15 جنوری 2011 - 20:30

یمنی عوام نے تیونس کے آمر "زین العابدین بن علی" کے فرار پر جشن مناتے ہوئے خواہش ظاہر کی ہے کہ یمنی آمر علی عبداللہ صالح بھی ملک سے فرار ہونے پر مجبور ہوجائے۔

اہل البیت (ع) نیوز ایجنسی ـ ابنا ـ کی رپورٹ کے مطابق یمن کی مختلف جماعتوں اور گروپوں نے تیونس کے آمر زین العابدین بن علی کے فرار کا خیر مقدم کرتے ہوئے خواہش ظاہر کی ہے کہ ان کے ملک پر مسلط آمر علی عبداللہ صالح بھی جلد از جلد ملک چھوڑ کر فرار ہونے پر مجبور ہوجائے۔ عرب خواتین کی انسانی حقوق کی تنظیم "أمل پاشا" نے مغربی ذرائع ابلاغ سے بات چیت کرتے ہوئے کہا: "میری آرزو ہے کہ دوسرے عرب ممالک کے آمرین کو بھی جلد از جلد تیونس کے بھگوڑے آمر کی سی صورت حال کا سامنا کرنا پڑے"۔ انھوں نے فرانس سمیت مغربی ممالک سے مطالبہ کیا کہ تیونس کے معاملات میں مداخلت سے باز رہیں اور تیونس کے عوام کو خود اپنی قسمت کا فیصلہ کرنے دیں۔ دوسری طرف سے یمنی ذرائع ابلاغ نے رپورٹ دی ہے کہ یمن کی بعض سیاسی اور ثقافتی شخصیات نے تجویز دی ہے کہ یمن میں بھی تیونس کے منصوبے پر عمل درآمد کا راستہ ہموار کیا جائے۔یمن کی با اثر سیاسی اور سماجی شخصیات نے تجویز دی ہے کہ یمنی عوام بھی تیونس کے عوام کی طرح کئی ہفتوں تک یمن کی آمریت کے خلاف سڑکوں پر حاضر رہیں تاکہ یمنی آمر بھی ملک چھوڑنے پر مجبور ہوجائے۔ادھر یمنی دانشوروں اور سیاستدانوں نے یمنی آمر کے خلاف "الیکٹرانک تحریک" کا آغاز کیا ہے اور سماجی نیٹ ورکس اور ویب لاگز اور ویب سائٹس پر تیونسی آمر کے خلاف عوامی انتفاضہ شروع کرنے والے نوجوان کی خودسوزی کی تصاویر لگا کر یمنی نوجوانوں کو دارالحکومت "صنعاء" کی سڑکوں پر آنے کی دعوت دے رہے ہیں تا کہ یمن کی ظالم آمریت یمن سے اپنا تسلط ختم کرکے یہ ملک چھوڑنے پر مجبور ہوجائے۔ واضح رہے کہ علی عبداللہ صالح 33 برسوں سے یمن پر مسلط ہے۔یمنی روزنامہ نویس "سامیہ الأغبری" نے اپنی ویب لاگ میں لکھا ہے: تیونس کے عوام نے انقلاب کرکے ہمیں بھی یہ سبق سکھا دیا کہ تمام کے تمام آمر اور مستبدّ حکمرانوں کو آخر کار بھاگنا ہی پڑے گا اور ہم بھی یمن کی طاغوتی حکومت کے ظالم سربراہ کو عنقریب بھگا کر تیونسی آمر کے پاس بھیج دیں گے۔ دریں اثناء تیونس کے سابق آمر زین العابدین علی نے ملک سے فرار ہوتے ہوئے فرانس کی طرف سے پناہ نہ دیئے جانے پر سعودی عرب میں پناہ لی ہے۔یادرہے کہ مشرقی دنیا کے تمام باغی یا لٹیرے اور بھگوڑے آمر یورپ اور امریکہ میں قیام پذیر ہیں اور حالیہ چند برسوں کے دوران سعودی عرب نے بھی وہی کردار اپنانا شروع کیا ہے اور مسلم ممالک کے بھاگے ہوئے سابق حکام کو سعودی عرب میں بڑی آسانی سے پناہ ملتی ہے جبکہ سعودی بادشاہ عبداللہ بن عبدالعزیز کے ساتھ یمنی آمر علی عبداللہ صالح الاحمر کے دوستانہ تعلقات اس قدر گہرے ہیں کہ عبداللہ نے 2009 میں صالح کے کہنے پر یمن کی شیعہ آبادی پر حملہ کیا جو تقریبا چھ مہینوں تک جاری رہا اور سعودیوں نے ہزاروں راکٹ اور میزائل اور بم یمنی عوام پر برسائے جن میں ممنوعہ ہتھیار اور اسرائیلی ساختہ فاسفورس بم بھی شامل تھے۔

........

/110