اہل البیت نیوز ایجنسی ـ ابنا ـ کی رپورٹ کے مطابق آل السعود کی ایک ہزار فوجیوں پر مشتمل بکتر بند یونٹ اور کویتی افواج کی طرف سے بحرین کی قومی خودمختاری کی پامالی کے بعد متحدہ عرب پر مسلط خاندان کی فوج بھی بحرین پہنچ گئی ہے۔ صورت حال یہ ہے کہ سعودی، کویتی اور اماراتی فوجین لاکھوں عوام کی صدائے انقلاب خاموش اور آل خلیفہ کو تحفظ فراہم کرکے در حقیقت اپنی بے بنیاد مطلق العنان خاندانی بادشاہتوں اور امارتون کو بچانے کی فکر میں ہیں اور وہ بحرینی عوام کو کچل کر آل خلیفہ حکومت کے اقتدار کی بقاء کی ضمانت فراہم کرنے کے لئے آئے ہیں۔ لیکن بیرونی قوتیں کسی کو زیادہ دیر تک تحفظ فراہم نہیں کیا کرتیں اور ان کے اپنے مفادات بھی ہوتے ہیں جو ہمیشہ ایک ہی شخص یا جماعت یا خاندان سے وابستہ نہیں رہا کرتے۔آج کا واقعہ ہے کہ ہمارے چیف ایڈیٹر نے رفقائے کار کے سامنے یہ سوال اٹھایا کہ "اگر کوئی حاکم زور زبردستی اور بیرونی قوتوں کے سہارے اپنے خلاف اٹھنے والی پوری قوم کو بزور شمشیر خاموش بھی کرادے پھر بھی وہ کس منہ سے اس قوم پر حکومت کرے گا؟راقم نے عرض کیا کہ جو استبدادی خاندانی حکومتیں عوامی حقوق سے شرمندہ ہوئے بغیر گذشتہ کئی عشروں سے خلیج فارس کی ساحلی ریاستوں پر قابض ہیں اور اپنی قوموں کے بنیادی حقوق کو مسلسل پامال کررہی ہیں ان سے شرمندگی اور حتی شرم و حیا کی امید رکھنا بالکل بے جا ہے۔حقیقت یہی ہے لیکن قومیں بہت زیادہ زیرک اور ہوشیار ہوگئی ہیں اور انہیں معلوم ہے کہ سرکاری دباؤ کے تحت پیچھے ہٹیں گی تو پھر کبھی بھی استبداد و استحصال کے لئے نہیں اٹھ سکیں گی یا شاید بہت دیر سے اٹھنے کی قابل ہونگی چنانچہ بعید از قیاس ہے کہ خلیجی تعاون کونسل کی فوجیں ـ جنہیں اپنے ملکوں میں بھی عوامی تحریکوں کا سامنا ہے ـ اس انقلاب کو خاموش کرسکیں جس کے لئے اس قوم نے بھاری قیمت ادا کی ہے۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
/110