اہل البیت (ع) نیوز ایجنسی ـ ابنا ـ کی رپورٹ کے مطابق بحرین کے با استقامت عوام نے آج خلیفی خاندان کے مظالم کے خلاف اپنے قیام کے تیرہویں روز کا آغاز کیا ہے۔ کل لاکھوں بحرینیوں نے دوسری بڑی ریلی میں شرکت کی اور اپنے مطالبات پر ڈٹے رہے۔

آج ہفتہ 26 فروری 2011 کی واقعات: 00:05ـ بجے ـ ـ میدان اللؤلؤة میں دھرنا جاریمیدان اللؤلؤة میں پر امن احتجاج اور دھرنا جاری ہے اور سینکڑوں خیمے ایک بڑی خیمہ بستی کی تصویر کشی کررہے ہیں۔ لوگ میدان میں مسلسل قیام کرنے کے لئے پر عزم ہیں اور دھرنے میں خواتین اور بچوں کی شرکت بھی قابل توجہ ہے۔ 00:30ـ بجے ـ ـ کیا شیعہ انسان نہیں ہیں؟!کویت کے مشہور سنی عالم دین "شیخ طارق السویدان" نے کہا: مجھے حیرت ہے کہ جو لوگ مصر اور تیونس کے انقلابات کی حمایت کرتے ہیں وہ بحرینی عوام کے انقلاب کو مسترد کیوں کرتے ہیں صرف اس لئے کہ بحرینی عوام شیعہ ہیں!؟ انھوں نے سوال اٹھایا: کیا بحرینی عوام انسان نہیں ہیں؟ کیا شیعہ انسان نہیں ہیں؟شیخ السویدان نے کہا: شیعیان بحرین کو بھی دوسری قوموں کی مانند زندگی کا حق ہے اور انہیں بھی دوسری قوموں کی طرح عزت و کرامت کے ساتھ زندگی بسر کرنی چاہئے۔ انہیں حتی عوامی ووٹ حاصل کرنے کی صورت میں حکومت تشکیل دینے اور اقتدار حاصل کرنے کا بھی حق حاصل ہے۔ 01:00ـ بجے ـ ـ ہڑتال کے خاتمے کے لئے خلیفی حکومت کی کوششیںبحرین کی وزارت تعلیم نے اساتذہ کی ہڑتال توڑنے کے لئے رضا کار اور ریٹائرد اساتذہ کو اسکولوں میں پڑہانے کی دعوت دی ہے۔ حکومت کے اس اقدام پر رد عمل ظاہر کرتے ہوئے عوام کا کہنا ہے: اگر ہم اپنے بچوں کو اسکولوں میں نہ بھیجیں تو رضا کار اور ریٹائرد اساتذہ کس کو پڑھائیں گے؟۔بحرین کے اساتذہ نے گذشتہ اتوار سے ہڑتال شروع کر رکھی ہے۔ ڈاکٹرز، وکلا، جج اور مزدور بھی ہڑتال میں شامل ہوگئے ہیں۔ 01:30ـ بجے ـ ـ سیاسی جماعت بنانی پڑے گی بحرین کے ایک سیاسی رہنما "ابراہیم کمال الدین" نے کہا: بحرین کے گروپوں اور دھڑوں کو سیاست جماعتوں میں تبدیل ہونا چاہئے تا کہ قدم بقدم اقتدار کی طرف بڑھ سکیں اور ملکی اقتدار سنبھالنے کی اہلیت حاصل کرسکیں۔ 8:55ـ بجے ـ ـ بحرینی عوام کسی قسم کی ثالثی قبول کرنے کے لئے تیار نہیں ہیںبحرین کی 14 فروری کی تحریک الشباب نے ایک بیان جاری کرکے ایک بار پھر پارلیمان اور حکومت کی تحلیل، خلیفی خاندان کی حاکمیت کے مکمل خاتمے اور حکومت کے ساتھ مذاکرات نہ کرنے پر زور دیا ہے۔یہ تحریک بحرین میں دھرنوں اور ریلیوں کا انتظام سنبھالے ہوئے ہے۔ اس بیان میں اس بات پر زور دیا گیا ہے کہ بحرینی قوم ایسی حکومت پر بھروسا نہیں کرسکتے جو اس قوم کے بیٹوں کا خون بہاتی ہے۔ اس بیان میں کہا گیا ہے کہ بحرینی عوام کسی قسم کی ثالثی قبول کرنے کے لئے بھی تیار نہیں ہیں۔ 9:14ـ بجے ـ ـ بحرینی کابینہ کے چار وزراء برطرف کئے گئے ہیںبحرین کے فرمانروا حمد بہ عیسی بن سلمان آل خلیفہ نی حالیہ قتل عام کے اسباب فراہم کرنے والے افراد کے خلاف قانونی کاروائی کے عوامی مطالبے کے سامنے گھٹنے ٹیکتے ہوئے 4 وزیروں کی برطرفی کے احکامات جاری کئے ہیں۔ برطرف وزراء میں وزارت عظمی کے امور کے وزیر "شیخ احمد بن عطیة اللہ آل خلیفہ"، وزیر صحت "فیصل الحمر"، وزیر پانی و بجلی، "فہمی الجودر" اور ہاؤسنگ کے وزیر "شیخ ابراہیم بن خلیفہ آل خلیفہ" شامل ہیں۔ کہا جاتا ہے کہ گویا یہ افراد بحرین کے حالیہ مسائل کے ذمہ دار ہیں۔ حقیقت یہ ہے کہ ناروا فرمانروا اپنے چچا اور 40 سال سے بحرین کے وزیر اعظم کو بچانے کے لئے اس طرح کے سطحی اور نمائشی اقدامات کررہے ہیں اور انہیں شاید ابھی تک قومی انقلاب کی عظمت کا احساس نہیں ہوا اور وہ عوامی مطالبات کی شدت کے ادراک سے شاید عاجز ہیں۔ امر مسلم یہ ہے کہ بحرین کے لوگ سڑکوں پر آگئے ہیں اور وہ اپنی چھتوں تلے آرام کرنے سے اس وقت تک اجتناب کررہے ہیں جب تک انہیں ان کے مطالبات کا مثبت جواب نہیں ملے گا اور بادشاہ کے ان نمائشی اقدامات سے مطمئن ہوتے نظر نہیں آتے۔ 9:58 بجے ـ ـ شیعہ اور سنی دونوں خلیفی حکومت کے خاتمے کے خواہاںمیدان اللؤلؤة کی دھرنے میں شامل بحرینی سیاسی رہنما "صادق الجمری" نے کہا: شیعیان بحرین کے ساتھ ساتھ اس ملک کے سنی عوام بھی آل خلیفہ حکومت سے نالاں اور اس حکومت کی سرنگونی کے خواہاں ہیں۔ انھوں نے کہا کہ بحرین کے سنی عوام بھی آل خلیفہ کے کرتوتوں سے ناراض ہیں۔ 10:45 بجے ـ ـ خلیفی حکومت نے شیخ حسن مشیمع کے لئے معافی کا اعلان کیابحرین میں تعینات انٹرپول کے اہلکاروں نے باضابطہ طور پر شیخ حسن المشیمع کی معافی کا حکمنامہ بیروت میں لبنانی حکومت کے حوالے کیا ہے۔ اس سرکاری پیغام کی وصولی کے بعد بیروت کے سرکاری حکام نے بحرین کے بزرگ اپوزیشن رہنما شیخ حسن مشیمع کا پاسپورٹ ان کو واپس کردیا ہے ور ان سے کہا کہ وہ اپنی مرضی کے مطابق اس ملک میں رہ سکتے ہیں اور اگر چاہیں تو اس ملک کو ترک بھی کرسکتے ہیں۔ المشیمع نے المنار ٹی وی چینل سے بات چیت کرتے ہوئے بحرین کے مظاہرین کو اپنا پر امن احتجاج جاری رکھنے کی دعوت دی اور کہا کہ بحرین کا انقلاب ایک شیعہ انقلاب نہیں ہے بلکہ یہ ایک قومی انقلاب ہے۔انھوں نے بحرینی قوم کے تمام افراد کو اس قومی احتجاج میں حصہ لینے کی دعوت دی۔ 13:00 بجے ـ ـ حکومت کے ساتھ مذاکرات کا تجربہ کبھی مثبت نہیں رہا ہےبحرین کے انسانی حقوق مرکز کے سیکریٹری جنرل "نبیل رجب" نے کہا: حکومت ہمیں مذاکرات کی دعوت دے رہی ہے جبکہ ہم گذشتہ برسوں کے دوران حکومت کے ساتھ مذاکرات کا نہایت منفی تجربہ رکھتے ہیں لہذا ہم ابھی تک مذاکرات کے سلسلے میں حکومت کی سنجیدگی کا ادراک نہیں کرسکے ہیں۔ 13:30 بجے ـ ـ قیدیوں کی رہائی ایک سیاسی چال بحرین کے ایک قانوندان "محمد تاجر" نے کہا: سیاسی قیدیوں کی رہائی محض ایک سیاسی چال ہے جس کے ذریعے ریاست عوام کو خاموش کرانے کا ارادہ رکھتی ہے۔14:00 بجے ـ ـ آخری فیصلہ؛ نظام حکومت کی تبدیلی بحرین کے رکن پارلیمان "جواد فیروز" نے کہا: بحرینی عوام کا آخری اور قطعی فیصلہ نظام حکومت کی تبدیلی اور ایسی حکومت تشکیل دینا ہے جس میں عوامی رائے فیصلہ کن کردار ادا کرسکے۔ ......./110