29 جنوری 2011 - 20:30

ایک یمنی ویب سائٹ نے ایک علامتی اور طنزیہ صحافتی ہنر کی جھلک دکھائی ہے جس میں یمنی آمر علی عبداللہ صالح خودسوزی کرکے اپنے "زیر تسلط قوم کی تبدیلی" کا مطالبہ کررہے ہیں۔

اہل البیت (ع) نیوز ایجنسی ـ ابنا ـ کی رپورٹ کے مطابق یمنی ویب سائٹ "صدی عدن" نے ایک علامتی، تنقیدی اور طنزیہ اقدام کرکے علی عبداللہ صالح کی خودسوزی سے متعلق تصویر شائع کی ہے جس میں علی عبداللہ صالح اپنی قوم کی طرف سے مسلسل آزادی کے مطالبات پر "احتجاج" کررہے ہیں اور اپنی قوم کی تبدیلی کا مطالبہ کررہے ہیں!!۔

(یہ طنز حقائق سے بہت قریب ہے کیونکہ دنیا کی قومیں اپنے حکام کی تبدیلی کا مطالبہ کیا کرتے ہیں لیکن عرب دنیا میں گویا حکمران قومی کی تبدیلی کا مطالبہ کررہے ہیں جو ان کا حق بھی ہے کیونکہ کئی عشروں سے خاموش رہ کر آمریتیں برداشت کرنے والی قومیں جب اپنے ابدی اور تا حیات حکمرانوں کی تبدیلی کا مطالبہ کریں گے تو یہ حکمرانوں کے لئے باعث حیرت تو ہے نا! اور اس طرح کا مطالبہ نا کریں تو کریں کیا؟)

اس تصویر میں واضح کیا گیا ہے کہ الجزیرہ نیوز چینل ان دنوں آمر حکمرانوں کے خلاف عرب اقوام کی تحریک کو بخوبی کوریج دے رہا ہے اور یہی چینل ایک بریکنگ نیوز کے طور پر اعلان کرتا ہے کہ "یمنی صدر نے آج صنعاء میں آزادی کا مطالبہ کرنے والی قوم کی تبدیلی کے مقصد سے خودسوزی کی ہے"۔ اس کے بعد فوٹو شاپ کے ذریعے بنی ہوئی تصویر دکھائی جاتی ہے جس کے ذیلی عنوان میں لکھا گیا ہے کہ "یمنی عوام آگاہ ہوگئے ہیں اور جانتے ہیں کہ گذشتہ 33 برسوں میں ان پر مظالم ڈھانے والا کون ہے"۔ واضح رہے کہ تیونس کا انقلاب علاقے کے آمر حکومتوں کے خلاف عوامی انقلابات کا پیش خیمہ ثابت ہوا ہے جہاں انقلاب کا آغاز ایک تیونسی نوجوان نے بے روزگاری کے خلاف خودسوزی سے ہوا تھا۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔

/110