23 فروری 2011 - 20:30

اللؤلؤة میں دھرنا جاری / عوام: مطالبات سے پسپائی نا ممکن / مذاکرات کا سبب کیا ہے؟ / شیعہ ـ سنی اختلاف نامنظور

اہل البیت (ع) نیوز ایجنسی ـ ابنا ـ بحرین کے عوامی انقلاب کا گیارہواں دن جمعرات 24 فروری، خلیفی مظالم کے خلاف قیام گیارہ دن قبل شروع ہوا، قیدی رہا ہورہے ہیں لیکن 40 سال وزارت عظمی کی منصب سے چپک کر رہنے والے وزیر اعظم نے استعفی نہیں دیا اور عوام نے دوسری بڑی ریلی کا اعلان کیا، دوسری بڑی ریلی کل بروز جمعہ 25 فروری 2011 - انشاء اللہبحرین میں آج کے واقعات:00:05 بجے ـ ـ میدان اللؤلؤة میں دھرنا جاریمیدان اللؤلؤة میں احتجاج کرنے والے بحرینی عوام کا تاریخی اور پر امن دھرنا جاری ہے انھوں نے دھمکی دی ہے کہ وزیر اعظم نے استعفا نہ دیا تو سول نافرمانی کا آغاز کریں گے۔ 00:30 بجے ـ ـ تمام مطالبات کی منظوری تک پسپائی اختیار نہیں کریں گےبحرین کی شیعہ عالم دین «حجت الاسلام شیخ محمدعلی اسلامی» نے کہا: بحرینی عوام مطالبات کی مکمل منظوری تک اپنے مطالبات سے پسپا نہیں ہونگے۔ 01:45 بجے ـ ـ عوام کے دوسرے بڑے مظاہرے اور ریلی کی تیاری بحرینی مظاہرین اور دھرنا والوں نے کل روز جمعہ اس ملک کی تاریخی ریلی اور مظاہرے کے لئے تیاری کررہے ہیں۔ بحرین کے بزرگ علماء «آیت‏اللہ شیخ عیسی قاسم»، «آیت‏اللہ سید عبداللہ الغریفی»، «سید جواد الوداعی»، «شیخ محمد سند»، «شیخ عبدالحسین الستری» و «شیخ محمد صالح الربیعی»، پر مشتمل مجمع نے ایک بیان جاری کرکے جمعہ کو "قومی سوگ" کا دن قرار دیا ہے اور لوگوں کو دعوت دی ہے کہ یوم سوگ پر عظیم اور تاریخی ریلی اور مظاہرے میں شرکت کریں۔ 02:30 بجے ـ ـ دیکھنا یہ ہے مذاکرات سے حکومت کا مقصد کیا ہے؟ بحرین کے علمائے مجلس کے سربراہ «سید مجید مشعل» نے زور دے کر کہا: بحرینی عوام اپنے اعتراضات و احتجاجات میں پر عزم ہیں اور احتجاج کا یہ سلسلہ تمام مطالبات کی منظوری تک جاری رہے گا۔ انھوں نے حکومت کی مذاکرات کے بارے میں کہا: ہم دیکھتے ہیں کہ ان مذاکرات کا مقصد کیا ہے؟ اگر مذاکرات معترض عوام کے مطالبات کی منظوری پر منتج ہوں تو بہت اچھے اور مثبت ہیں لیکن اگر مذاکرات کا مقصد عوامی احتجاج کو بے اثر کرنا ہو تو ہمارے نزدیک ایسے مذاکرات نامنظور ہیں۔ 03:12 بجے ـ ـ شیعہ ـ اختلاف نا منظورلبنانی شہر صیدا میں اہل سنت والجماعت کی "مسجد القدس" کے امام جماعت "شیخ ماہر الحمود" نے بحرینی عوام کے انقلاب کی حمایت کرتے ہوئے کہا: بحرین میں برسراقتدار خاندان کے بعض عناصر بحرین میں شیعہ اور سنی عوام کے درمیان فرقہ وارانہ فتنہ ڈالنا چاہتے ہیں لہذا بحرینی عوام کو اس خطرے سے ہوشیار ہونا چاہئے۔یاد رہے کہ بحرینی عوام کے احتجاجات کے نتیجے میں 308 سیاسی قیدی رہا ہوگئے ہیں جن میں کثیر تعداد میں سنی بھی شامل ہیں۔ 10:00 بجے ـ حزب الوفاق کا موقفجماعت وفاق اسلامی کے نمائندے «سید محمد سید مجید» نے کہا: عوام بدستور میدان اللؤلؤة میں موجود ہیں اور آئین، بادشاہی نظام کی تبدیلی کے خواہاں ہیں؛ وہ موجودہ بادشاہت (Monarchy) کو آئینی بادشاہت  (Constitutional Monarchy) میں تبدیل کرنا چاہتے ہیں۔انھوں نے تصدیق کی ہے کہ گذشتہ سال دہشت گردی اور حکومت کے خلاف بلؤوں کے الزام میں گرفتار ہونے والے تمام افراد رہا ہوگئے ہیں۔انھوں نے کہا: گذشتہ دنوں بحرینی حکام نے عوام کے خلاف عظیم جرائم کے مرتکب ہوئے ہیں لہذا ان پر مقدمہ چلنا چاہئے۔ انھوں نے ہمارے نوجوانوں کو قتل کیا اور ہم ان پر مقدمہ چلانے کے مطالبے پر اصرار کرتے ہیں۔ 12:00 بجے ـ ـ بحرینی جج بھی عوام سے جا ملےوکلاء، ڈاکٹروں، مزدوروں، پولیس افسروں اور اساتذہ کے عوامی احتجاج میں شامل ہونے کے بعد اب قانوندان، جج اور عدلیہ کے کارکنان بھی میدان اللؤلؤة میں جاری دھرنے میں شامل ہوئے ہیں اور انھوں نے عوام کے ساتھ یکجہتی کا اعلان کیا ہے۔ لگتا ہے کہ آل خلیفہ خاندان اور بیرون ملک سے آئے ہوئے مزدور اور جعلی شہریت یافتہ لوگوں کے سوا بحرین کی مقامی آبادی احتجاج میں شامل ہوگئی ہے۔ 14:00 بجے ـ ـ کہا جاتا ہے کہ بعض سرکاری عہدیدار ملک سے فرار ہوئے ہیںغیرمصدقہ اطلاعات کی مطابق بحرین کے کئی وزارتخانوں کے اعلی عہدیدار ملک چھوڑ کر فرار ہوگئے ہیں اور بہت بڑی مقدار میں قیمتی اشیاء اور نقد دولت ساتھ لے کر مجرموں کی پناہگاہوں ـ یعنی یورپی ممالک ـ میں پہنچ چکے ہیں۔ 15:17 بجے ـ ـ مذاکرات کی ایک شرط تمام قیدیوں کی رہائی«شیخ محمد حبیب المقداد» نے کہا کہ بحرینی حکومت کے ساتھ بات چیت کی پہلی شرط تمام سیاسی قیدیوں کی رہائی ہے۔............

/110