16 اپریل 2011 - 19:30

بحرین کے تعلق سے امریکہ اور مغرب کے دہرے روئیے اور عرب لیگ کے دوغلے پن نے علاقے مسلمان عوام کے سامنے ان کی حقیقی ماہیت کو ایک بار پھر عیاں کردیا ہے۔

ابنا: علاقے کی رائے عامہ اور انصاف پسند مبصرین کے لئے یہ سوال معمہ بن گیا ہے کہ یہ کیونکر ممکن ہے کہ سعودی عرب کی بحرین میں کھلی فوجی مداخلت کو نظر انداز کیا جائے اور ایران کی جانب سے بحرینی عوام کی اخلاقی حمایت کو مورد تنقید بناکر اسے مداخلت قرار دیا جائے۔
واضح رہے کہ ایران کے وزیر خارجہ علی اکبر صالحی نے بحرین کے عوام کے قتل عام کو رکوانے کےلئے سلامتی کونسل کے موثر اور فوری اقدامات کی ضرورت پر زور دیا ہے۔
علی اکبر صالحی نے اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل بان کی مون اور سلامتی کونسل کے سربراہ کے نام اپنے علیحدہ علیحدہ خطوط میں اس بات پر افسوس کا اظہار کیا ہے اور کہا ہے کہ محسوس ہو رہا ہے کہ سلامتی کونسل بحرینی عوام پر تشدد کو  نظر انداز کررہی ہے اور اس نے اس سلسلےمیں ضروری اقدامات نہيں کئے ہیں جبکہ اسی طرح کے حالات دیگر ملکوں میں بھی پیش آرہے ہیں اور سلامتی کونسل نے ان کے تعلق سے بالکل مختلف رویہ اپنایا ہے۔
انھوں نے کہا کہ بحرین کا بحران فوجی اقدامات سے حل نہیں کیا جاسکتا اور نہ ہی دوسرے ملکوں کی افواج کے ہاتھوں عوام کی سرکوبی سے ہی حل ہوسکتا ہے بلکہ ان اقدامات سے بحران میں مزید شدت آئے گي، عوام کے جذبات مجروح ہونگے اور حالات بے قابو ہوجائيں گے۔
اسلامی جمہوریہ ایران کے وزیرخارجہ نے ایران اور بحرین کی قوموں کے دیرینہ تاریخی اور مذہبی تعلقات کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ ایران، بحرین کے حالات اور اس کے نتائج کو  نظر انداز نہيں کرسکتا۔
انھوں نے کہا ہے کہ اگر بحرین کے مسائل عوام کی امنگوں کے مطابق، اور منطق و انصاف کی اساس پر حل نہ کئےجائيں تو حالات قابو سے باہر ہو جائيں گے اور خلیج فارس کا علاقہ عدم استحکام کا شکار ہوجائے گا۔
اس میں شک نہیں کرنا چاہیے کہ عوامی بیداری کی لہر اپنے اندر اسلا می افکار لے کر اٹھی ہے اور یہ وہی چیز ہی کہ جس کا مشاہدہ 32 برس قبل لوگ اسلامی انقلاب کی شکل میں کرچکے ہیں، سامراجی طاقتیں اور ان کی پٹھو حکومتیں اس چیز سے خائف ہیں اور انھوں نے ان عوامی اور انقلابی تحریکوں کو کچلنے کی راہ اختیار کرکے در اصل اپنے مفادات کو خطرے میں ڈال دیا ہے اور بعید از قیاس نہیں ہے کہ قوموں کو کچلنے سے پہلے وہ خود اپنے منطقی انجام کو پہنچ جائیں۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
/110