23 جنوری 2011 - 20:30

تیونس کے معزول صدر کے ملک سے فرار ہونے کے ایک ہفتہ بعد لگتا ہے کہ عرب ممالک میں تبدیلی کا مطالبہ ایک نئے مرحلے میں داخل اور اصلاحات کا مطالبہ عوامی مطالبے میں تبدیل ہوچکا ہے۔

ابنا: اردن کے ہزاروں شہریوں نے کل نماز جمعہ کے بعد امان میں حکومت کی ناقص کارکردگی کے خلاف اس ملک کے مختلف شہروں میں احتجاجی مظاہرے کئے اور وزیر اعظم سمیر رفاعی کی برطرفی کا مطالبہ کیا۔ اردن کے دارالحکومت امان میں عوامی گروہوں کے علاوہ اسلام پسندوں سمیت حکومت مخالف سیاسی جماعتوں کے کارکنوں نے بھی حکومت کے خلاف نکالے جانے والے جلوسوں میں شرکت کی ۔ اردن میں مظاہرہ کرنے والوں نے اپنے ہاتھوں میں اپنے ملک اور اسلامی عمل محاذ کے پرچم اٹھا رکھے تھے اور انہوں نے اس مظاہرے میں سمیر رفاعی کی برطرفی اور قیمتوں میں فوری کمی کا مطالبہ کیا۔ اردن کے بارے میں منظر عام پر آنے والی رپورٹوں سے اس بات کی نشاندہی ہوتی ہے کہ دارالحکومت امان کے علاوہ دوسرے شہروں میں بھی اسی طرح کے مظاہرے کۓ گۓ ہیں۔ اس سلسلے میں کرک ، طفیلہ ، ذیبان ، مادبا اور اربد میں حالیہ دنوں میں حکومت مخالف عوامی احتجاجات کی خـبریں موصولہ ہوئي ہیں۔ کل اتوار کے دن بھی اردن بھر میں مہنگائی اور بے روزگاری کے خلاف جلوس نکالے جائيں گے۔ اردن کی اسلام پسند جماعتوں ، بائيں بازو کی پارٹیوں اور قومی سیاسی جماعتوں نے اردن کے عوام سے اپیل کی ہے کہ وہ ان جلوسوں میں شرکت کرکے ملک میں سیاسی اور اقتصادی اصلاحات کا مطالبہ کریں۔ یمن کی داخلی صورتحال بھی اردن سے ملتی جلتی ہے۔ بعض عرب ممالک کے سربراہ اس تشویش میں مبتلاء ہوچکے ہیں کہ کہیں ایسا نہ وہ کہ جو کچھ تیونس میں ہوا ہے ویسا کچھ ان کے ممالک میں بھی وقوع پذیر نہ ہو جاۓ۔ یمن میں باخبر ذرائع کا کہنا ہےکہ اس ملک کے صدر علی عبداللہ صالح صدارت کا عہدہ تاحیات اپنے پاس رکھنے سے دستبردار ہوچکے ہیں۔ یمن کے صدر علی عبداللہ صالح نے اپنے ملک کے سیاسی بحران کو حل کرنے کے لۓ پارلیمان میں لقاء مشترک نامی اپوزیشن دھڑے کو ایک نئي تجویز پیش کی ہے ۔ جس کی رو سے ان کے تاحیات صدر رہنے کی شق کو آئین سے نکال دیا جاۓ گا۔ کویت سے شائع ہونے والے اخبار الرای العام کے مطابق صدر علی عبداللہ صالح کی جانب سے اپوزیشن کے سربراہ کو ملنے والی تجویز آئین سے شق نمبر ایک سو بارہ نکالے جانے پر مشتمل ہے ۔ اس شق کے آئین سے نکلنے کی صورت میں اس ملک میں کوئي بھی فرد تاحیات صدارت کا عہدہ اپنے پاس نہیں رکھ سکے گا۔ مصر ، الجزائر ، موریطانیہ ، لیبیا ، اور بعض دوسرے عرب ممالک میں بھی عوام اپنی اپنی حکومتوں کے خلاف آواز بلند کررہے ہیں۔ اور بہت سے سیاسی مبصرین کا خیال ہے کہ بعض ڈکٹیٹر عرب سربراہوں کے لۓ خطرے کی گھنٹی بج چکی ہے اور تیونس کی عوامی تحریک دوسرے عرب ممالک کے عوام کے لۓ ایک مثالی حیثیت اختیار کر چکی ہے۔ اور ان ممالک کے عوام بھی تیونس کے عوام کی پیروی کرتے ہوۓ اپنے اپنے ملک کے روائتی نظام میں تبدیلی اور اصلاحات کے خواہاں ہیں۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔

/110