ابنا: اطلاعات کے مطابق امریکہ کی طرف سے ریمنڈ ڈیوس کو سفارتی استثنی حاصل ہونے کے دعوے کے بارے میں کہا کہ جنیوا کنونشن کے تحت صرف اس سفارتکار کو استثنی حاصل ہوتا ہے جو سرکاری ڈیوٹی پر ہوتا ہے۔لاہور میں اپنے ایک بیان میں ڈپٹی پراسکیوٹر جنرل نے بتایا کہ ریمنڈ ڈیوس سفارتکارنہيں یہ وزٹ ویزے پر پاکستان میں تھا بنابریں اس کو استثناء نہيں دیا جاسکتا ۔یاد رہے گذشتہ جمعرات کو لاہور کے مصروف علاقے مزنگ چنگی میں امریکی شہری ریمنڈ ڈيوس نے پاکستانی شہریوں پر بلا اشتعال فائرنگ کرکے دو افراد کو قتل کردیااور بھاگتے ہوۓ ایک اور شخص کو اپنی گاڑی سے کچل دیا، جس کے بعد اسے گرفتار کرلیا گیا ۔امریکہ پاکستان پر دباؤ ڈال رہا ہے کہ اس امریکی شہری کو سفارتی تحفظ حاصل ہے اس لئے اسے رہا کردیا جائے ۔پاکستان میں محتلف سیاسی اور مذہبی جماعتوں نے اس امریکی شہری کو اقدام کے جرم میں سزادئے جانے کا مطالبہ کیا ہے ۔واضح رہے کہ امریکہ نے ایک پاکستانی خاتون عافیہ صدیقی کو ارادہ قتل کی بناپر 86 سال قید کی سزا سنائی ہے اور اپنے ایک شھری ریمنڈ ڈیوس کے ہاتھوں تین پاکستانیوں کے قتل کے اقدام کے باوجود اس کی گرفتاری کو غیر قانونی قرار دے اس کی رہائی کا مطالبہ کرہا ہے ۔
۔۔۔۔۔۔
الطاف حسین کا امریکہ سے ایک سوال متحدہ قومی موومنٹ پاکستان کے قائد الطاف حسین نے اپنے ایک بیان میں کہا ہے کہ امریکی حکومت کی جانب سے ریمنڈ ڈیوس کی فوری رہائی کا جو مطالبہ کیا ہے اس کا بہتر قانونی اور آئینی جواب تو حکومت پاکستان کا دفتر خارجہ ہی دے سکتا ہے لیکن ایک پاکستانی شہری ہونے کے ناتے حکومت امریکہ سے ایک سوال پوچھنا چاہتا ہوں کہ حکومت امریکہ کا ڈاکٹر عافیہ صدیقی کی فوری رہائی کے بارے میں کیا موقف ہے؟واضح رہے کہ لاہور میں ایک امریکی شھری نے جسے سفارتکار قرار دیا جارہا ہےفائرنگ کرکے دو پاکستانی شہریوں کوقتل کردیا تھا۔ بتایا جاتا ہے کہ اس امریکی شھری کے رہائی کے لئے حکومت امریکہ نے اسلام آباد پر اپنا دباؤ بڑھا دیاہے جسے فی الوقت پاکستانی گورنمنٹ نے مسترد کردیا ہے ۔پاکستان کے عوام اور کئی سیاست دانوں نے ریمنڈ ڈیوس کے مسلئے پر حکومت پاکستان اور عدلیہ سے انصاف کے تقاضے پورے کرنے کا مطابلہ کیا ہے۔
۔۔۔۔۔۔۔۔
/110
- مصری انتفاضہ تصویروں کے زبانی - 1