اہل البیت (ع) نیوز ایجنسی ـ ابنا ـ کی رپورٹ کے مطابق سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات کے سیاسی اور فوجی و سیکورٹی حکام، فلسطینی اتھارٹی کے محمود عباس اور صہیونی ریاست کے وزیر اعظم بنیامین نتانیاہو ایک وقت میں ماسکو میں موجود تھے۔ابھی تک یہ تو معلوم نہیں ہوسکا ہے کہ سہ طرفہ چار طرفہ مذاکرات کی کیفیت کیا تھا اور ماسکو کا کردار کیا تھا لیکن لگتا ہے کہ چونکہ امریکہ اس وقت دوسرے مسائل میں گہرا ہوا ہے اسی لئے روس بھی ان حالات سے استفادہ کرتے ہوئے علاقے میں کردار ادا کرنے کی کوشش کی ہے یا پھر اس نے امریکہ کی منظوری سے ایسا کیا ہے۔اسرائیلیوں نے کہا ہے کہ بنیامین نتانیاہو کا دورہ ماسکو ضروری تھا اور اس کے مقاصد درج ذیل تھے:- اسرائیل کے لئے ایسی پالیسی کی تشکیل جو اسرائیل کے مستقبل کی ضمانت دے اور کسی بھی بیرونی دباؤ سے محفوظ رہے۔- فلسطینیوں کو اسرائیل کی کمزوریوں سے استفادہ کرکے علاقے کو غیر مستحکم کرنے سے روکنا۔- حزب اللہ اور حماس کو ایرانی ہتھیارون کی رسائی کا راستہ روکنا۔لیکن جو بات ابھی منکشف نہیں ہوسکی ہے وہ یہ ہے سعودی عرب کے شاہزادہ مقرن اور امارات کے سیکورٹی حکام ماسکو میں کیا کرتے رہے ہیں اور صہیونی وزیر اعظم سے ان کی ملاقاتوں میں کیا طے پایا ہے؟۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
/110