15 مارچ 2011 - 20:30

بحرین کے سابق رکن پارلیمان نے بحرینی عوام اور آل خلیفہ خاندان کے درمیان موجودہ بحرین میں سعودی مداخلت کو بحرین پر سعودی عرب کا قبضہ قرار دیا ہے۔

اہل البیت (ع) نیوز ایجنسی ـ ابنا ـ کی رپورٹ کے مطابق مستعفی رکن پارلیمان جواد فیروز نے پیر کے روز العالم سے بات چیت کرتے ہوئے عالمی برادری سے مطالبہ کیا کہ وہ بحرینی قوم کے سلسلے میں اپنے فرائض نبھائے۔انھوں نے کہا کہ خلیج فارس تعاون کونسل کے قوانین کی مطابق اس کونسل کی فوجیں صرف اس وقت کسی بھی رکن ملک میں داخل ہوسکتی ہیں جب ان ممالک کو بیرونی جارحیت کا سامنا ہو جبکہ اس وقت بحرین کو اندرونی مسائل کا سامنا ہے اور ان افواج کو مداخلت کا حق نہیں پہنچتا۔ جواد فیروز نے کہا کہ بحرین کی سات جماعتوں نے فوری طور پر اقوام متحدہ سے درخواست کی ہے اور اقوام متحدہ کو بحرین کے اندرونی معاملات میں سعودی عرب کی مداخلت کے حوالے سے خبردار کیا ہے۔ مستعفی رکن پارلیمان نے کہا کہ سعودی مداخلت کا مطلب یہ ہے کہ اس وقت ہمیں کیل کانٹے سے لیس بیرونی فوج اور نہتے عوام کے درمیان نا منصفانہ جنگ کا سامنا ہے اور ہم خبردار کرتے ہیں کہ کسی بھی مسلح بیرونی فوجی کا سرزمین بحرین میں داخلہ، بحرین پر بیرونی قبضہ سمجھا جاتا ہے۔انھوں نے بین الاقوامی برادری سے اپیل کی ہے کہ وہ اجنبی افواج کی جارحیت کے سامنے بحرینی عوام کی حمایت کرے اور عالمی امن و انصاف کے قیام کے سلسلے میں اپنے فرائض پر عمل کرے۔ انھوں نے کہا کہ یہ بیرونی فبضہ ہے اور یقینی امر ہے کہ اس جنگ میں آخری ہار آل خلیفہ ہی کی ہوگی۔انھوں نے کہا کہ بیرونی افواج کی جارحیت کی بنا پر بحرین کا داخلے مسئلہ علاقائی اور بین الاقوامی مسئلے میں تبدیل ہوگیا ہے جس میں آخری ہار آل خلیفہ خاندان کی ہوگی کیونکہ اقوام باقی رہتی ہیں اور موجودہ نظام کی عدم تبدیلی کے بارے میں کوئی بھی بیرونی قوت کسی قسم کی ضمانت فراہم نہیں کرسکتی۔ جواد فیروز نے کہا کہ تعلیمی ادارے، تجارت اور پرائیویٹ سیکٹر کی مکمل چھہٹی ہے اور شہر کے سفارتی زون کو بیرونی افواج کے داخلے کے لئے عوام سے خالی کرالیا گیا ہے اور وہاں بحرینی فورسز کا قبضہ ہے۔

.........

/110