اہل البیت (ع) نیوز ایجنسی ـ ابنا ـ کی رپورٹ کے مطابق آل خلیفہ خاندان کے تا حیات وزیر خارجہ خالد بن احمد آل خلیفہ نے حزب اللہ لبنان سیکریٹری جنرل سید حسن نصر اللہ کی حالیہ تقریر اور علاقائی انقلابات کے سلسلے میں ان کے اظہار خیال کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا: میری درخواست ہے کہ کوئی ہمیں یہ نہ سکھائے کہ سیاسی اقدام کس طرح ہوتا ہے اور ہمارے مخالفین کون ہیں!۔حزب اللہ لبنان کے سیکریٹری جنرل نے بحرین سمیت علاقے کے ممالک میں عوام کے پرامن احتجاج کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا تھا: بحرین میں حتی ایک گاڑی کو نذر آتش نہیں کیا گیا اور ایک شیشہ بھی نہیں ٹوٹا لیکن عرب ممالک کی فوجوں نے اس ملک پر جارحیت کی اور عوام کو کچل ڈالا، بحرینی حکومت نے اسپتالوں پر حملہ کیا اور حتی معترضین کے گھروں میں داخل ہوئے اور ان پر حملہ کیا۔ یہ وہی اسرائیلیوں کی روش ہے اور اسرائیلی بھی لوگوں کے گھر ویران کردیتے ہیں اور اب بحرینی فورسز بھی یہی کچھ کررہی ہیں انھوں نے حتی پرل اسکوائر تک کو بھی منہدم کرکے خاک میں ملادیا۔ خالد بن احمد نی سعودی عرب کے سیٹلائٹ چینل العربیہ سے گفتگو کرتے ہوئے دعوی کیا کہ "سید حسن نصر اللہ کی تقریر جھوت سے بھرپور تھی اور انھوں نے کہا ہے کہ فوج میدان میں آئی اور عوام کا قتل عام کیا" نصر اللہ یہ باتیں کہاں سے لائے ہیں؟ جبکہ ہم ایسی ریاست ہیں کہ اپنے عوام کے لئے احترام کے قائل ہیں؛ نصر اللہ کا خطاب بحرین کے حق میں ایک جرم ہے!!۔انھوں نے یہ نہیں بتایا کہ بحرین میں ہزاروں افراد کیوں زخمی ہوئے 24 شہید ہوئے سینکڑوں افراد گرفتار ہوئے، ڈاکٹرز اور نرسوں کو اغوا کیا گیا، اسپتالوں کو فوج کے حوالے کیا گیا اور مقدس مقامات کی توہین کی گئی یہ سب کیونکر ہوا؟ اور یہ کہ سعودی فورسز کس کی دعوت پر آئی ہیں کیا وہ بحرینی عوام کی زیادہ خدمت کے لئے بلائی گئی ہیں اور کیا آل خلیفہ خاندان عوام کو زیادہ احترام دینے کے لئے بیرونی قوتوں کو بلا لائے ہیں؟
ضرور دیکھئے:
بحرین/ صہیونیوں کی چاپلوسی آل خلیفہ کا اعزاز / تصاویر دیکھنا نہ بھولیں۔۔۔۔۔۔
/110