4 مارچ 2011 - 20:30

لیبیا کے ڈکٹیٹر قذافی کی کرائے کی افواج نے شہر زاویہ پر دوبارہ حملہ کیا ہے اور اطلاعات ہیں کہ ان فوجیوں نے الزاویہ شہر کے بڑے حصے پرقبضہ کرلیا ہے۔

ابنا: ارنا کی رپورٹ کے مطابق عینی شاہدین نے بتایا ہےکہ شہر کے ہزاروں افراد قذافی کے کرائے کے فوجیوں کے حملوں میں جاں بحق ہوچکے ہیں۔ موثق ذرایع سے اطلاعات ملی ہیں کہ قذافی کے بڑے بیٹے سیف الاسلام قذافی نے اپنے باپ کی حکومت کو بچانے کے لئے صیہونی حکومت سے مدد مانگي ہے۔ لبنان کے اخبار نے بعض سفارتی ذرایع کے حوالے سے لکھا ہےکہ قذافی کے بیٹے نے دوروز قبل مقبوضہ فلسطین کا دورہ کیا تھا اور صیہونی حکومت سے اپنے باپ کی حکومت بچانے کے لئے فوجی مدد طلب کی ہے۔ سیف الاسلام قذافی نے صیہونی حکومت سے رات میں دیکھنے کے آلات مانگے ہیں اور کہا ہےکہ قدس کی غاصب حکومت سٹیلائٹ کے ذریعے انقلابیوں کی پوزیشنوں کی تصویریں لیکر قذافی کی فوج کی مدد کرے۔ قذافی کے بیٹے نے وعدہ کیا ہےکہ لیبیا صیہونی حکومت کے ساتھ سیاسی اور اقتصادی تعلقات قائم کرےگا۔ لیبیا کے عوام کے انقلاب کے بعدلیبیا اور صیہونی حکومت کے تعلقات میں فروغ آیا اور صیہونی حکومت کی بعض کمپنیاں قذافی کو کرائے کے فوج بھی فراہم کررہی ہیں۔
دوسری طرف لیبیا کے شہر سرت میں فوج کے بہت سے افسر انقلابیوں کی صفوں میں شامل ہوگئےہیں۔ ہمارے نمائندے نےانقلابیوں کے حوالے سے رپورٹ دی ہے کہ قذافی بریگيڈ کے فوجی افسر انقلابیوں کی صفوں مین شامل ہوگئےہیں۔ ادھر ا طلاعات ہیں کہ بن غازی شہر میں دوزبردست دھماکوں گی آواز سنی گئي ہے ، عینی شاھدیں کے مطابق یہ دھماکے ہتھیاروں گے گوداموں پر قذافی کے طیاروں کی بمباری کے نتیجے میں ہوئےہیں۔ ایک فوجی نے بتایا ہےکہ ان گوداموں میں کیمیاوی اور جراثیم ہتھیار بھی موجود ہیں۔
بین الاقوامی پولیس انٹرپول نے قذافی اور اس کےقریبی پندرہ افراد کی گرفتاری کےوارنٹ جاری کردئےہیں۔ بین الاقوامی فوجداری عدالت کی جانب سے قذافی پرمقدمہ چلانے کےفیصلے نیز لیبیا کے ڈکٹیٹر کے خلاف سلامتی کونسل کی قرارداد کےبعد انٹرپول نے یہ وارنٹ جاری کئےہیں۔ سلامتی کونسل کی قرارداد میں شہریوں پرحملے کو انسانیت سوز جرائم قراردیا گيا ہے اور قذافی کے کیس کو عالمی فوجداری عدالت کو بھیج دیا ہے۔
 ۔۔۔۔۔۔۔۔۔

/110