ابنا: عید نوروز، موسم بہار اور سال نو کی آمد کی مناسبت سے تمام ہم وطنوں، دنیا بھر میں دیگر ممالک میں مقیم ایرانیوں نیز نوروز کے لئے خاص اہمیت اور احترام کی قائل دیگر قوموں کو مبارکباد پیش کرنے کے ضمن میں رہبر انقلاب اسلامی نے ملکی اور عالمی مسائل پر بھی گفتگو کی۔ اپنے اس پیغام میں خطے کو درپیش مسائل خصوصا لیبیا بحرین اور یمن کے عوام کی انقلابی تحریکوں کا ذکر کرتے ہوئے رہبر انقلاب اسلامی نے فرمایا بعض ممالک میں عوام سے متعلق جو تلخ واقعات رونما ہو رہے ہیں ان کے پیش نظر عیدنوروز کا لطف باقی نہیں رہا اور انسان نوروز کی مسرتوں کو محسوس نہیں کر سکتا۔ دعا کرتا ہوں کہ اللہ تعالی ان قوموں کو، ملت بحرین، ملت یمن اور ملت لیبیا کو فوری گشائش میسر کرے اور قوموں کے دشمنوں کو قرار واقعی سزا دے۔ رہبر انقلاب اسلامی کے پیغام میں علاقے کے عرب اور مسلمان عوام کے تعلق سے جن جذبات کا اظہار کیا گیا ہے اس سے اس بات کی بخوبی عکاسی ہوتی ہے کہ ایرانی عوام اور قیادت قوموں کے دکھ درد کو اپنا دکھ درد سمجھتے ہیں اور ان کی مشکلات سے ہرگز لاتعق نہیں رہ سکتے ۔ آج ایک بار پھر جابر طاقتیں اپنے ناجائز مفادات کے حصول کے لئے مسلمان قوموں کو اپنے بغض اور کینے کا نشانہ بنارہی ہیں اور کہیں ان کے پٹھو یہ کام کررہے ہیں۔ امریکہ اور مغربی ملکوں کے دوھرے معیارات اور دوغلا پن پوری طرح سے عیاں ہوگیا ہے۔ لیبیا میں امریکہ اور اس کے اتحادی بظاہر کرنل قذافی کے مخالفین کا ساتھ دے رہے ہیں تو بحرین میں عوامی تحریکو کو کچلے جانے کی حمایت اور پشتپناہی کررہے ہیں اور المیہ یہ ہی کہ انسانی حقوق کے دعویدار غالمی ادارے اور تنظیمیں اس دوغلے پن پر اپنی آنکھیں بند کئے بیٹھے ہیں ۔ یمن کی صورتحال بھی کچھ ایسی ہی ہے، وہاں بھی سرکاری فورسز عوام کا قتل عام کرنے میں مشغول ہیں ۔ لیکن ایک حقیقت واضح ہوگئی ہے کہ خطے میں آئی بیداری کی لہر کہ جس کی جڑیں ایران کے اسلامی انقلاب میں پیوست ہیں کو اب دبایا نہیں جاسکتا اور حکومتوں کو ذاتی میراث سمجھنے والے پٹھو حکمرانوں کو اقتدار آج نہیں تو کل عوام کے سپرد کرنا ہے ہوگا اور یہ بات بھی ذہن نشین رکھنی چاہیے کہ کل زیادہ دور نہیں ہے انشا اللہ ۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
/110