29 جنوری 2011 - 20:30

30 برسوں سے امریکہ، صہیونی ریاست اور مغربی ممالک کی بے لوث خدمت کرنے والے مصری آمر عوامی مظاہروں کے بعد امریکہ اور یورپی یونین اور برطانیہ کی بے رخی کا شکار ہیں اور ان سب نے ان کا ساتھ چھوڑ دینے کا فیصلہ کیا ہے۔

ابنا: اطلاعات کے مطابق امریکہ نے مصری امداد روکنے کی دھمکی دیدی، برطانیہ نے مبارک سے جمہوری اصلاحات کامطالبہ کیا اور کرفیو کے سبب یورپی ممالک نے مصر کیلئے پروازیں منسوخ کردیں۔وائٹ ہاؤس کے ترجمان رابرٹ گبز نے کہاہے کہ مصر کو دی جانیوالی ڈیڑھ ارب ڈالر کی امداد کاجائزہ لیاجائیگا۔مصری صدر حسنی مبارک کا اب امریکہ ، اسراغیل اور برطانیہ کے لئے کوئي مصرف نہیں رہا لہذا امریکہ اپنی دیرینہ پالیسی کے مطابق اپنے حامی رہنماؤں کا ایسے موقع پر ساتھ چھوڑ کر نئی پالیسی اور جدید رہنما تلاش کرنے کی کوشش کرتا ہے۔ مصری صدر کا خاتمہ عنقریب ہے مصری صدر کی مسلمانوں اور مصریوں کے خلاف سازش اور غزہ کے محاصرے میں اسرائیل کی وسیع پیمانے پر مدد ، کیمپ ڈیڈ معاہدہ کی پاسداری جیسے اقدام حسنی مبارک کی پیشانی پر ہمیشہ بدنما داغ رہیں گے بعض عرب ممالک کے رہنما آج بھی امریکہ اور اسرائیل کے حامی ہیں جن میں اردن، یمن ، سعودی عرب شامل ہیں۔ مصری صدرحسنی مبارک کا سرانجام بہت برا سرانجام ہے اور امریکہ نواز دیگر عرب رہنماؤں کا انجام بھی ایسا ہی ہوگا۔

دریں اثناء صہیونی سفارتکار مصر سے فرار ہوگئے ہیںاطلاعات کے مطابق مصر میں صدر حسنی مبارک کی حکومت کے خلاف عوامی شورش اور احتجاجی مظاہروں کے بعد اسرائیلی سفارتخانے کے عملے کے افراد مصر سے فرار کرگئے ہيں ۔

خبروں میں بتایا گیا ہے کہ قاہرہ میں صہیونی ریاست سفارتخانہ بند ہوگیا ہے اور اس کے عملے کے ارکان تل ابیب فرار کرگئے ہيں ۔

 قاہرہ میں اسرائیلی سفیر مصر میں موساد کے ایک نیٹ ورک کے پکڑے جانے کے بعد پہلے ہی مصر سے تل ابیب واپس جاچکا ہے ۔

۔۔۔۔۔۔

/110

- مصری انتفاضہ تصویروں کے زبانی - 1

- مصری انتفاضہ تصویروں کے زبانی - 2

- مصری انتفاضہ تصویروں کے زبانی - 3