکجہتی کے اظہار اور ان کے مسائل کے حل کے لئے ایک بار پھر اللہ تعالی کی طرف رجوع کرتے ہیں اور ہمیشہ کی دعاؤں کے ساتھ ساتھ کل جمعرات کو غاصبین اور قابضین سے بحرینی سرزمین کی آزادی اور بحرینی عوام کی جائز حاجات کی برآوردگی کے لئے روزہ رکھتے ہیں اور دعائیہ مجالس منعقد کرتے ہیں۔یادرہے کہ ہم اگر دعا اور احتجاج بھی نہ کریں تو ہم نہ تو حسینی ہوسکیں گے اور نہ ہی زینبی ہوں گے بلکہ... بحرینی عوام ہم سے جوشن صغیر کی محافل بھی مسلسل جاری رکھنے کی امید رکھتے ہیں۔۔۔۔۔۔۔
/110
- بحرینی مظلومین کے لئے دعائے جوشن صغیر / ایس ایم ایس بھیج کر دوسروں سے بھی درخواست کریں