اہل البیت (ع) نیوز ایجنسی کے مطابق قاتل قذافی کے 5 بڑے بیٹے طرابلس کے باب العزیزیہ میں اپنے باپ کے پاس موجود ہیں اور انھوں نے حال ہی میں طرابلس میں باپ کی 42 سالہ حکومت کو بچانے کے لئے ایک فوجی چھاؤنی قائم کی ہے۔ اس چھاؤنی میں قذافی کے ہر بیٹے کے پاس فوجیوں کا ایک بڑا دستہ ہے اور انھوں نے اپنے دستوں میں باقاعدہ فوج میں سے اپنے وفادار فوجی افسرون کو بھی اپنے ساتھ ملا لیا ہے اور انہیں عوام کے خلاف لڑا رہے ہیں۔ قذافی کے بیٹوں نے اپنے زیر قیادت فورسز سے کہا ہے کہ نافرمانی کریں گے تو انہیں فوری طور پر موت کے گھاٹ اتارا جائے گیا۔ یادرہے کہ حال ہی میں سینکڑوں لیبیائی فوجیوں کو قذافی کی مخالفت اور عوام کے ساتھ ملنے کی پاداش میں نہایت وحشیانہ طریقوں سے قتل کیا گیا ہے۔ بعض کو القاعدہ اور طالبان کے طرز پر ذبح کیا گیا ہے اور بعض کو ان ہی دہشت گرد ٹولوں کی مانند زندہ زندہ جلایا گیا ہے اور بعض کو صدام کے باقیات کی طرح ہاتھ باندھ کر پیچھے سے سر پر گولیاں مار کر موت کے گھاٹ اتارا گیا ہے۔ ــ قومی عبوری کونسل کی فکرمندیدریں اثناء قومی عبوری کونسل کے ترجمان نے قذافی آمریت کے سیکورٹی یونٹوں کی جانب سے لیبیا کے آئل فیلڈز میں تخریبی کاروائیوں کے سلسلے میں خبردار کیا ہے۔ عبدالحفیظ غوقہ نے کہا: یہ امکان باعث تشویش ہے کہ اگر قذافی کی سیکورٹی یونٹس راس لانوف میں آئل فیلڈز پر قبضہ کرنے میں ناکام ہونے کے بعد راس لانوف اور البریقہ پر فضائی اور میزائل حملے کرکے انہیں منہدم کرنے کی کوشش کریں۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔
/110