ابنا: بگڑتی ہوئی صورت حال کے باعث تارکین وطن لیبیا چھوڑنے کی ہرممکن کوشش کررہے ہیں۔
لیبیا کے صدر معمر قدافی کے اقتدار سے چمٹے رہنے اور مظاہرین پر کریک ڈاؤن کے خلاف پوری دنیا میں غم وغصہ پایا جاتا ہے تاہم کریک ڈاؤن کے باوجود مظاہروں کی شدت میں کمی نہیں آئی ہے۔
آرمی چیف کو ان کی رہائش گاہ پر نظربند کردیا گیاہے۔
وزیر انصاف اور وزیر داخلہ کے استعفے کے بعد اقوام متحدہ، عرب لیگ، برطانیہ، سویڈن، بھارت، انڈونیشیا، سنگاپور اور برونائی میں تعینات لیبیا کے سفیر بھی اپنے عہدوں سے مستعفی ہوگئے ہیں۔ لیبیا کی صورت حال کا جائزہ لیتے ہوئے اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل نے پرامن مظاہرین کے خلاف طاقت کے استعمال کی مذمت کی ہے۔
اقوام متحدہ میں لیبیا کے ڈپٹی سفیر ابراہیم دباشی نے ہلاکتوں کو نسل کشی کہا ہے۔
یورپی یونین کی خارجہ پالیسی چیف کیتھرین ایشٹن نے معمر قذافی اور مظاہرین کے درمیان بات چیت کو مسئلے کاحل قرار دیا ہے۔
بگڑتی ہوئی صورت حال کے باعث جرمنی، فرانس، مصر، تیونس، ترکی، اٹلی، امریکا اور چین نے اپنے باشندوں کو لیبیا سے نکالنا شروع کردیا۔
........
/110