ابنا: ایک ایسی دنیا میں جہاں قانونی طور پر کسی بھی ملک کا دوسرے ملک پر حملہ یا اور اس میں فوجی مداخلت غیرقانونی اور جارحیت شمار ہوتی ہے اور عالمی سطح پر اس اقدام کی مذمت کی جاتی ہے سعودی عرب جیسے ملک کے حکومتی اہلکار جو خود کو مسلمان کہتے نہيں تھکتے آزاد و خودمختار ملک بحرین میں فوجی مداخلت اور اس ملک کے عوام کے قتل عام کو اپنا قومی فریضہ سمجھتے ہيں۔ یہی نہیں قرآن کریم میں جہاں صاف لفظوں میں انسانوں اور بالخصوص مسلمان کے ہاتھوں مسلمان کے قتل کو ایک پوری قوم کا قتل قراردیا گیا ہے اور اس کی سختی سے مخالفت و مذمت کی گئی ہے سعودی عرب کی فوجیں انتہائی بے دردی کے ساتھ بحرین کے مسلمانوں کا قتل عام کررہی ہيں سعودی عرب کی پارلیمنٹ کے اسپیکر شیخ عبداللہ بن محمد ابراہیم آل شیخ نے کہا ہےکہ بحرین میں لشکر کشی ہمارا قومی فرض ہے۔

العالم کی رپورٹ کے مطابق سعودی عرب کی پارلیمنٹ کے اسپیکر نے بحرین میں سعودی فوجوں کی لشکر کشی اور اس ملک کے پرامن مظاہرین کو کچلنے کے سعودی عرب کے فوجیوں کے اقدام کا جواز پیش کرتے ہوۓ کہا ہےکہ ریاض، بحرین میں امن و امان کی برقراری کو اپنا فرض سمجھتا ہے ۔ واضح رہے کہ سعودی عرب نے بحرین میں اپنے جائز حقوق کا مطالبہ کرنے والے پرامن مظاہرین کو کچلنے کے سلسلے میں اس ملک کی ڈکٹیٹر حکومت کو مدد فراہم کرنے کے لۓ اپنے فوجی بحرین بھیجے ہیں۔ اس سے پہلے انیس سو نوے میں صدام نے جس کو خود امریکہ اور مغربی ملکوں نے ایران کے خلاف اکساکر ایران پر حملہ کرایا تھا اور اس کو پروان چڑھایا تھا جب کویت جیسے آزاد و خود مختار ملک پر حملہ کرکے اس قبضہ کرلیا تھا تو امریکہ اور اس کے علاقائي اتحادیوں نے پوری طرح سے اس جارحانہ اقدام کو غیرقانونی اور ایک آزاد ملک پر حملہ بتایا تھا اور حقیقت بھی یہی تھا ۔ صدام کے ذریعہ کویت پر چڑھائی کردیئے جانے کے بعد اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کا ہنگامی اجلاس بلایا گیا اور اس کے نتیجے میں امریکہ کی زیر سرکردگی بین الاقوامی فوج نے کویت کو صدام کے قبضے سے آزاد کرانے کے لئے فوجی کاروائی کی اور یوں کویت کو جہاں صدام کےقبضے سے آزادی ملی وہيں امریکہ اور اس کے مغربی اتحادیوں نے اپنے اس کام کی بڑی بھاری قیمت بھی کویت عراق اور حتی علاقے کی عرب حکومتوں سے وصول کی ۔ اس کے بعد سے آج تک علاقے میں امریکہ کی غیرقانونی موجودگی برقرار ہے امریکہ کا فوجی اڈہ سعودی عرب میں بنا بحرین میں اس کا پانچواں بحری بیڑا تعینات کیا گیا اور قطر میں بھی اس کی فوجوں نے اپنا اڈہ قائم کیا جس کی وجہ سے یہ پورا علاقہ آج کشید گی کا شکار ہے ۔ یہ سب کـچھ اس نعرے کے ساتھ کیا گیا تھا کہ کویت جیسے آزاد وخودمختار ملک کو صدام کے غاصبانہ قبضے کو آزاد کرانا بین الاقوامی برادری کی ذمہ داری ہے ۔ مگر اس کے عوض تیل کی آمدنی حاصل کرنے کا حق صرف امریکہ اور اس کے چند ایک ساتھی ملکوں کو ہی حاصل ہوا ۔ مگردوسری طرف آج جب اقوام متحدہ کے سرگرم رکن بحرین میں سعودی عرب کی فوجی مداخلت ہوئي ہے اور سعودی عرب کی فوجيں بحرین کے شہریوں کا بے دردی کے ساتھ قتل عام کررہی ہيں تو وہائٹ ہاؤس کے حکمراں بہت ہی ڈھٹائي کے ساتھ یہ کہتے ہوئے نظر آرہے ہيں کہ یہ فوجی مداخلت نہيں ہے۔بحرین میں عوام کا جس بڑے پیمانے پر قتل عام کیا جارہا ہے وہ نہ تو امریکہ کو نظر آرہا ہے اور نہ ہی مغربی ملکوں کے حکام کے ساتھ ساتھ ان کے ذرائع ابلاغ کو دکھائی دے رہا ہے ۔ انسانی حقوق کے مدافع عالمی ادارے بھی بحرین کی جیلوں میں زیر حراست سیاسی قیدیوں کی اموات پر خاموش ہيں اور خواتین کو جس طرح سے شہید کیا جارہا ہے اس پر بھی کسی ادارے کی چیخ تو کجا معمولی سا اعتراض بھی سنائي نہيں دے رہا ہے ۔ اس کی وجہ صاف ہے کہ بحرین امریکہ کے لئے اسٹریٹجک اعتبار سے بہت ہی اہمیت کا حامل ہے اس کا پانچواں بحری بیڑا وہیں تعینات جس کے ذریعہ وہ پورے علاقے پراپنا کنٹرول رکھنا چاہتا ہے اورساتھ ہی تیل سے مالا مال بحرین کو وہ اس ملک کے حقیقی مالکان کو کسی بھی صورت میں نہيں دینا چاہتا ۔ بحرین کے عوام ملک کی شاہی حکومت سے ایک ایسا مطالبہ کررہے ہيں جو دنیا کا ہر باشعور انسان اپنے لئے چاہتا ہے ۔ بحرین کا مطالبہ صرف اتنا ہی ہے کہ انہیں حق رائے دہی دیا جائے ہر شخص کا ووٹ اس کا اپنا ایک ووٹ ہو۔ وہ صرف اقتدار میں اپنی شراکت چاہتے ہيں ملک میں قانون و سیاسی امور میں اصلاح چاہتے ہیں۔ انہوں نے پوری دنیا کی نگاہوں کے سامنے اپنے اس معمولی مطالبے کےلئے جو کسی بھی شخص کا بنیادی حق ہے اپنے ہاتھوں میں پھول لے کر ریلیاں نکالیں مگر امریکہ اور اس کے علاقائی اتحادیوں نے ان کے اس پرامن مطالبے کو راکھ خون اور بارود میں تبدیل کردیا ۔کیا بحرین کے عوام کو جمہوریت کے ماحول میں سانس لینے کا حق نہيں ہے ؟ کیا وہ اس لئے جمہوری طریقے سے نہیں جی سکتے کہ وہ شیعہ مسلمان ہیں ۔ حقیقت تو یہ ہے کہ امریکہ اور سعودی عرب جیسی حکومتوں کے لئے شیعہ و سنی کی کوئی اہمیت نہيں ہے ورنہ فلسطینی مسلمانوں نے سن دو ہزار چھ میں ووٹوں کے ذریعہ حماس کی زیر قیادت منتخب حکومت تشکیل دی تھی مگرفلسطینی قوم کو اپنے اس اقدام کی سزا یہ ملی کہ غزہ گذشتہ چار برسوں سے محاصرے میں ہے غزہ کے عوام شیعہ نہيں بلکہ سنی ہيں ۔ البتہ اسرائیل اور امریکہ کی سامراجی پالیسیوں کے مخالف ضرور ہیں ۔ بنابریں سعودی عرب جیسی حکومتوں کا کام اب صرف یہ رہ گیا ہے کہ وہ اسرائیل کی بقاء اور امریکہ کے تیل اور دیگر مفادات کی حفاظت کریں یہی ان کا دین و ایمان ہے
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
/110