ابنا: ہمارے نمائندے کی رپورٹ کے مطابق منگل کے روز کابل میں اسلامی جمہوریہ ایران کے سفارت خانے میں افغانستان میں اسلامی ممالک کے سفیروں کا پہلا اجلاس منعقد ہوا جس میں علاقے میں امن و استحکام کے قیام کے سلسلے میں تعاون بڑھانے کے لئے اسلامی ممالک کے رابطہ گروپ کی تشکیل پر زور دیا گيا۔اس اجلاس میں ، جو کابل میں ایرانی سفارت خانے کی تجویز پر اور اس کی کوشش سے منعقد ہوا ، افغانستان میں اسلامی کانفرنس تنظیم کے نمائندے اور اقوام متحدہ کے خصوصی ایلچی نے بھی شرکت کی۔اجلاس کے انعقاد کے موقع پر افغانستان میں اسلامی جمہوریہ ایران کے سفیر فدا حسین مالکی نے علاقے کے حالات کے بارے میں اسلامی ممالک کے مابین صلاح و مشورے کو ضروری قراردیا۔انہوں نے ہمارے نمائندے سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ علاقے کی خاص صورت حال کے مد نظر اسلامی ممالک کے مابین مسلسل صلاح و مشورہ ضروری ہے۔
افغان عوام کے مصائب اور مسلمان ملکوں کی ذمہ داریاں سنہ 1979 میں افغانستان پر سویت یونین کے قبضے سے لیکر کابل پر مجاہدین کے تسلط تک اور پھر مجاہدین کی کابل سے بے دخلی سے لیکر طالبان کے قبضے تک اس ملک کے عوام نے جو مسائل اور مشکلات جھیلے ہیں ان کا سرچشمہ بیرونی قوتیں اور وہ ممالک ہیں جو اپنے عارضی مفادات کے لئے اس قوم کو قربانی کی بھینٹ چڑھاتے رہے ہیں اوراب جبکہ بظاہر وہاں ایک عوامی حکومت تشکیل پاچکی ہے تو بھی افغان قوم کے مصائب میں کسی قسم کی کوئی کمی دیکھنے میں نہیں آرہی ہے۔ نیٹو فورسز اور خصوصا امریکہ کی جلاد صفت فوجی سپاہی اس قوم کے ساتھ جو خونی کھیل کھیل رہے ہیں اس میں کمی کی علامات بظاہر دیکھنے کو نہیں مل رہی ہیں اور امریکی وزارت جنگ کے روح رواں مسٹر ڈیک چینی واضح کرچکے ہں کہ افغانستان سے ان کے نکلنے کا کوئی ارادہ نہیں ہے۔رابرٹ گیٹس نے کہا کہ افغانستان سے مغربی فوجیوں کے نکل جانے سے ان کی کامیابیوں پر پانی پھرجائے گا۔ سوال یہ ہے کہ وہ کون سی کامیابیاں ہیں جن پر پانی پھر جانے کا خدشہ ہے؟ اس کا ذکر تو وہ کرنے سے ہمیشہ ہی گریز کرتے ہیں لیکن افغان عوام اور عالمی رائے عامہ کو یاد ہے کہ وہ افغانستان سے طالبان اور القاعدہ کو ختم کرنے اور ملا عمر اور اسامہ بن لادن کو پکڑنے کے لئے افغانستان پر مسلط ہوئے تھے اور ان تینوں باتوں میں سے وہ ایک پر بھی عمل درامد کرنے سے قاصر رہے ہیں۔امریکی وزیرجنگ آئے دن افغانستان میں اپنی نام نہاد کامیابیوں کی باتیں کرتے رہتے ہیں جب کہ افغانستان میں امریکہ اورنیٹو کے ہاتھوں عام شہریوں کی کے قتل عام میں کئي گنا اضافہ ہوا ہے اور نیٹو کی افواج بذات خود بدامنی کا سبب بن چکی ہیں۔ بہر حال سویت یونیں کے قبضے اور اس کے بعد چاہے طالبان کا دور حکومت ہو یا افغانستان پر نیٹو کے قبضے کا زمانہ ، اسلامی جمہوریہ ایران افغان عوام کے حقیقی ہمدرد کی حثیت سے اس قوم کے مصائب آلام کو کم کرنے میں کوشاں رہا ہے۔ چنانچہ کابل میں اسلامی ملکوں کے سفیروں کے اجلاس کو اسی تناظر میں دیکھا جارہا ہے ۔ اطلاعات کے مطابق کابل میں اسلامی جمہوریہ ایران کے سفارت خانے میں افغانستان میں اسلامی ممالک کے سفیروں کا پہلا اجلاس منعقد ہوا جس میں علاقے میں امن و استحکام کے قیام کے سلسلے میں تعاون بڑھانے کے لئے اسلامی ممالک کے رابطہ گروپ کی تشکیل پر زور دیا گيا۔اس اجلاس میں ، جو کابل میں ایرانی سفارت خانے کی کی کوشش سے منعقد ہوا، افغانستان میں اسلامی کانفرنس تنظیم کے نمائندے اور اقوام متحدہ کے خصوصی ایلچی نے بھی شرکت کی۔اجلاس کے انعقاد کے موقع پر افغانستان میں اسلامی جمہوریہ ایران کے سفیر فدا حسین مالکی نے علاقے کے حالات کے بارے میں اسلامی ممالک کے مابین صلاح و مشورے کو ضروری قراردیا۔انھوں نے ہمارے نمائندے سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ علاقے کی خاص صورت حال کے مد نظر اسلامی ممالک کے مابین مسلسل صلاح و مشورہ ضروری ہے۔ بہرحال افغان عوام کے مسائل مشکلات کے حل کے لئے اسلامی ملکوں پر جو فریضہ عائد ہوتا ہے اس کا تقاضا یہ کہ سب ممالک کچھ دیر کے لئے ہی صحیح اپنے مفادات کو پس پشت ڈال کر صرف اس قوم کی فلاخ وبہود کی فکر کرے جو 33 برسوں سے ایک اچھی اور مناسب زندگی کی آرزو لئے جی رہی ہے ۔ ایک ایسی زندگی جس میں دربدری، مہاجرت اور بارود و خون کی بو کا احساس نہ ہو۔

.........
/110