19 مارچ 2010 - 20:30

حکومتی سرپرستی میں جس انداز سے ریمنڈ ڈیوس کو پاکستان سے فرار کرایا گیا ہے وہ آزاد و باوقار قوم کے شایان شان نہیں۔ اس سے غیرملکی قوتوں کو پاکستان کے داخلی معاملات میں مداخلت کا کھلا جواز مل جائے گا۔

ابنا: ان خیالات کا اظہار علامہ اصغر عسکری ڈپٹی سیکرٹری جنرل مجلس وحدت مسلمین پنجاب نے ایک پریس ریلیز میں کیا۔ انہوں نے مزید کہا کہ زندہ اور آزاد قوتیں ملک کے عزت و وقار کو اپنی جان سے زیادہ عزیر رکھتی ہیں۔ نہ جانے ہمارے حکمران امریکی حکومت کے سامنے اس قدر بے بس کیوں ہو جاتے ہیں حالانکہ پاکستان کی باشعور عوام بشمول تمام محب وطن سیاسی و دینی جماعتیں وقوعہ کے روز سے ہی اس بات پر پوری طرح متفق تھیں کہ ریمنڈ ڈیوس کو اپنے کیے کی سزا ملنی چاہیے لیکن حکومت نے عوامی جذبات کا کوئی احترام نہیں کیا اور امریکی حکومت سے مل کر خاموشی سے ریمنڈ ڈیوس کے فرار کے لیے سازشیں شروع کر دیں۔ حتیٰ کہ عدالتوں کو بھی اس بارے میں پوری طرح کردار ادا نہیں کرنے دیا گیا۔ نتیجتاً آج ریمنڈ ڈیوس فرار ہو کر فاتحانہ انداز میں امریکہ پہنچ چکا ہے اور پاکستان کی سلامتی اور وقار کو منہ چڑا رہا ہے اگر حکومتی ادارے آزاد و باوقار موقف پر پوری طرح ڈٹے رہتے تو ڈاکٹر عافیہ صدیقی کی بھی رہائی ممکن ہو سکتی تھی۔ لیکن افسوس ہمارے نااہل حکمرانوں نے یہ موقع ہاتھ سے گنوا دیا۔ آج آزاد دنیا میں ہم رسوا ہو چکے ہیں اور ہماری شناخت صرف امریکی غلاموں کی حیثیت سے کی جارہی ہے۔ حکمران چاہے کچھ کہیں، ریمنڈ ڈیوس کے فرار کی سازش میںمرکزی و صوبائی حکومتوں نے جس مثالی اتحاد کا مظاہرہ کیا ہے وہ پاکستان کی تاریخ کا ایک سیاہ باب بن چکا ہے۔ ویسے تو یہ عوامی معاملات میں ایک دوسرے کی سخت اپوزیشن ہیں لیکن امریکی مفاد میں ان کی سوچ اور عمل یکساں ہے۔ اس موقع پر ڈیوس کے فرار میں وہ غیرملکی قوتیں بھی شدید قابل مذمت ہیں جو آج بحرین کی عوامی جمہوریت کی جدوجہد کو کچلنے کے لیے نہتے عوام پر گولیاں برسا رہے ہیں اور پاکستانی عوام کے قاتل کو فرار میں مدد فراہم کر رہی ہیں۔ لہٰذا محب وطن سیاسی و مذہبی جماعتیں جو احتجاج کر رہی ہیں، مجلس وحدت مسلمین پاکستان ان کے احتجاج میں برابر کی شریک ہے اور ان کے موقف کی بھرپور تائید کرتی ہے اور پاکستان کی آزاد عدلیہ سے مطالبہ کرتی ہے کہ ڈیوس کے فرار کے معاملے کا ازخود نوٹس لے اور اس فرار میں ملوث افراد کو بے نقاب کر کے ایسے ملک دشمن عناصر کو قرار واقعی سزا دے۔

۔۔۔۔۔۔۔

/110