ابنا: فوج ہر قیمت پر امن بحال کرے گی قذافی نے فوج کی قیادت خود سنبھال لی، خون کےآخری قطرے تک لڑیں گے: سیف الاسلام کرنل معمر قذافی کے بیٹے سیف الاسلام قذافی نے ملک میں جاری عوامی احتجاج کو ختم کرنے کے لیے ان سے سختی سے نمٹنے کی دھمکی دی ہے۔سرکاری ٹی وی پر نشر ایک بیان میں ان کا کہنا ہے "طرابلس میں منشیات فروشوں اور قانون ہاتھ میں لینے والوں کے خلاف جاری فوجی کارروائی کی کمان کرنل قذافی نے خود سنبھال لی ہے۔ ہم سب مسلح ہیں۔ خون کے آخری قطرے، آخری خاتون اور بچے تک لڑائی جاری رکھیں گے کیونکہ ہمیں اپنے ملک کو فسادی گروہوں اور دشمنوں سے ہر صورت میں بچانا ہے"۔سیف الاسلام نے کہا کہ فوج بخیریت ہے اور اور ملک میں امن وامان کی بحالی میں اس کا کلیدی کردار ہے۔ ملک میں برپا فتنہ و فساد پر قابو پانے کے کے لیے فوج اپنی خدمات جاری رکھے گی اور ہر قیمت پر ملک میں امن بحال کیا جائے گا۔ انہوں نے خبردار کیا کہ لیبیا میں فساد برپا کرنے والوں میں بڑٰی تعداد تیونس اور مصری شہریوں کے علاوہ دیگر عرب ملکوں کی بھی موجود ہے۔ یہ لوگ مسلح ہیں اور لیبیا کے امن کو تاراج کر رہے ہیں۔کرنل قذافی کے فرزند نے دھمکی آمیز لہجے میں صدر کا استعفی مانگنے والے مظاہرین سے کہا کہ وہ اپنے مطالبات مذاکرات کی میز پر رکھیں اور بات چیت کے ذریعے مسائل حل کریں بصورت دیگر ہم اسلحے سے انہیں کچل دیں گے۔ انہوں نے عوام سے پر امن رہنے کی اپیل کرتے ہوئے یقین دلایا کہ وہ جلد ملک میں اصلاحات لانے کا پروگرام بنا رہے ہیں۔انہوں نے کہا کہ وہ صحافت کو آزاد کریں گے۔ دستور میں مزید تبدیلیاں لائی جائیں گی۔ بلدیاتی انتخابات کا نظام بحال ہو گا۔ شہریوں کا معیار زندگی بلند کرنے کے لیے قرضوں کی واپسی میں ان کی مدد کی جائے گی اور نئے قومی پرچم اور قومی ترانے میں ترمیم کے مطالبات پر بھی غور کیا جائے گا۔لیبیائی صدر کے فرزند کا کہنا تھا کہ ملک میں جاری تازہ فسادات کا محرک ملک سے باہر ہے جو لیبیا کو جنوب اور شمالی میں تقسیم کرنا چاہتا ہے لیکن اپنے ملک کو متحد رکھیں گے۔ انہوں نے نام لے کر کہا کہ امریکا او ر یورپ لیبیا کو تیل کی دولت سے محرم کرنے کے لیے اس کی تیل کی دولت پر نظر رکھے ہوئے ہیں۔ لیبیا میں تیل کے ذخائر یورپ سے چند گھنٹوں کے فاصلے پر ہیں۔اس لیے وہ ملک کو تقسیم کرنے کی سازش میں ملوث ہیں۔سیف الاسلام کا کہنا تھا کہ لیبیا تیونس یا مصر نہیں۔ یہاں کے جغرافیائی اور معاشرتی حالات مختلف ہیں۔یہاں قبائلی نظام ہے اور ہر شخص مسلح ہے۔اگر آج لیبیا عدم استحکام کا شکار ہو جاتا ہے تو ملک میں بد ترین خانہ جنگی شروع ہو جائے گی جس میں لاکھوں لوگ مارے جا سکتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ لیبیا کو بن غازی اور طرابلس میں تقسیم کرنے کی سازش بہت پرانی ہے لیکن یہ سازش اس لیے کامیا ب نہیں ہو سکی کہ تیل کے بیشتر ذخائر ملک کے وسط میں واقع ہیں جو ملک کو متحد رکھے ہوئے ہیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ لیبیا کو چھوٹی چھوٹی اسلامی ریاستوں میں تبدیل کیے جانے کی کوئی گنجائش نہیں، ایسا ہوا تو پورا شمالی افریقا عدم استحکام کا شکار ہو گا۔سیف الاسلام نے فوج کے ساتھ جھڑپوں میں میڈیا پر بیان کردہ سولین کی ہلاکتوں کی تعداد کو مبالغہ آرائی پر مبنی قرار دیا۔ ان کا کہنا تھا کہ اب تک مظاہروں میں بیشتر ہلاکتیں حکومت مخالفین اور حامیوں کےدرمیان تصادم سے ہوئی ہیں ۔ فوج کو خواہ مخواہ بدنام کیا جا رہا ہے۔ طرابلس میں صرف 84 افراد اور البیضا ء شہر میں 14 شہری ہلاک ہوئے ہیں۔انہوں نے خبردا ر کیا کہ طاقت کے زور پر کرنل قذافی کی حکومت ختم کی گئی تو ملک بدترین بحران کا شکار ہو گا اور ساٹھ سال کی ترقی غارت جائے گی اور ملک ساٹھ سال پیچھے چلا جائے گا۔
........
/110