23 فروری 2011 - 20:30

لیبیا کے 70 فیصد علاقہ پر حکومت مخالفین احتجاجی مظاہرین نے قبضہ کرلیا ہے اور لیبیا کے جرائم پیشہ اور خونخوار صدرکرنل قذافی طرابلس تک محدود ہوکر رہ گئے ہیں۔

ابنا: مشرقی شہر مصراتہ میں سیکیورٹی فورسز نے مظاہرین پر سر عام فائرنگ کی جس سے کئی افراد ہلاک ہو گئے لیکن مصراتہ پر عوام نے قبضہ کرلیا ہے۔ لیبیا کے دارالحکومت طرابلس کے علاوہ بن غازی اور طبرق سمیت کئی شہروں میں حکومت مخالف مظاہرے جاری ہیں۔ ملک سے فرار ہونے والے ایک ڈاکٹر نے دعویٰ کیا ہے کہ صرف ایک شہر میں دو ہزار افراد ہلاک ہوچکے ہیں۔خونریزی سے بچنے کے لیے لیبیا کے باشندوں کی بڑی تعداد سرحد پار کرکے تیونس میں داخل ہو گئی ہے۔ لیبیا کے خونخوار آمر کرنل قذافی نے اپنے عوام کو قتل کرکے اپنا مکروہ اور خونخوار چہرہ دنیا کے سامنے پیش کردیا ہے۔ادھر اسلامی جمہوریہ ایران کے صدر احمدی نژاد نے امریکہ نواز عرب حکمرانوں پر زوردیا ہے کہ وہ عوام کے ارادوں کے سامنے سر تسلیم خم کریں۔ایران  نے عرب حکمرانوں کی طرف سے عرب عوام کے خلاف تشدد کی کارروائیوں پر سخت تشویش کا اظہار کیا ہے۔

.........

/110