15 اپریل 2011 - 19:30

آل خلیفہ کی وزیر داخلہ راشد بن عبداللہ آل خلیفہ نے اعلان کیا ہے کہ اہل بیت اطہار علیہم السلام کے لئے ہر قسم کی عزاداری کا انعقاد حسینیات اور مساجد میں ہی نہیں بلکہ گھروں میں بھی منع ہے!۔ / بحرینی عوام نے حضرت سیدہ (س) کی شہادت کی مناسبت سے مجالس کا اہتمام کیا ہے اور قابضین و غاصبین عزاداروں پر وحشیانہ حملے کررہے ہیں۔

اہل البیت (ع) نیوز ایجنسی ـ ابنا ـ کی رپورٹ کے مطابق آل خلیفی حکومت نے جبر کی انتہا کرتے ہوئے عزاداری پر بھی پابندی لگائی ہے۔اس رپورٹ کے مطابق وزیر داخلہ نے عزاداری کے لئے سزا کا بھی اعلان کیا اور کہا کہ جو بھی عزاداری کی مجلس بپا کرے گا اس کو قید اور جرمانے کی سزا بھگتنا ہوگی۔ بحرین میں حال ہی میں متعدد مساجد اور حسینیات کو شہید کیا گیا ہے اور آل خلیفی وزیر داخلہ نے کہا کہ ہر محلے کے لئے ضرورت کے مطابق مساجد اور حسینیات کا تعین کیا جائے گا اور جو مساجد اور امام بارگاہین اضافی سمجھی جائیں گی انہیں گرادیا جائے گا۔ کل بحرین کے شہر حَمَد میں فدک الزہراء (س) مسجد کو شہید کیا گیا اور اللہ کے گھر کی بے حرمتی کے ساتھ قرآن مجید اور دعاؤں کی کتابوں کو بھی شہید کیا گیا۔کل بھی ایک مسجد کو شہید کیا گیا جبکہ ایک مسجد کی بے حرمتی کی گئی اور قرآن مجید اور دعاؤں کی کتباییں شہید کی گئیں۔ ان واقعات میں آل سعود کے گماشتے خاص طور پر حصہ لیتے ہیں۔یادرہے کہ آل خلیفی حکومت نے سیدہ عالمین حضرت بی بی فاطمہ الزهراء سلام اللہ علیہا کی شہادت کے سلسلے میں مجالس پر خاص طور پر پابندی لگائی ہے کیونکہ یہ مجالس ان کے سعودی آقاؤں کو ہرگز پسند نہیں ہیں۔خاک بسر اس کی جس کے آقاؤں کے بھی آقا ہوتے ہیں!!!

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

اپڈیٹ:

تہران کے وفت کے مطابق رات 22:45 بجے ملنے والی رپورٹ کے مطابق آل سعود اور آل خلیفہ کے کرائے کے درندوں نے دارالحکومت منامہ میں شہادت حضرت فاطمة الزهراء سلام الله علیہا کے سلسلے میں منعقدہ مجالس پر حملے شروع کئے ہیں اور عزاداران دختر رسول (ص) پر آنسو گیس بموں اور شیلوں کا بے تحاشا استعمال کررہے ہیں۔ 

درندوں کے ان حملوں میں متعدد عزادار زخمی ہوگئے ہیں۔

تفصیلات کا انتظار ہے لیکن اس رپورٹ کی خاص بات یہ ہے کہ بحرین کے انقلابی عوام نے آل خلیفی وزیر داخلہ کی دھمکیوں کو نظر انداز کرتے ہوئے پورے ملک میں حضرت سیدہ (س) کی شہادت کی مناسبت سے مجالس کا اہتمام کیا ہے۔