18 مارچ 2011 - 20:30

متحدہ افواج کے جہاز بن غازی کی طرف پیشقدمی کرنے والی قذافی کی فوج کو روکنے کے لئے حملے کررہے ہیں۔

اہل البیت (ع) نیوز ایجنسی ـ ابنا ـ کی رپورٹ کے مطابق قذافی کی فوجیں آج صبح بن غازی کے مضافات میں پہنچنے کے بعد شہر کے مرکز کی طرف پیشقدمی کررہے تھیں۔ قذافی کی طرف سے انتخابی جدوجہد کے لئے بڑی رقوم وصول کرنے والے نکولا سرکوزی نے کہا کہ 670000 افراد کے شہر بن غازی پر مغربی ممالک کا فضائی حملہ در حقیقت مغربی قوتوں کی جانب سے ابتدائی حملہ ہے۔ بن غازی لیبیا کا دوسرا بڑا شہر ہے جس پر ابھی تک انقلابی قوتوں کا قبضہ ہے۔

........./110

ویڈیو / انقلابی فورسز نے قذافی کا طیارہ مارگرایا:

تہران سٹینڈرڈ ٹائم کے مطابق 08:25 اٹھارہ فرانسیسی طیارے لیبیا کے مختلف علاقوں پر بمباری کررہے ہیں۔

 00:10 بجے موصول ہونے والی اطلاعات کے مطابق لیبیا پر مغربی ملکوں کے حملے میں شدت آئی ہے اور اب تک 110 کروز میزائلوں نے اس ملک کو ہدف بنایا ہے۔برطانوی طیاری بھی کاروائی میں شریک ہوگئے ہیں اور میزائل امریکیوں نے مارے ہیں۔میزائلوں کا ہدف شمالی لیبیا میں 20 فضائی دفاعی مراکز تھے جو مغربی ممالک کے دعوے کے مطابق تباہ ہوگئے ہیں۔ امریکہ نے دو جنگی جہاز اور ایک آبدوز بحیرہ روم میں تعینات کرلئے ہیں۔کہا جاتا ہے کہ امریکہ لیبیا کے دفاعی نظام کو ناکارہ بنانے کے بعد اپنے حملے مصراتہ اور طرابلس پر مرکوز کرنا چاہتا ہے۔دریں اثناء لیبیا کے ایک فوجی کمانڈر نے سرکاری ٹیلی ویژن پر ظاہر ہو کر کہا کہ مصراتہ کے نواح میں تیل کے مخاذن فضائی بمباری کا نشانہ بنے ہیں۔ برطانوی وزیر اعظم نے کہا کہ برطانیہ نے بھی لیبیا میں اپنی کاروائیوں کا آغاز کردیا ہے لیکن انھوں نے تفصیلات نہیں بتائی جبکہ ذرائع نے کہا ہے کہ برطانوی فضائیہ نے لیبیا پر اپنے حملے شروع کردیئے ہیں۔ دریں اثناء بنغازی سے ملنے والی اطلاعات کے مطابق اس شہر کے باشندے مغربی طاقتوں کے حملوں کے بعد شہر چھوڑ کر محفوظ مقامات کی طرف فرار ہورہے ہیں۔