24 اگست 2026 - 15:32
شیخ زکزاکی: علم و دانش کا مقصد اللہ کی رضا اور معاشرے کی خدمت ہونا چاہیے

نائجیریا کی اسلامی تحریک کے رہنما شیخ ابراہیم زکزاکی نے بچوں اور نوجوانوں کی فکری و دینی تربیت پر زور دیتے ہوئے کہا ہے کہ تعلیمی پروگراموں کا مقصد صرف نصابی تعلیم دینا نہیں بلکہ طلبہ کی سوچ درست کرنا اور انہیں دین کی صحیح سمجھ فراہم کرنا بھی ہونا چاہیے۔

اہل بیت (ع) نیوز ایجنسی ابنا کے مطابق، شیخ ابراہیم زکزاکی نے ابوجا میں اسلامی پیشہ ورانہ تعلیمی ادارے کے پرائمری اور سیکنڈری طلبہ کے اجتماع کی اختتامی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ تعطیلات کے دوران منعقد ہونے والا یہ پروگرام بچوں اور نوجوانوں کی تربیت اور مستقبل کے لیے تیاری کا اہم موقع ہے۔

انہوں نے کہا کہ اس پروگرام کا مقصد صرف اسکول کے مضامین کی تعلیم دینا نہیں بلکہ طلبہ کی سوچ اور نقطۂ نظر کی اصلاح بھی ہے تاکہ وہ درست انداز میں سوچ سکیں اور دین کو صحیح طور پر سمجھ اور پہچان سکیں۔

بچوں اور نوجوانوں کی فکری تربیت ضروری

شیخ زکزاکی نے کہا کہ انسانی ذہن کو درست اور تعمیری افکار کے ذریعے فعال اور زندہ رکھنے کی ضرورت ہے۔

انہوں نے طلبہ پر زور دیا کہ وہ نوجوانی ہی سے علم حاصل کرنے اور اپنی فکری صلاحیتوں کو بہتر بنانے پر توجہ دیں تاکہ مستقبل میں اپنی علمی اور فکری استعداد کو مزید بڑھا سکیں۔

اللہ کی رضا کے لیے علم حاصل کرنا عبادت ہے

اسلامی تحریک نائجیریا کے رہنما نے علم حاصل کرنے میں نیت کی اہمیت پر زور دیتے ہوئے طلبہ سے کہا کہ وہ اللہ کی رضا اور معاشرے کی خدمت کے لیے علم حاصل کریں۔

انہوں نے کہا کہ دنیا اور آخرت میں انسان کے لیے فائدہ مند اور معاشرے کے لیے مفید ہر علم اگر اللہ کی رضا کی نیت سے حاصل کیا جائے تو وہ عبادت بن جاتا ہے۔

شیخ زکزاکی نے طب و صحت، زراعت، سائنس، ٹرانسپورٹ اور دیگر مفید علوم کو ایسے شعبوں میں شمار کیا جو انسان اور معاشرے کی خدمت کے لیے استعمال ہوسکتے ہیں۔

علم ایران کی ترقی اور طاقت کا اہم ذریعہ

شیخ زکزاکی نے اپنی گفتگو کے ایک اور حصے میں علم و دانش کو اسلامی جمہوریہ ایران کی ترقی اور موجودہ حالات میں اس کی طاقت کا ایک اہم ذریعہ قرار دیا۔

انہوں نے کہا کہ علمی ترقی نے ایران کو موجودہ چیلنجز کا مقابلہ کرنے اور ثابت قدم رہنے میں اہم کردار ادا کیا ہے۔

انہوں نے مفید علوم پر توجہ دینے کی اہمیت پر زور دیتے ہوئے کہا کہ معاشروں کی ترقی کے لیے علمی صلاحیتوں سے درست استفادہ اور باصلاحیت افراد کی تربیت ضروری ہے۔ طلبہ کو ابھی سے معاشرے میں مؤثر کردار ادا کرنے کے لیے تیار ہونا چاہیے۔

شیخ زکزاکی نے آخر میں طلبہ پر زور دیا کہ وہ اپنے اور معاشرے کے لیے مفید علم حاصل کرنے کے لیے بھرپور محنت کریں اور اپنی علمی صلاحیتوں کو معاشرے کے مسائل اور ضروریات کے حل کے لیے استعمال کریں۔

لیبلز

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
captcha